Daily Mashriq

ایک اور بے وقت احتجاج

ایک اور بے وقت احتجاج

ایسے وقت میں جب سیاسی جماعتیں 2018ء کے عام انتخابات میں حصہ لینے کی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی بجلی کی بندش کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال نہ صرف امن و امان کی صورتحال اور نگران حکومت کے لئے مشکلات کا باعث ہوگا بلکہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی توجہ انتخاب جیتنے اور انتخابی مہم چلانے سے ہٹا کر احتجاج کی راہ پر ڈالنا پی ٹی آئی قیادت کی ایک اور بڑی غلطی ہوگی۔ تحریک انصاف کی قیادت پر بڑا اعتراض ہی یہ کیاجاتا ہے کہ اس کی قیادت سوچ سمجھ کر برد باری اور متانت سے فیصلے نہیں کرتی اور نقصان اٹھاتی ہے۔ وطن عزیز میں بجلی کی کم پیداوار اور لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافے کی سیاسی سے زیادہ تکنیکی وجوہات ہیں کسی ایک حکومت اور قیادت پر اس کی ذمہ داری ڈالنے کی کوئی کوشش اس بناء پر دو دھاری تلوار کے مصداق ہوگا کہ خود تحریک انصاف سستی آبی بجلی کے سب سے زیادہ مواقع رکھنے والے صوبے کی پانچ سال حکمران جماعت رہ چکی ہے اور ساڑھے تین سو چھوٹے ڈیم تعمیر کرنے کے وعدے کی عدم تکمیل اس کے کھاتے میں بھی درج ہے۔ بہرحال یہاں کسی حکومت اور جماعت کی کارکردگی کا جائزہ مقصود نہیں اس موقع پر سیاسی جماعتوں کو اس امر کا احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ خود انہی کے مفاد میں ہے کہ وہ سیاسی معاملات پر توجہ دیں شدید گرمی اور رمضان المبارک میں کارکنوں کو احتجاج کی کال دے کرایک مشکل امتحان سے گزارنا کوئی برد باری نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ ہے۔ خیبر پختونخوا کو اگر بجلی دی بھی جاتی ہے تو ٹرانسمشن لائن اس قابل نہیں کہ بجلی صارفین تک پہنچائی جاسکے۔ علاوہ ازیں بھی بلوں کی عدم ادائیگی جیسے معاملات و مسائل ہیں جن پر غورکرنے اور حل کرنے کی طرف توجہ کی ضرورت تھی اور ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں احتجاج مسئلے کاحل نہیں بلکہ مسئلے میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ مسئلے کا حل یہ ہے کہ یکسوئی کے ساتھ حالات خراب کئے بغیر انتخابات لڑے جائیں اور کامیابی کی صورت میں اس بحران سے قوم کو نجات دلانے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں۔

آمروقت کا اظہار بے بسی

آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر وسابق جنرل (ر) پرویز مشرف نے سپریم کورٹ سے گرفتار نہ کرنے کی ضمانت دینے پر مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دبئی میں خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی پاکستان جانے کا فیصلہ نہیں کیا ، پاکستان جانا بھی چاہیں تو ان کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کو گرفتار نہ کرنے کی ضمانت دی جائے جو ظاہر ہے ممکن نہیں۔اپنے دور کے آمر اور فوجی حکمران کا یہ بیان ان کی ذہنی خستہ حالی اور حقیقت حال کی نشاندہی کے لئے کافی ہے۔ ان کو شاید اس امر کااحساس ہوچکا ہے کہ اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔ عدالت سے انہوں نے جو توقعات وابستہ کر رکھی ہیں بلکہ جو پیغام انہوں نے دیا ہے وہ ممکن نہیں علاوہ ازیں بھی ملک میں اب حالات ایسے نہیں رہے کہ ان کی کسی اور جانب سے دست گیری ممکن ہو۔ بہتر ہوگا کہ موصوف آکر خود کو عدالت کے رحم و کرم پرچھوڑ دیں۔ اس کے باوجود کہ پرویز مشرف کو این اے ون چترال میں کافی حمایت حاصل ہے جہاں سے انہوں نے کاغذات نامزدگی بھی جمع کروائے ہیں مگر لگتا یہ ہے کہ ان کی اس خواہش کے پورے ہونے میں بہت سی قانونی اور دیگر رکاوٹیں ہوںجن کی موجودگی میں ان کی واپسی اور انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی امکان نہیں اور وہ اگر ان کو واقعی ان کی خواہش کے مطابق وطن واپس آکر انتخابات میں حصہ لینے کا موقع مل جائے تو ان کو کامیابی بھی مل سکتی ہے لیکن انہوں نے ماضی میں جو بویا آج دیار غیر میں وطن سے دور اسے کاٹ رہے ہیں اور بھگت رہے ہیں۔ آمران وقت کا ا نجام کبھی اچھا نہیں ہواکرتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پرویز مشرف کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟۔

متعلقہ خبریں