Daily Mashriq

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی امید بر نہیں آتی

گزشتہ روز کر اچی میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کا لا باغ ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریماکس دئیے کہ انہو ں نے گزشتہ روز پرویز مشرف کو آنے کا کہا تو اس کا بھی سب کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ پر ویز مشرف سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے ، اس سے قبل پر ویز مشرف کے بارے میں چیف جسٹس نے حکم دیاتھا کہ وہ پا کستان آنا چاہتے ہیں الیکشن لڑنا چاہتے ہیں توآئیں ان کو گرفتار نہیںکیا جا ئے مگر ان کی آمد عدالت میں پیشی سے مشرو ط ہے۔ اس اجازت نا مے پر مسلم لیگ ن کے رہنما ء اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا ایک ردعمل آیاتھا ، اس کے علا وہ کسی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں ہو ا تھا ۔ یہ درست ہے کہ پر ویز مشرف کی پا کستان آمد سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے قوم تو منتظر ہے کہ وہ جم جم پاکستان آئیں اور پو ری تام جھام کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیں۔اگر قوم مشرف کے کرتوتو ں کے باوجود انہیں اپنا نجات دہندہ ما نتی ہے تو کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے ۔ پرویز مشرف بنیا دی طور پر اپنے کر تو توں کی بنا ء پر عدالتو ں کا سامنا کر نے کی بجا ئے پاکستان سے ازخود فرا رہیں ۔ ان کے بارے میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا تھا کہ پر ویز مشرف ان کے ہمر اہ راو لپنڈی کے راجہ با زار چلیں پھر دیکھتے ہیں کہ عوام کس کے کپڑ ے پھاڑ تے ہیں ، یوں تو مشر ف دعویٰ گیر ہیںکہ وہ کما نڈو ہیں مگر ان کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ ڈاکٹر صاحب کا چیلنج قبول کر لیتے بلکہ وہ پا کستان سے ہی نکل لئے۔ اب کہتے ہیں کہ ان کو تما م مقدما ت میں ضما نت دی جا ئے تاکہ وہ الیکشن میں حصہ کھلے دل سے لیں ، تاہم ان سب کے باوجو د یہ بات باعث حیر ت ہے کہ وہ کس منہ سے پاکستان آئیں گے اور انتخابات میں حصہ لیں گے۔ انہو ں نے کونسی شفا ف اور دیا نت دارانہ زند گی گزاری ہے جب کہ ان کا جر م کھلی کتا ب کی طرح مصفا ء اور عیا ں ہے کہ انہو ں نے اپنی نو کر ی پر سے بر خاستی پر پاکستان کے آئین کی دھجیا ں بکھیر تے ہو ئے ایک آئینی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا پھر حق نہ ہو تے ہوئے بھی دس سال مطلق العنا ن حکمر ان بنے رہے ، پاکستانیو ں کے سر وںکا امریکا سے سودا کر کے رقم اینٹھی اور دوسرے جرائم بھی عیا ں ہیں ۔قوم پوری طرح آگا ہ ہے ، اس کے باوجو د شرم ساری نہیں ہے بہرحال عام انتخابات کا مو سم ہے ، ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اگرچاہے وہ عام انتخابات میں حصہ لے یہ حق اسی وقت ساقط ہو سکتا ہے جب تک عائد الزامات پر وہ مجر م قر ار نہیں پا تا ، میاں نوا ز شریف کا لے قوانین لغت کی شرح بسیط میں صادق اور امین نہ ہو نے کا جرم دار قرا ر پا چکے ہیں چنا نچہ ان کو تنقید کر نے سے گریز کرنا چاہیے۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں رواں انتخابات کی فضا ء کا فی بدلی بدلی ہو ئی سی ہے ، زبردست معرکہ ارئی کے لیے کیل کا نٹے دار ہو رہے ہیں مگر تما م بڑی پارٹیوں کو ٹکٹو ں کی بندر بانٹ میں مشکلا ت کا سامنا ہے ۔ان میں بھی سب سے زیا دہ ردعمل پی ٹی آئی میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ پی ٹی آئی کے دیر ینہ کارکن سب سے زیا دہ بھرے اور کھڑے ہیں ، ویسے بھی ٹکٹوںکی تقسیم میںپا رٹی کا ابھر م ہو ا ہے بری طرح پی ٹی آئی کے دیر ینہ اور نظریا تی کا رکن نظر اندا ز ہوئے ہیں۔ ایک تبصرہ نگار کا تو کہنا ہے کہ عمر ان خان نے پارٹی کا انتخابی منشور پیش کر تے ہو ئے فرمایا تھا کہ وہ پاکستان کو مدینہ شہر بنا دیں گے جس کا آغاز انہو ں نے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم سے کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اب تک ایک سو تہتر ٹکٹ قومی اسمبلی کے لیے جا ری کیے ہیں جس میں سے ایک سو اڑتالیس ٹکٹ دوسری جما عتو ں سے آنے والے پنا ہ گزینو ں کو عطا کیے گئے ہیں ، اور پی ٹی آئی میں صرف پچیس ٹکٹ کی سخاوت کی ہے ۔ چیئر مین پی ٹی آئی اور اس کے لیڈروں کی جا نب سے یہ ایک عظیم قر بانی قرا ر پاتی ہے۔ چنا نچہ پنا ہ گزین سیا ست دان اس حسن سلوک کے مستحق ہیںآخر وہ اپنی چار چا ر سال پر انی پارٹیوں کو چھو ڑ نے کی قر بانی دے کر آئے ہیں چاہے یہ پنا ہ انہوں نے خود لی ہے یا ان کو کسی خلا ئی مخلو ق کی جا نب سے دلو ائی گئی ہے اپنا بھرا پھرا استھا ن چھو ڑ کر آئے ہیں ، پھر یہ کہ دوسری جما عتو ں کو یہ دشواری نہیںہے کیوں کہ ا س مر تبہ عام انتخابات دوسری نوعیت کے ہیں گو کہ پی پی کو بھی معمولی جھٹکوں سے دوچار ہو نا پڑا بلکہ تحریک انصاف اپنا پر چم تقریبات میںلہر انا چھو ڑ دے تو پی پی اور پی ٹی آئی میں تمیز ہی نہیں رہتا اور اگر لہرا بھی دیا جا ئے تو بھی یہ احساس اجا گر ہو تا ہے کہ پی ٹی آئی کے پھریرے تلے پی پی کا پروگر ام جا ری سا ری ہے ویسے بھی دونو ں جما عتو ں کے پھریر وں میں کوئی خاص فر ق نہیں ہے جو سیا ہی پی پی کے جھنڈے میں ہے وہ پی ٹی آئی کے جھنڈے میں نہیں ہے صرف سیا ہ رنگ کی کمی ہے ۔ لگتا یہ ہی ہے کہ انتخابات عین قریب ہیں سالو ں پہلے جو منصوبہ بندی ہوئی اس پر عمل بھی جاری ہے۔ پہلے کہہ دیا تھا کہ اس مر تبہ پی ٹی آئی کے سندھ کی شہر ی علا قو ں سے قومی اسمبلی کی نشستیں لے دی جا ئیں گی تاکہ پنجا ب سے کمی کو پورا کیا جا سکے اور پی ٹی آئی کو گنتی پو ری کر نا کٹھن محسو س نہ ہو چنا نچہ سندھ میں کوئی سیاسی جدوجہد کے فقدان کے بغیر بھی عمر ان خان کر اچی سے الیکشن لڑ رہے ہیں ، جس کی ان کو بڑی آس ہے ۔ اس کے با وجودآصف زر داری بہت مطمئن ہیں ، ان کی زبان کو جو جو سکو ن حاصل ہے وہ عام دنو ں میں بھی دیکھنے میں نہیں آیا وہ پی ٹی آئی کی جانب سے سندھ میں قدم رکھنے سے قطعی گھبرائے نظر نہیں آرہے ہیں کیو ں کہ وہ جا نتے ہیںکہ آخر بادشا ہ گر وہی ہیں انہو ں نے عمر ان خان کو اپنی بادشاہ گردی بلو چستان میںمسلم لیگ ن کی حکومت کو پلٹ کر اور سینٹ کے چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین کے انتخابات کے مو قع پر عملا ًثابت کر دی ہے، چنا نچہ انتخابات کے بعد حکومت سازی میں وہی گرو قرار پائیں گے۔ کا فی امید رکھتے ہیں۔ البتہ بیچاری ایم کیو ایم قومی اسمبلی کی نشستو ں میں گھٹا کھا جانے کا امکا ن رکھتی ہے ۔

متعلقہ خبریں