Daily Mashriq

ہم جھکاتے نہیں ہیں جبیں ، معذرت!

ہم جھکاتے نہیں ہیں جبیں ، معذرت!

سیاست ویسے تو منافقت کا دوسرا نام ہے اور منافقت میں بنیادی کردار ڈرامے بازی کا ہوتا ہے ۔ ہمارے ہاں بھی سیاسی معاملات اسی طرح چلتے رہتے ہیں ، تاہم گزشتہ روز جو تماشہ پاکستانی عوام نے بعض ٹی وی چینلز پر لائیو کوریج میں دیکھا اس کو اگر اس بے چارے دیہاتی کے الفاظ میں واضح کیا جائے تو بات سمجھ میں آجاتی ہے جس نے شہر سے واپس آنے والے اپنے ہی گائوں کے ایک ساتھی کوشہر میں لگنے والے میلے کی تعریف کرتے اور وہاں رنگ برنگ تماشوں کی تفصیل بتاتے سناتو اس نے بھی اگلے روز شہر جا کر زندگی میں پہلی بار ان کھیل تماشوں سے لطف اندوز ہونے کا فیصلہ کیا۔لیکن میلے میں جا کر وہاں اس کا کمبل چوری ہوگیا۔ جب واپس گائوں آیا ۔یاردوست پوچھنے آئے کہ میلے میںکیا دیکھا ، تو مایوسی اور غصے کے ملے جلے جذبات سے مغلوب جواب دیا ، چھوڑیں یار ، میلہ ویلہ کیا تھا ، یہ تومیرے کمبل چوروں کا ایک بہانہ تھا ۔ بقول اختر سعیدی

کردیا بے نقاب چہروں کو

آئینہ کتنا برگزیدہ تھا

جس تماشے کی جانب اوپر کی سطور میں اشارہ کیا جا چکا ہے وہ لیگ (ن) کی جانب سے انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے سجایا جانے والا وہ ’’میلہ ‘‘ تھا جس میں لیگ کے صدراور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو بھی بورڈ کے سامنے پیش ہو کر اپنی حکومت کی کارکردگی کی تفصیل بتانے پر ’’مجبور‘‘ ہو نا پڑا ۔ جبکہ اطلاعات کے مطابق مریم نواز کو بھی ٹکٹ جاری ہونے سے پہلے بورڈ کو اپنی کارکردگی کے حوالے سے مطمئن کرنا پڑا ۔ جس پر سابق وزیر داخلہ اورلیگ کے ایک اہم اور سینئررہنما چوہدری نثارعلی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ جاتی امر والوں کو کہتا ہوں کہ ڈراموں اور بچگانہ حرکتوں سے نہ اپنا مذاق اڑائیں اور نہ ہی میری تضحیک کریں ۔ لیگ (ن) کے ٹکٹ کا امیدوار ہوں نہ ہی اس کا محتاج ، جلد ہی کھل کر اظہار کروں گا ۔اس ساری صورتحال پر پروین شاکر کے الفاظ ہی میں تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ، دراصل اب یہ بات تو کوئی راز نہیں ہے کہ ڈان لیکس کے معاملے پر بڑے میاں اور چوہدری نثار کے مابین اختلافات (مزید) شدید ہو گئے تھے جو دراصل چھوٹے موٹے اختلافات کی شکل میں پہلے ہی سے موجود تھے تاہم چوہدری نثارعلی خان نے پھر بھی ہر موقع پر کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی پر خلوص رائے پارٹی قیادت کے سامنے رکھنے میں کبھی تردد نہیں کیا مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے ذرا سی مخالفانہ آواز یں یا مشورے سننے کی تاب حکمرانوں میں نہیں رہتی ۔ اور انہیں چاپلوسی اور خوشامد پسندی میں لپٹی ہوئی آوازیں ہی بہت بھاتی ہیں ۔ سو اختلافات کی خلیج کا ابھرنا ایک فطری امر ہوتا ہے ، اور ہوا بھی یہی ، جن لوگوں کا چوہدری نثار کی سوچ سے اختلاف تھا کچھ انہوں نے بھی جلتی پر تیل چھڑکنے میں کوئی کمی نہیں کی اور بڑے میاں کے کان اس قدر بھرد یئے گئے کہ صورتحال اب اس نہج پر آکر دریا کے دوکناروں میں ڈھل چکی ہے اورمیرے اپنے ہی ایک شعر کے مطابق

المیہ یہی ہے دریا کا

دوکناروں میں بھی سفر تنہا

اس لیے میاںنواز شریف سانپ بھی مر جائے اورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے چوہدری نثار سے جان چھڑانے کیلئے ڈرامے بازی پر اتر آئے ہیں ، یعنی اگر چوہدری نثار ٹکٹ کیلئے درخواست نہیں دیتے اور پھر بورڈ کے سامنے انٹر ویو کیلئے پیش ہونے سے بھی احتراز کرتے ہیں تو انہیں ٹکٹ نہ دینے کا بہانہ ہاتھ آجائے گا ۔ اور وہ آسانی سے کہہ سکیں گے کہ جب ان کے اپنے بھائی شہباز شریف نے بورڈ کے سامنے پیش ہوکر اپنی کارکردگی بتائی تو چوہدری نثار کو کیوں اعتراض ہے ، جبکہ چوہدری نثار کی منطق سمجھ میں آنے والی ہے کہ کسی جماعت کی سینئر قیادت کو کب یوں انتخابی بورڈ کے سامنے پیش ہو کر اپنی کار کردگی بتانی پڑتی ہے ۔یو ں یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ گزشتہ روز جومیلہ سجا کر سینئر قیادت کو بھی کارکردگی سے بورڈ ممبران کو مطمئن کرنے کی ڈرامہ بازی پر مجبور کیا گیا دراصل یہ سب چوہدری نثار علی خان کے ’’کمبل ‘‘ چرانے کی خاطر تھا ۔ بد قسمتی سے میاں نواز شریف انا پرستی کے مارے ہوئے ہیں ،جب مشرف نے انہیں اقتدار سے محروم کر کے ملک سے باہر بھیج دیا تھا اور ان کے اس دور کے انتہائی قریبی ساتھی بھی دبائو میں آکر مشرف سے مل گئے تھے تو انہوں نے یقینا سختیاں جھیلیں تاہم انہیں ملک میں پیچھے رہ جانے والے اپنے ان ساتھیوں کی ’’مجبوری ‘‘ کا ادراک نہ ہو سکا جنہیں نہ جانے کیا کیا مجبوریا ں تھیں اور وہ کتنے دبائو میں آکر مشرف کے ساتھ ملے تھے ، اس لئے جب میاں نواز شریف واپس آئے تو باوجود اس کے کہ اس وقت شیخ رشید نے 2013ء کے انتخابات کے دوران بار بار بیان دیا تھا کہ ان کی جیت میاں نواز شریف کی نذر کی جائے گی ۔ یوں شیخ رشید واپس لیگ (ن) میں جانے کے شدید خواہشمند تھے لیکن وہی میاں صاحب کی انا پرستی آڑے آئی اور انہوں نے نہ صرف چوہدری شجاعت حسین ، چوہدری پرویز الٰہی بلکہ شیخ رشید کو بھی خود سے دور رکھا ، حالانکہ بہت سے دوسرے لوٹوں کو واپس قبول کر لیا تھا جو آج پھر بکھرتے نظر آتے ہیں ، اس صورتحال نے شیخ رشید کو انتقام پر آمادہ کردیا اور آج اس کا نتیجہ میاں نواز شریف بھگت رہا ہے ۔ جبکہ میاں نواز شریف اب ایک بار پھر وہی غلطی چوہدری نثار علی خان جیسے مخلص ساتھی کے حوالے سے دوہرا رہے ہیں اور میاں صاحب انہیں ’’اگلنے کو تیار ہیں نہ نگلنے کو ‘‘۔ جبکہ چوہدری نثار کی کیفیت یہ ہے کہ بقول ڈاکٹر افتخار مغل

ہم اناز اد کی تربیت اور ہے

ہم جھکاتے نہیں ہیں جبیں ، معذرت !

متعلقہ خبریں