Daily Mashriq

کیا گل کھلے گادیکھئے ہے فصل گل تودور۔۔۔

کیا گل کھلے گادیکھئے ہے فصل گل تودور۔۔۔

کیا گل کھلے گا دیکھئے ہے فصل گل تودور

اور سوئے دشت بھاگتے ہیں کچھ ابھی سے ہم

مومن خان مومن کو خدا جانے ہمارے حالات کیسے معلوم تھے کہ انہوں نے پونے د و سو برس پہلے ہی ہمارے جذبات کی ترجمانی کرڈالی تھی۔یوں تو مومن خان مومن علم نجوم اور منطق کے بڑے ماہر تھے۔ ہوسکتا ہے کہ اسی منطق کے علم کے زور پر وہ ایسا کرگزرے ہوں۔کہتے ہیں دیوانوںکی دیوانگی موسم بہار میں بڑھ جاتی ہے۔اس کی وجہ کسی ماہر نفسیات سے ہی پوچھی جاسکتی ہے یا پھر اگر کوئی دیوانہ رضا کارانہ طور پر ہماری رہنمائی فرمادے تو الگ بات۔ کہاجاتاہے کہ دیوانے کوسب لوگ دیوانے لگتے ہیں،اور ایسا اس لیے ہے کہ جنوں کی کیفیت میں بھی بندے کی انا ختم نہیں ہوتی۔جب بندے کی انا ہے اور اس کی سیلف موجودہے تو پھر خود کوپاگل دیوانہ یا مجنوں تسلیم کرناکیونکر ممکن ہوسکتا ہے۔کمال کی بات یہ ہے کہ بندے کی انا ہی اسے فرزانگی سے دیوانگی کے مقام تک پہنچاتی ہے۔ اب اس تضاد کی صورت میں یہی ہوسکتا ہے کہ بندہ کچھ دنوں کے لیے ڈیپوٹیشن پر دیوانہ ہوجائے تاکہ اس بات کی تفہیم ہوجائے کہ دیوانوں کا جنوں کیوں بہار کی شدت کو برداشت نہیں کرپاتا۔ حالانکہ ڈیپوٹیشن کا مسئلہ ہمارے ہاں بڑاپیچیدہ ہے ۔ا س کے لیے آپ کا شہزادہ ہونا بہت ضروری ہے یا پھر ارسطو جتنی قابلیت تو ہونی ہی چاہیے۔ہم نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ واقعی مذکورہ اعلیٰ کوالی فیکشن پر پورے اور کھرے اترے ہیں ۔ انٹرمیڈیٹ بورڈوں ،نئی کھلنے والی یونیورسٹیوںمختلف پراجیکٹس وغیرہ وغیرہ پرانہی شہزادوںاور اعلیٰ اذہان کوہی ڈی پیوٹ کیا جاتا ہے۔ خیر یہ تو مقطع میں سخن گسترانہ بات آگئی تھی ورنہ موضوع بحث تو بہاراور اس کے بدلے میںآنے والی دیوانگی ہے۔دیوانگی ایک کیفیت کا نام ہے ۔اور فصل گل کا اس سے بہت گہرا تعلق ہے۔سیاست کے فرزانے بھی آج کل اسی کیفیت کا شکار ہیں۔ کیونکہ ’’روشن کہیں بہار کے مکاںہوئے تو ہیں‘‘والی صورتحال تو بہرحال موجودہے۔جو’’صد موسم گل ہم کو تہ وبال ہی گزرے۔مقدور نہ دیکھا کبھی بے بال وپری کا‘‘کی کیفیت کا شکار رہے ہیں وہ اپنے بال وپر کوجھٹک کر پرکھ رہے ہیں کہ مبادا لمبی اڑان کا موقع مل ہی گیا تو چمنستان میں زمزمہ سنجی مزے تولوٹے جاسکیں۔جیسا ایک دفعہ ایم ایم اے کے ساتھ ہوگیا تھاایسی معجزوں کے خواب تو ہر سیاسی فرزانہ دیکھتا ہے۔تبھی تو اب کے بھی پورے زور و شور سے ایک بار پھر کہیں کی مٹی کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا کے مصداق دو الگ سمتوں میں بہنے والی قوتوں کو اتحاد و اتفاق یاد آگیا ۔نئی فصل کی آبیار ی جو مقصود تھی دیکھئے کیا گل کھلتا ہے اور بوائی تو ہوچکی کٹائی کیسی ہوتی ہے ۔ فصل گل کی خواہش بھی عجیب ہوتی ہے کہ پرندے باغوں کا رخ کرتے ہیں ۔ سیاسی پارٹیاں بھی باغ نما ہی ہیں کہ اقتدار کی ہوالگ گئی تو سارے پنچھی پرپرزے نکال سکتے ہیں ۔سو الیکشن سے پہلے ہی دیگر پارٹیوں کے خوش گفتار اور خوش آواز پکھیرو اپنی اپنی پارٹیاں چھوڑ کرپی ٹی آئی کی شاخوں پر آبیٹھے ہیں۔ اشارہ ہے کہ بہار اگلے پانچ برسوں میں یہی بسیرا کرے گی۔ جبکہ اس ڈھول کا پو ل تو اسی وقت کھل گیا ہے جب ٹکٹوں کے اجراء کی تفصیل جاری کی گئی ہے ۔ جنہیں نہیں ملا خوب واویلا ہے ان کا ۔ نظریاتی اور پیراشوٹ ورکروں کی شوں شوں تو فیس بک پر خوب دکھائی دیتی ہے ۔ عام تاثر یہی لیا جارہا ہے کہ بہار کو اپنی اپنی گلی میں لانے کے لیے اصل مقابلہ پی ٹی آئی اور نون لیگ کے درمیان ہے لیکن پیپلز پارٹی اس سارے کھیل میں سرپرائز ضرور دے گی کیونکہ اس پارٹی میں سنجیدگی موجود ہے ۔پی پی پی کی خوبی یہ ہے اندر کی کم ہی باتیں میڈیا تک پہنچتی ہیں جبکہ بنی گالا تو ایک چوراہا ہے جہاں کوئی بھی جا کر بات نکال لاسکتا ہے ۔ پی ٹی آئی کو جتنا بھی نقصان پہنچ سکتا ہے یا پہنچے گا وہ بنی گالا سے ہی ممکن ہے ۔ کیونکہ اس فارم ہاؤس کو بیک وقت گھر اور دفتر دونوں کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔سیاست میں ادب کی طرح کی ایک شرط موجود ہے کہ کیاکہنا ہے اتنا اہم نہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ کیا نہیں کہنا۔پی ٹی آئی میں کیا نہیں کہنا کی کوئی پابندی نہیں کی جاتی جس پر اس پارٹی کو غور کرنا ہوگا ۔کیونکہ اس پارٹی کا ہرورکر اپنے تئیں اس پارٹی کا ترجمان ہے اور جو دل میں آئے کہہ گزرتا ہے ۔ ایک مزے کی بات یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی ورکر نے ذہنی طور پر یہ بھی قبول کرلیا ہے کہ بس الیکشن تو ہم جیت گئے ہیں ۔جبکہ الیکشن ایک بہت ہی مختلف فنامینا ہے ۔ اس کے اپنے اپنے ٹولز ہیں اپنے اپنے انداز ہیں ۔اس کے اپنے اپنے گرو ہوتے ہیں جنہیں وہ وہ گتکے آتے ہیں کہ عام بندہ سوچ بھی نہیں سکتا ۔پی ٹی آئی نے بھلے سے اپنے قریبی حریف میاں نواز شریف اور ان کی فیملی کو ٹف ٹائم دیا ہے لیکن نون لیگ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ جس کا بہت بڑا ووٹ بنک ہے ۔جبکہ قیادت بھی اس وقت نون لیگ کی ایک بہت زیرک سیاستدان شہباز شریف کے پاس ہے ۔سو اقتدارکی بہار کواپنی پارٹی تک لانے کے لیے پی ٹی آئی ورکروں نے بہت کام کرنا ہے ۔ بہرحال سوشل میڈیا پر الیکشن کا کھیل تماشہ نہ صرف شروع ہوچکا ہے بلکہ زوروشور پر ہے ۔ سوشل میڈیا ضرور الیکشن کے لیے ذہن سازی کرے گا مگر بہرحال امیدوار کی اپنی شخصیت بھی اہم ہوگی اگلے الیکشن میںاور پارٹی کارکردگی کو بھی دیکھا جائے گا ۔بہرحال ہماری دعا ہے کہ بہار وقت پر ہی آئے ۔

متعلقہ خبریں