Daily Mashriq


این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے لیے 32 کھرب روپے مختص

این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے لیے 32 کھرب روپے مختص

اسلام آباد: قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبے 32 کھرب 50 ارب روپے ملیں گے جو گزشتہ برس کے 24 کھرب 50 ارب روپے سے 7 کھرب 90 ارب روپے سے زائد ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق ’وفاقی آمدنی وصولی میں سے 3 ہزار 255 ارب روپے ساتویں 'این ایف سی ایوارڈ' کے تحت صوبوں کو جائیں گے جو موجودہ سال کے 2 ہزار 465 ارب روپے کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے‘۔

چنانچہ قومی مالیاتی فنڈ کے تحت پنجاب کو 16 کھرب 10 ارب ملیں گے جو گزشتہ برس 12 کھرب سے 4 کھرب 10 ارب روپے زائد ہے۔

اسی طرح نئے مالی سال میں سندھ کو 8 کھرب 14 ارب 91 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ گزشتہ برس اسے 6 کھرب 16 ارب 26 کروڑ روپے ملے تھے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کو 2 کھرب 94 ارب 98 کروڑ روپے کے مقابلے میں 5 کھرب 33 ارب 26 کروڑ روپے جبکہ بلوچستان کو 2 کھرب 37 ارب روپے کے مقابلے اس سال 4 کھرب 4 ارب 3 کروڑ روپے ملیں گے۔

اس طرح 31کھرب 50 ارب روپے کے قابلِ تقسیم فنڈ کا این ایف سی ایوارڈ میں سب سے بڑا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ اس میں خدمات پر لاگو ہونے والے جنرل سیلز ٹیکس کو نکال کر 12 کھرب روپے کا جی ایس ٹی، 15 کھرب 7 ارب روپے کا انکم ٹیکس، 5 کھرب 68 ارب روپے کی کسٹم ڈیوٹیز اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج اور ایکسائیز ڈیوٹی کو نکال کر ایک کھرب 99 ارب روپے کا فیڈرل ایکسائیز، قدرتی گیس پر اور 2 ارب 23 کروڑ روپے کا کیپٹل ویلیو ٹیکس شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ایک کھرب 75 کروڑ روپے کی براہِ راست منتقلی میں قدرتی گیس پر 50 ارب 62 کروڑ روپے کی رائلٹیز، 24 ارب 17 کروڑ روپے کی خام تیل کی رائلٹی، قدرتی گیس پر 16 ارب 14 کروڑ روپے کی ایکسائیز ڈیوٹی اور 9 ارب روپے کا گیس ڈیولپمنٹ سرچارج میں شامل ہے۔

متعلقہ خبریں