Daily Mashriq

بلاامتیاز احتساب

بلاامتیاز احتساب

سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں ہیں، سابق صدر آصف علی زرداری بھی قید ہیں، پنجاب میں حزب اختلاف کے قائد حمزہ شہباز شریف کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سعد رفیق اور ان کے بھائی جو سابق صوبائی وزیر بھی ہیں سال بھر سے قید میں ہیں۔ حکومتی صفوں سے اس وقت کے سینئر صوبائی وزیر علیم خان کو نیب نے گرفتار تو کیا لیکن وہ جلد ضمانت پر رہا بھی ہوگئے۔ اس طرح حکومتی صفوں سے ایک ہی گرفتاری ہوئی، حکومتی صفوں سے مزید اراکین پر الزامات بھی ہیں اور چیئرمین نیب نے ان کیخلاف کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے اسلئے ان کی گرفتاری بھی عین متوقع ہے لیکن جب تک ان کی گرفتاری نہیں ہوتی حزب اختلاف کے پاس یہ موقع رہے گا کہ وہ اس پر اپنی تنقید کی توپوں کا رخ حکومت اور نیب دونوں کی طرف رکھیں۔ اگرچہ پلڑا برابر کرنے کیلئے گرفتاری قانون کی ضرورت اور تقاضا نہیں بلکہ یہ سیاست اور عوامی نقطہ نظر کا تقاضا ہیں لیکن اس بات سے بھی صرف نظر ممکن نہیں کہ جن الزامات کے تحت حزب اختلاف کے رہنماؤں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں انہی الزامات کے مماثل الزامات پر حکومتی اراکین کی گرفتاری میں نیب جیسے خودمختار ادارے کیلئے کیا امر مانع ہے۔ پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے یہ خیالات بھی توجہ طلب ہیں ان کا کہنا ہے کہ نیا پاکستان عوام کیلئے عذاب بن گیا ہے، چاہتے ہیں پارلیمان اپنی مدت پوری کرے لیکن لگتا ہے حکومت نہیں چاہتی کہ قومی اسمبلی چلے، اپوزیشن حکومت کا احتساب کرتی ہے، حکومت اپوزیشن کیخلاف جو کرتی ہے وہ سیاسی انتقام ہے، علیمہ خان کا احتساب کب ہوگا؟ انہیں اور جہانگیر ترین کو کلین چٹ دی گئی۔ حکومت نے اپنی نااہلیت چھپانے کیلئے پکڑ دھکڑ کے سلسلے کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی معاشی دہشتگردی کو چھپانا اور عوام کو گمراہ رکھنے کیلئے ایسے اقدامات کر رہی ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے وہ ہماری زبان بند کرسکتے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جو وعدے آپ نے کئے تھے اگر وہ پورے نہیں کئے اور عوام دشمن بجٹ لیکر آئے تو آپ دیکھیں گے احتجاج ہوتا کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں بلاامتیاز احتساب ہی کو عوام کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ انصاف کا تقاضا بھی ہے حکومتی اور نیب کا دعویٰ بھی ہے اور اصولی طور پر ایسا ہی ہونا چاہئے۔ نیب کے سربراہ اور متعلقہ حکام کی ادارہ جاتی خودمختاری کو آئینی تحفظ حاصل ہے تو آئین کی چھتری تلے آئینی اور قانونی تقاضوں پر پوری طرح عملدرآمد کی بھی ان سے توقع رکھنا فطری امر ہے۔ اس ضمن میں حکومت اور نیب کا کمزور بیانیہ اور عمل حزب اختلاف کو اپنی صفائی دینے کے باعث اور احتساب کو سیاسی انتقام بتانے کی آسانی خود نیب کی ودیعت کردہ ہے۔ شہباز شریف کی وطن واپسی‘ حمزہ شہباز اور زرداری کی گرفتاری سے دونوں جماعتوں کے کارکنوں میں حکومت مخالف ردعمل بڑھتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے قائدین کو احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ قومی احتساب بیورو میں کیس تو وزیراعظم عمران خان سمیت کئی حکومتی شخصیات کیخلاف بھی ہیں لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں مشکلات میں گھری اپوزیشن جماعتیں پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی حکومت کیخلاف آل پارٹی کانفرنس بلا کر تحریک چلانے کے فیصلے پر قائم ہیں اور حالیہ گرفتاریوں کے بعد ان کوششوں کا مربوط اور سخت ہونا فطری امر ہوگا۔ حزب اختلاف کے اس بیانیہ کو تقویت مل رہی ہے کہ نادیدہ قوتیں پارلیمنٹ کے بعد عدلیہ اور اپوزیشن جماعتوں کو بھی کٹھ پتلی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک جانب ان گرفتاریوں سے دونوں جماعتوں کے کارکنوں میں حکومت مخالف ردعمل بڑھتا جا رہا ہے تو دوسری جانب جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ریفرنس کی وجہ سے وکلا برادری بھی حکومت کیخلاف 14جون کو تحریک کا اعلان کر چکی ہے جس میں اپوزیشن جماعتیں بھی ان کیساتھ ہوں گی۔ بجٹ کے موقع پر اس قسم کی گرفتاریاں اتفاق ہیں یا کسی صناع کی صناعی اس بارے تو کوئی رائے نہیں دی جاسکتی لیکن ان گرفتاریوں سے سیاسی فضا میں جو ارتعاش ہے اس کے اثرات دو بڑی جماعتوں کے مزید قریب آنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان جماعتوں کا بجٹ پر مشترکہ بیانیہ عوام کیلئے خاصی کشش کا باعث ہوگا جبکہ ان جماعتوں کے کارکنوں کا تحرک حکومت کیلئے مشکلات کا باعث بنیں گی۔ بجٹ کی منظوری ہو بھی گئی تو اس صورتحال میں کم ازکم سینیٹ میں حکومت کو یہ دو جماعتیں چاہیں بھی تو سپورٹ نہیں ملے گی اور نظام ٹھپ ہونے کا تاثر قائم ہوگا، اس کے بعد کیا ہوگا یہ سوچ ہی پریشان کن ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جن مقدمات کا اندراج تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں ہوا ہی نہیں اس کے سیاسی اثرات کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑ رہا ہے، اس صورتحال میں نیب کی جانب سے کسی اور بڑی گرفتاری کی صورت میں عوام کو بلاامتیاز احتساب کا باور کرانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں