Daily Mashriq


قوانین بناؤ عملدرآمد بھول جاؤ

قوانین بناؤ عملدرآمد بھول جاؤ

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے شادی ہالوں، سینما گھروں اور کلبوں کی تعمیر کیلئے کم ازکم اراضی 4کنال اور کار پارکنگ کیلئے اس کا60فیصد ایریا فراہم کرنا لازمی قرار دیدیا گیا تھا۔ ابتدائی مراکز صحت کیلئے کم ازکم اراضی ایک کنال، ہسپتال کیلئے4کنال، پرائمری سکول کیلئے2، مڈل کیلئے4، ہائی کیلئے8، ہائیرسیکنڈری کیلئے16، کالج کیلئے36، یونیورسٹی کیلئے 56کنال اراضی ہونا ضروری قرار دیا گیا تھا جبکہ پیٹرول پمپ کیلئے کم ازکم تین ہزار سکوائر فٹ اور سی این جی کیلئے دو ہزار دو سوپچاس سکوائر فٹ کا ایریا ہونا لازمی قرار دے دیا گیا تھا۔ اوپن ایریا کا نصف حصہ کار پارکنگ کیلئے مختص کرنا لازمی تھا۔ خیبر پختونخوا میں نئی عمارتوں کی تعمیر کیلئے منظور کئے گئے ضمنی قوانین میں مختلف عمارتوں کی اونچائی کا بھی تعین کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں مردوں اور خواتین کیلئے علیحدہ علیحدہ بیت الخلاء اور واش بیسن کے علاوہ جسمانی طور پر معذور افراد کیلئے واش رومز اور مناسب چوڑائی کا حامل راستہ بھی رکھنے کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ہسپتالوں میں حیاتیاتی فضلے، نامیاتی فضلے اور مضر فضلے کیلئے علیحدہ علیحدہ ایک ایک کوڑا دان ہر فلور پراور لان میں رکھنے اور اس کو تلف کرنے کا مناسب انتظام بھی کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی تھی۔ ہر عمارت میں پارکنگ کی بھی جگہ اور ضابطہ کار طے کر لیا گیا تھا۔ شہری تعمیرات اور سہولتوں بارے قوانین پہلے سے بھی موجود تھے لیکن ان پر کماحقہ عملدرآمد نہ ہونا مسائل اور مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ متعلقہ عملہ اور حکام کچھ تو گنجلک نوعیت کے سرکاری معاملات کے باعث اور زیادہ تر چشم پوشی‘ غفلت اور ملی بھگت کے باعث قوانین پر عملدرآمد میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے آئے ہیں جس کے باعث رفتہ رفتہ شہر کی ہیئت ہی تبدیل ہوتی گئی جس کے بعد ازاں اصلاح سعی بسیار کے باوجود ممکن نہیں ہو پایا۔ سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان قوانین پرعملدرآمد کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اصل بات قوانین کے نفاذ اور ان پر عملدرآمد ہے جو دل خوش کن اقدامات تجویز کئے گئے ہیںکاش کہ ان پر عملدرآمد کی بھی نوبت آتی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ قانون سازی اور قوانین کی تیاری کیساتھ ساتھ اس امر کو خاص طور یقینی بنانے کے اقدامات کرے کہ شہر میں کسی ضابطے اور کسی قانون کی خلاف ورزی نہ ہو پائے۔ کاغذات میں موجودگی کی حد تک قوانین کا نہ تو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی اس سے مسائل ومشکلات کا حل ممکن ہے۔

آتشزدگی کے پراسرار واقعات

ہمارے نمائندے کے مطابق پراسرار انداز میں بھڑکنے والی آگ کی وجہ سے محکمہ صحت کے ڈائریکٹوریٹ میں تمام پرانا ریکارڈ ودیگر سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے جبکہ تفصیلات اکٹھا کرنے پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کے مطابق آگ سے متاثر ہونیوالا ریکارڈ بے مقصد تھا سال2006میں کچرے میں ڈالا گیا تھا۔ دوسری طرف عوامی حلقوں نے کوہ کڑمار میں کوٹھا، ٹوپی، ھملٹ، کنڈ پارک،گلہ، دریائے سندھ اور دیگر علاقوں میں آگ لگنے کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سازش کے تحت سونامی بلین ٹری میں کرپشن چھپانے کیلئے آگ لگا کر ہزاروں درخت جلا دیئے گئے۔ ان حلقوں کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اکرم درانی اور سردارحسین بابک نے سونامی بلین ٹری میں ارپوں روپے کی کرپشن بے نقاب کی اور پارلیمانی کمیٹی نے جب سونامی بلین ٹری میں کرپشن کی تحقیقات شروع کی تو حکومت نے منظم سازش کے تحت تمام ثبوت مٹا دیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوہ کڑمار میں چھ روز تک آگ لگی رہی۔ آتشزدگی کے یہ دونوں واقعات اتفاقی اور حادثاتی تھے یا واقعی کسی منصوبہ بندی کے تحت لگائی گئی آگ تھی۔ اس طرح کے الزامات کی حقیقت اور عدم حقیقت معلوم کرنے کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کی پوری طرح تحقیقات کی جائے۔ جہاں تک محکمہ صحت کی وضاحت کا تعلق ہے اس سے اتفاق ممکن نہیں کیونکہ 2006ء کے گزرے تیرہ سال ہوچکے ہیں ان تیرہ سالوں میں تلف شدہ ریکارڈ کا باقی ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اسی محکمے میں ریکارڈ کی گمشدگی کے حوالے سے ہمارے نمائندے کی خبر پہلے شائع ہوچکی ہے جس کے تناظر میں حالیہ آتشزدگی اس ریکارڈ کے گم ہونے کا جواز نظر آتاہے۔ بلین سونامی ٹری کے شواہد چھپانے اور اس کی تحقیقات کو ناکام بنانے کا الزام بھی سنجیدہ ہے۔ صوبے میں ایسے بیشتر مقامات کی شنید ہے جہاں پودے لگائے بغیر عملہ ڈرامہ بازی سے حکام کو قائل کرنے کی کوشیں کر چکا ہے۔ سنگلاح پہاڑوں پر پتھروں پر چونا ڈال کر بلین سونامی ٹری کی شجرکاری کے دعوؤں کی حقیقت معلوم کرنے کیلئے حکام کو تحقیقات کرنے اور دھوکہ باز عناصر کو سزا دینے میں سنجیدگی کامظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر دو واقعات کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور داخل دفتر کئے جانے کی بجائے عوام کو اس سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حقائق سامنے آئیں۔

متعلقہ خبریں