Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

شیخ سعدیؒ کی تمام حکایات ہمارے لئے سبق آموز ہوتی ہیں جیسا کہ مذکورہ حکایت میں وہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک نیک سیرت نوجوان تحصیل علم کے لئے روم میں وارد ہوا۔ لوگ اس کے اعلیٰ اخلاق سے بے حد متاثر ہوئے اور اسے ایک مسجد میں عزت واحترام کیساتھ ٹھہرایا۔ ایک دن امام مسجد نے اس سے کہا کہ ’’مسجد سے خاک اور گرد جھاڑ دو۔ امام کی بات سن کر نوجوان مسجد سے باہر چلا گیا اور پھر واپس نہ آیا۔ امام مسجد اور دوسرے خدام مسجد نے سمجھا کہ نوجوان مسجد کی خدمت سے پہلو تہی کرتا ہے اس لئے غائب ہوگیا ہے۔ دوسرے دن مسجد کے ایک خادم نے اسے راستے میں پکڑ لیا اور کہا کہ ’’تم نے بہت بری حرکت کی ہے‘ اے متکبر نوجوان تجھے معلوم ہونا چاہئے کہ لوگ خدمت کی بدولت ہی کسی مرتبے پر پہنچتے ہیں‘‘۔ نوجوان اس کی باتیں سن کر رو دیا اور کہنے لگا کہ ’’اے میرے قابل احترام دوست حقیقت یہ ہے کہ میں نے مسجد میں مطلق خاک اور گرد نہیں دیکھی‘‘۔ اس لئے میں نے یہی سمجھا کہ میں اس پاک جگہ میں خاک آلود ہوں سو میں مسجد سے باہر آگیا تاکہ اللہ کا گھر خس وخاشاک سے پاک ہو جائے‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کی انکساری اور عجز ہی اس کی اصل سربلندی ہے۔

حضرت بہلول داناؒ کا شمار عقل مند مجنونوں میں ہوتا ہے۔ ایک دن حضرت سری سقطیؒ نے ان سے کہا: آپ شہر میں کیوں قیام نہیں کرتے؟ جواب دیا کہ میں ایسے لوگوں کے پاس رہتا ہوں کہ اگر ان کے پاس بیٹھتا ہوں تو مجھے تکلیف نہیں پہنچاتے اور اگر ان سے غائب ہوتا ہوں تو غیبت نہیں کرتے۔ حضرت ہارون الرشید ایک سال حج کو گئے تو کوفہ میں چند روز ٹھہرے۔ پھر وہاں سے کوچ کیا تو ان کی سواری شاہانہ شان سے حضرت بہلول مجنونؒ کے پاس سے گزری۔ حضرت بہلولؒ نے ہارون الرشید کو دیکھا تو آگے بڑھ کر کہا کہ اے امیرالمومنین! مجھ سے ایک حدیث سنتے جاؤ۔ حضرت عبداللہ عامر ؒ سے روایت ہے کہ ایک سال حضورﷺ حج کو تشریف لے گئے تو منیٰ میں آپﷺکی سواری اس صورت میںگزری کہ آپﷺ ایک اونٹ پر سوار تھے اور آپﷺ کے نیچے ایک سادہ سا کجاوہ تھا اور حضورﷺ کی یہ شاہی سواری بغیر کسی دنیوی دبدبہ کے گزری۔ یعنی اے ہارون الرشید! تم بھی بغیر کسی تکبر ودبدبہ کے انتہائی تواضح سے گزرو۔ ہارون الرشید یہ حدیث سن کر رونے لگا اورکہنے لگا کہ اے بہلول! کچھ اور نصیحت کرو۔ حضرت بہلولؒ بولے: اے امیرالمومنین ! جس شخص کو اللہ نے مال وجمال عطا فرمایا ہو اور وہ شخص مال میں سے فی سبیل اللہ خرچ کرے اور جمال میں عفت قائم رکھے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے مقبولوں میں شامل کر لیتا ہے۔ ہارون الرشید نے کہا: اے بہلول! اگر تم پر کسی کا قرض ہو تو بتاؤ میں ادا کردوں۔ حضرت بہلولؒ بولے: ْقرض قرض کیساتھ کیسے ادا ہوسکتا ہے۔ بہتر ہے کہ آپ کے نفس پر جو خدا کا قرض ہے اس کی ادائیگی کی فکر کیجئے۔ (روض الریاحین)

متعلقہ خبریں