Daily Mashriq

آصف علی زرداری کی گرفتاری

آصف علی زرداری کی گرفتاری

جناب آصف علی زرداری جعلی اکاؤنٹس کے مقدمہ میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت خارج کئے جانے اور عدالت کے ہی حکم پر گرفتار کر لئے گئے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی پھسپھسی تقریر اور بعد ازاں بلاول کو ایوان میں تقریر نہ کرنے دینے سے اگر کوئی کچھ سمجھنا چاہتا ہے تو گھوڑا اور میدان دونوں حاضر ہیں۔ آگے بڑھنے سے قبل مکرر عرض کئے دیتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) نواز اور شہباز کیمپوں میں بٹ کر رہے گی۔ البتہ اکثریت نواز شریف کے جانشین کے پاس ہوگی اور وہ مریم نواز کے سوا بھلا کون ہے۔ جناب شہباز شریف لندن میں ایک اہم ملاقات کے بعد وطن واپسی کیلئے آمادہ ہوئے۔ کیا موجودہ ماحول میں ایوان میں اکثریت نہ رکھنے والی حکومت بجٹ منظور کروا لے گی؟ چند دن صبر کیجئے آپ کو اس سوال کا جواب مل جائے گا۔ فی الوقت تو یہ ہے کہ آصف علی زرداری گرفتار کر لئے گئے۔ نیب نے ابھی ان کی ہمشیرہ محترمہ فریال تالپور کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ زرداری جس مقدمہ میں گرفتار ہوئے ہیں یہ 2016ء میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے حکم پر شروع ہوا۔ اس مقدمہ کا پس منظر اور چودھری نثار کا اس حوالے سے ایک اہم شخصیت کا پیغام اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو پہنچائے جانے کے حوالے سے ان سطور میں تفصیل عرض کرچکا۔ جعلی اکاؤنٹس کیس میں تیزی نگران دور میں آئی اور پھرتیاں تحریک انصاف کے دور میں شروع ہوئیں۔ نگران دور میں ہی عالمی اداروں نے پاکستانی حکومت کو کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ روکنے کیلئے موثر اقدامات کرنے کو کہا تھا۔ اصل کام کرنیکی بجائے سیاستدانوں کی منی لانڈرنگ کا معاملہ میڈیا پر لایا گیا۔ تحریک انصاف نے نگران دور کے ادھورے کام کو آگے بڑھایا، مطلب یہ کہ کالعدم تنظیموں کی جگہ سیاستدان۔ اس سلسلے کے بیچوں بیچ لگ بھگ 54ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس خیبر پختونخوا میں بھی سامنے آئے، دو دن خبریں چلیں چند سوال ہوئے اور پھر سارے کھوجی، سوال کرنے والے اور جانباز سندھ روانہ ہوگئے۔

کیا جناب زرداری کی گرفتاری کے بعد ہم یہ توقع باندھ لیں کہ خیبر پختونخوا کے جعلی اکاؤنٹس والے معاملے کی ازسرنو تحقیقات ہوگی؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ چلچلاتی دھوپ میں سر اور پاؤں گرمی سے بچا کر رکھنے کو ڈاکٹر اور حکیم کہتے ہیں اس لئے اس کچھ نہیں ہونے والا صبر کیجئے۔ البتہ اگلے دو ہفتوں کے دوران پنجاب میں جعلی اکاؤنٹس کی بہاریں لگنے والی ہیں۔ یہاں ایک سادہ سا سوال ہے‘ زرداری کی عبوری ضمانت 10جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے خارج کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم دیا مگر وزیراعظم کی مشیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان 9جون کو ضمانت کے اخراج اور گرفتاری کی کہانی سنا چکی تھیں۔ 24گھنٹے قبل انہیں فیصلے کا کیسے پتہ چل گیا تھا؟ مجھے نہیں امید کہ حکومت کے ذمہ داران جواب عطا کریں۔ مگر درون خانہ کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔ البتہ افسوس اس بات پر ہے کہ آزادی اظہار کے بلند وبانگ دعوے کرتا الیکٹرانک میڈیا پورا تو کیا آدھا سچ بولنے سے بھی گھبراتا ہے۔ کسی کو بات شعوری انداز میں سمجھنی ہو تو عید سے قبل ہوئی عدالتی سماعت کی کارروائی پڑھ لے اس مقدمہ کی۔ جس میں نیب کے وکیل نے کہا تھا معاملہ صرف تین کروڑ روپے کا ہے۔ 110ارب یا 76ارب سے شروع ہوئی کہانی کا 3کروڑ پر آکر رکنا حیرانی کا باعث تو ہے۔ زرداری نے کرپشن کی ہے تو قانون اور عدالتیں موجود ہیں۔ دو باتیں اہم ہیں‘ کیا ریاست کے اندر ویسی ہی دھڑے بندی ہے جیسی 2007ء میں تھی جب افتخار چودھری والی تحریک بحالی عدلیہ چلائی گئی تھی؟ طالب علم سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایک طرف وکیل 14جون کو احتجاج کا ڈول ڈالنے والے ہیں‘ بجٹ کی بھی آمد آمد ہے ان دو معاملات کی نزاکت کیا تیسرا محاذ کھولنے کی ترغیب دیتی ہے۔ آصف زرداری کیخلاف مقدمات پر پی پی پی کیا کہتی یاکرتی ہے اس کا معاملہ ہے مگر کیا پیپلز پارٹی یہ مقدمہ بنانے والی نون لیگ کیساتھ ملکر احتجاجی تحریک کی طرف جائے گی؟ فقط ایک بات ہوسکتی ہے وہ یہ کہ جناب نواز شریف نے ایک بار کہا تھا کہ چودھری نثار میرے پاس ایک شخصیت کا پیغام لیکر آئے تھے کہ ’’زرداری کیخلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں حکومت تعاون کرے‘‘ خیر چھوڑیں اصل سوال یہی ہے کہ کیا کالعدم تنظیموں اور سہولت کاروں کی منی لانڈرنگ کے معاملے کو زرداری کیس کی دھول میں چھپا لیا جائے گا؟ نصف جواب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں چین بین الاقوامی فورمز پر مالیاتی ایشوز پر اس طرح تعاون نہیں کرے گا۔ نہیں کرے گا تو کیا ہم عالمی فورمز پر یہ کہیں گے کہ زرداری اور نواز شریف کی منی لانڈرنگ کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ اور دوسرے مالیاتی معاملات سے زیادہ سنگین ہے؟

زرداری کی ضمانت خارج ہونے پر اور گرفتاری پر نوانصافیوں کی خوشی دیدنی ہے۔ انہیں خوش ہونا بھی چاہئے مگر کیا ان میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ وہ یہ سوال کر سکیں کہ خود تحریک انصاف کے جن لوگوں پر مقدمات ہیں وہ عہدوں سے مستعفی کیوں نہیں ہوتے اور یہ کہ احتساب کیلئے وزیراعظم کے ایک معاون شہزاد اکبر کے ماضی کے چند معاملات کیا اتنے سادہ ہیں کہ انہیں اس حساس اور اہم منصب پر بٹھا دیا جائے۔ پیپلز پارٹی یقینا اپنے سربراہ کے قانونی اور سیاسی دفاع کا حق استعمال کرے گی ایک درخواست اس سے بہرطور ہے کہ وہ اپنے چند جذباتی کارکنوں کو سمجھائے کہ یہ سندھ اور پنجاب کا معاملہ تھا نہ ہے۔ معاملہ تو فقط یہ ہے کہ کچھ ’’لوگ‘‘ ریاست اور نظام کو اپنی مرضی سے چلانے کے خواہش مند ہیں اور ان کی توپوں اور لے پالکوں کے دہنوں کا رخ صرف سیاستدانوں کی طرف رہتا ہے لیکن ہم اس امر کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتے کہ حزب اختلاف کی کوئی تحریک اس کے ایجنڈے پر کم اور حکومت کی غلطیوں پر زیادہ موثر انداز میں چلتی ہے۔

متعلقہ خبریں