Daily Mashriq


بھارت کا ’’حمید گل‘‘ اور پاکستان

بھارت کا ’’حمید گل‘‘ اور پاکستان

بھارت میں نریندر مودی اور پاکستان میں دہشتگردوں کی ساتھ ساتھ واپسی میں حیرت انگیز مطابقت ہے۔ بھارت اس وقت پاکستان کیخلاف اجیت دوول ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہے۔ اجیت دوول کو بھارت کا ’’جنرل حمید گل‘‘ کہا جا سکتا ہے جس طرح جنرل حمید گل مغفور ومرحوم بھارت کے بارے میں تاریخ، تجربے اور مشاہدے سے کشید کیا ہوا نقطۂ نظر اور ڈاکٹرائن رکھتے تھے اور اسے سیاسی اور فوجی اعتبار سے اپنانے پر اصرار کرتے تھے بالکل اسی طرح اجیت دوول پاکستان کے بارے میں ہندو مسلم تہذیبی کشمکش اور تاریخی رزم آرائیوں سے کشیدہ کردہ ایک مخصوص، متعصبانہ اور نفرت انگیز ’’پاکستان اور مسلم ویو‘‘ رکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جنرل حمید گل ایک بے اختیار فرد تھے جن کا سامع پاکستان کا ایک عام شہری اور نوجوان ہوا کرتا تھا اور اکثر اپنے معاشرے کے لبرلز کے ہاتھوں طنز واستہزا کا نشانہ بنتے تو کبھی کسی تحریک میں لاٹھیاں کھاتے سڑکوں پر رُلتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے جبکہ اجیت دووال صرف ایک نظریہ ہی نہیں رکھتے بلکہ اس کو عملی جامہ پہنانے کا مکمل اختیار اور وسائل بھی انہیں حاصل ہیں۔ وہ پاکستان میں قومیتوں، علاقوں اور ثقافتوں کے تضادات کو گہرا کرنے اور بتدریج اس خیمے میں سر داخل کرنے اور آخرکار اسے سر پر اُٹھا کر پاکستان پر حتمی وار کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کا ثبوت ان کی یوٹیوب پر دستیاب وہ تقریر ہے جس میں وہ پاکستان میں ناراض عناصر کو وسائل فراہم کرنے اور انہیں باقاعدہ عسکری قوت بنا کر ریاست سے لڑانے کی حکمت عملی بیان کر رہے ہیں۔ اس تقریر میں ان کی رگ رگ سے پاکستان دشمنی اور نفرت ٹپک رہی ہے۔ اس فکر وفلسفے کے حامل شخصیت انعام کے طور پر نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر ہیں۔ ان کا دفتر نریندر مودی کے بغلی کمرے میں ہے اور یوں وہ ان کی مشاورت اور خیالات سے ہمہ وقت مستفید ہوتے ہیں۔بھارت بدستور ’’اجیت دووال ڈاکٹرائن‘‘ پر عمل پیرا رہے گا۔ اس دوران پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کا دھماکہ اور اس کے نتیجے میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی شہادت بھارت کے مستقبل کے عزائم کا پتا دے رہا ہے۔ بارودی سرنگ کے اس دھماکے میں پاک فوج کے ایک کرنل سمیت تین افسر اور ایک جوان شہید ہوا۔ دوسرے روز اسی علاقے میں پاک فوج کے دو اور افسر شہید ہوئے۔ حالیہ چند دنوں میں شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے جوانوں کو تواتر کیساتھ نشانہ بنایا جا رہا ہے یہ وہی علاقہ ہے جہاں چند دن قبل پی ٹی ایم اور سیکورٹی فورسز میں خونیں تصادم ہوا تھا۔ پی ٹی ایم کا کچھ غصہ جائز اور فطری ہے۔ ایک مقامی شخص جب کسی باہر کے شخص کے ہاتھوں اپنے ہی گھر اور علاقے میں بار بار تلاشی کے عمل سے گزرتا ہے تو کبیدہ خاطر ہونا فطری ہوتا ہے۔شمالی وزیرستان کے ان لوگوں کے دکھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنہیں اپنے گاؤں جانے کیلئے کوہستان، میانوالی، مانسہرہ، جہلم، ساہیوال کے کسی جوان کے ہاتھوں بار بار جامہ تلاشی اور شناخت پریڈ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ عمل خود عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے ضروری ہے ایک شخص کا دماغ گھمانے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں فوج کی غیر معمولی اور طویل عرصے تک متحرک اور بیرکوں سے باہر رہنے سے یہ مسائل پیدا ہونا فطری ہیں اور شاید اسی لئے صاحبان نظر بہت پہلے اصرار کر رہے تھے کہ یا تو آپریشن سے بچ کر قبائلی علاقوں کے مسئلے کی کوئی راہ تلاش کی جائے یا پھر فوج سریع الحرکت آپریشن کرکے واپس لوٹ جائے۔ اس وقت فوجی آپریشن پر اصرار کرنے والے غیرملکی آج اس آپریشن کے ضرررساں اثرات سے فائدہ سمیٹنے میں پیش پیش ہیں۔ مسئلے کی اس نوعیت کی جائز جہتوں کے باوجود جس طرح پاک افغان سرحد پر لگنے والی باڑھ اور فوجی چوکیوں کو ختم کرنے کیخلاف مہم شروع کی گئی ہے اس کا منطقی نتیجہ اس حساس ترین علاقے میں کامیاب آپریشن اور قربانیوں سے حاصل کئے جانے ولے امن اور قائم کئے گئے سیکورٹی کے نظام کو ختم یا کمزور کرنا تھا۔ ایک مستقل جنگ زدہ اور سرخ دائرے کا شکار علاقے میں دفاع اور امن کے نظام کو کمزور کرنے کا مطلب دہشتگردوں کی بالواسطہ مدد ہی تھا۔ ظاہر ہے جہاں سیکورٹی کا نظام ڈھیلا ہوگا دہشتگردوں کو وہاں سے اندر داخل ہو کر راہ بنانے کا موقع ملے گا۔ڈیورنڈ لائن کے اس پار امریکہ، نیٹو، اسرائیل اور بھارت بیٹھے ہیں اور سب کا ہدف مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان ہے۔ امریکہ پاکستان پر طالبان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا غصہ اُتار رہا ہے تو اسرائیل کو تسلیم نہ کئے جانے اور فلسطینیوں کے ہاتھوں زچ ہونے کا دکھ ہے۔ بھارت کے دکھ اور غم تو لادوا اور لامحدود ہیں جو قیام پاکستان سے بھی پرانی تاریخ رکھتے ہیں مگر کشمیر میں ہونیوالی رسوائی کا زخم تازہ اور ہرا ہے۔ افغانستان کے حکمران ٹولے کے حسد اور جلن کی بنیادیں قیام پاکستان اور ڈیورنڈ لائن کے آس پاس تلاش کی جا سکتی ہیں اور اس طرح یہ سب غم اور دکھ پاکستان کیخلاف افغانستان کی سرزمین پر یکجا ہو گئے ہیں اور یوں پاکستان کی مغربی سرحد غیرمحفوظ ہو کر رہ گئی ہے۔ ریاست نے اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیکر تیز رفتار اقدامات نہ اُٹھائے تو عوام کی طویل، صبرآزما اور اعصاب شکن قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن ایک بار پھر داؤ پر لگ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں