Daily Mashriq


اب تو زنجیر ہلانے کا حوصلہ ہی نہیں

اب تو زنجیر ہلانے کا حوصلہ ہی نہیں

علامہ اقبالؒ دوستوں کی ایک ایسی محفل میں بیٹھے تھے جہاں ایک پیر صاحب بھی تشریف رکھتے تھے۔ اس دوران میں پیر صاحب کا ایک مفلوک الحال مرید بھی پوچھتے پوچھتے آپہنچا اور پیر صاحب سے درخواست کی کہ وہ مرید کے حق میں دعا فرمائے کہ اس کی جان 20روپے کے اس قرضے سے چھوٹ جائے جس کی ادائیگی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی (اس دور میں 20روپے آج کے ہزاروں کے برابر تھے)۔ غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے مرید یہ قرض ادا کرنے کے قابل نہیں تھا۔ پیر صاحب قبلہ نے دعا بھی فرمائی اور مرید کے سر پر پیرانہ شفقت کا ہاتھ بھی رکھا۔ مرید نے جاتے ہوئے دو روپے بطور نذرانہ پیر صاحب کی خدمت میں پیش کئے تو اس کے جانے کے بعد علامہ اقبالؒ نے پیر صاحب سے مخاطب کرتے ہوئے کہا! پیر صاحب اب تو آپ کو بیس روپے نہیں بلکہ 22 روپے قرض کیلئے دعا کرنی چاہئے کہ بے چارہ مرید مزید دو روپے کا مقروض ہوگیا ہے کیونکہ آپ کو نذرانے کے طور پر پیش کئے جانے والے یہ 2روپے بھی تو اس نے قرض اٹھا کر خود کو مزید زیربار کر لیا ہے۔ پیر صاحب نے مسکراتے ہوئے حضرت علامہ کو ’’شوخی‘‘ سے باز رہنے کو کہا تھا یا کچھ اور یہ اس واقعے کے راوی بخوبی جانتے ہیں۔ دراصل اس واقعے کو یاد کرنے کا سبب دنیا کے ایک بہت بڑے ’’پیر‘‘ کی جانب توجہ دلانی ہے جس کے پیرانہ شفقت سے مستفید ہونے کیلئے دنیا کی بیشتر اقوام بے چین وبے قرار رہتی ہیں جن میں سے ایک ہم بھی ہیں اور ہر سال نئے قرضوں کے حصول کیلئے اس سے رجوع پر مجبور ہوتے ہیں۔ میر تقی میر نے بہت پہلے ہمیں خبردار کیا تھا کہ

امیر زادوں سے دلی کے مت ملا کر میرؔ

کہ ہم غریب ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے

مگر ہم کہاں باز آنے والے‘ وہ جو سلسلہ ایسٹ انڈیا کمپنی سے چلا تھا اور انگریزوں نے ہمارے معاشرے میں ایسے طبقات پیدا کر دئیے تھے جو اپنے وطن کیساتھ غداری کے صلے میں جاگیروں کے مالک بن کر ہم پر مسلط کر دئیے گئے تھے ان کی اولادیں اب بھی اس ملک میں (elite) ایلیٹ کلاس کہلاتی ہے اور لگ بھگ آج بھی یہی طبقات ہم پر حکمران ہیں۔ ان میں نہ صرف انگریزوں کا ساتھ دینے والے جاگیردار ہیں بلکہ جہاں انگریز وطن پرست حریت پسندوں کو رام کرنے میں بالکل ہی ناکام ہو جاتا تھا تو وہاں وہ مذہب کا کارڈ استعمال کرکے اپنا الو سیدھا کر دیتا تھا اور یہ جو ملک کے مختلف حصوں میں پیری مریدی کا چکر چل رہا ہے یہ بھی اسی کا شاخسانہ ہے‘ کچھ تو واقعی حقیقی مذہبی اکابرین کی اولادیں ہیں‘ وہ جنہوں نے ساری زندگی صرف اللہ کی خوشنودی کو مطمح نظر رکھا اور کسی دنیاوی لالچ میں نہیں پڑے۔ تاہم بعض خاندانوں کے بارے میں تو اب کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں اور ان میں ’’ایمان فروشوں‘‘ کی داستانیں رقم کی گئی ہیں۔ انہوں نے اپنے بزرگوں کی قبروں کو کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر وائرل ہو چکی ہیں جن میں اس قسم کے مزارات کے متولیوں کے حجروں کے اندرونی مناظر میں نوٹوں کو گننے والوں کی ایک سرے سے دوسرے سرے تک قطاریں اور بیچ میں نوٹوں کے انبار دکھائی دے رہے ہیں مگر مریدین کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں اور وہ فرط جذبات میں پیروں کی قدم بوسی کے ہنگام انہیں سجدے تک کرتے نظر آتے ہیں اور وہ جو سیف الرحمن سلیم نے کہا تھا کہ

د وڑو وڑو خدایانو دے بندہ کڑم

لویہ خدایہ زہ بہ چا چا تہ سجدہ کڑم

اے خدایا! تو نے مجھے چھوٹے چھوٹے خداؤں کا بندہ بنا دیا ہے، تو اے میرے رب میں کس کس کے آگے سجدہ ریز ہوں گا‘ ایسٹ انڈیا کمپنی تو رہی نہیں‘ انگریزوں نے اس کے قبضہ کئے ہوئے علاقوں پر اپنی عملداری قائم کرکے بالآخر پورے برصغیر پر طویل حکمرانی کی اور ادھر عوام کیلئے چھوٹے چھوٹے خداؤں کو تخلیق کیا تو آزادی (آزادی؟) کے بعد ہمیں ایسے حالات میں جکڑ لیا کہ قومی سطح پر ایک اور ایسٹ انڈیا کمپنی یعنی آئی ایم ایف جیسے بڑے پیر کی مریدی پر ہم مجبور ہیں۔ ہم ہر سال اس پیر کے مرید کی طرح دو روپے قرض لیکر اس مہا پیر کے چرن چھوتے ہوئے اس کے قدموں میں پچھلے قرضوں کی سود کی صورت نچھاور کرتے ہوئے اسی پیر سے مزید قرضے لینے پر مجبور ہیں جس کے نتیجے میں ہم مسلسل ادائیگیوں کے باوجود گلو خلاصی حاصل نہیں کرسکتے۔ ٹیکسوں کی بھرماراور دیگر لاتعداد مسائل نے عوام کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے‘ مگر ہم ’’عالمی پیر‘‘ کے چرن چھونے پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں اور اقتصادی غلامی سے اب اس قدر مانوس ہوچکے ہیں کہ اپنے ہونے نہ ہونے کے احساس سے ہی عاری ہیں اور اگر ہمیں کوئی لاکھ پیغام دیتا رہے کہ

اپنے ہونے کا پتہ دیتے ہیں

ہم بھی زنجیر ہلا دیتے ہیں

ہم پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ زنجیر ہلانے کا تو ہم میں اب حوصلہ باقی ہے نہ ہمت ہوتی ہے‘ بس اپنا سب کچھ (تمام اہم اداروں کے اختیارات) عالمی پیر کے حوالے کرکے یہ سمجھ رہے ہیں کہ اب سب اچھا ہوجائے گا مگر اب تو سب کچھ ’’شیر‘‘ نے کرنا ہے ہم تو شیر کے پنجرے میں گر چکے ہیں۔

کبھی تو بیعت فروخت کردی

کبھی فصیلیں فروخت کردیں

مرے وکیلوں نے میرے ہونے کی

سب دلیلیں فروخت کر دیں

متعلقہ خبریں