Daily Mashriq


شعلوں بچا شہر تو شبنم سے جلا ہے

شعلوں بچا شہر تو شبنم سے جلا ہے

اگر آپ کو یاد ہو تو کبھی میں نے عرض کیا تھا کہ رب کریم ہمیں ہر صبح24اشرفیاں انعام کرتا ہے اور پھر یہ کام ہم پر چھوڑ دیتا ہے کہ ہم ان چوبیس اشرفیوں کو کس طرح خرچ کرتے ہیں۔ ان سے کتنا استفادہ حاصل کرتے ہیں اور ان میں سے کتنی اشرفیاں ضائع کر دیتے ہیں۔ یقینا یہ ہمارا امتحان ہوتا ہے اور اس امتحان میں وہی لوگ کامیاب قرار پاتے ہیں جو ان چوبیس اشرفیوں کو بے جا نہیں خرچتے یا ضائع نہیں کرتے۔ میں آپ کو یہ بھی عرض کرچکا ہوں کہ یہ چوبیس اشرفیاں جو ہر صبح ہمیں انعام میں ملتی ہیں وہ ہر نئے طلوع ہونے والے دن اور اس دن کے بعد آنے والی رات کے چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں جو آپ کی خوش بختی کا پیغام لیکر آتے ہیں اور آپ کے مقدر کے بند کواڑوں پر دستک دیتے ہوئے گزرتے رہتے ہیں۔ آپ کے وال کلاک، ٹائم پیس اور گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک ہی گزرتے وقت کی وہ دستک ہے جس کی آواز پر کان دھرنے والے اور ان کیساتھ چلنے کا عزم کرنے والے اس سے کچھ نہ کچھ حاصل کر لیتے ہیں اور جو لوگ گزرتے وقت کے قدموں کی چاپوں کو خاطر میں نہیں لاتے یا ان کی پرواہ نہیں کرتے وقت ان کی پرواہ نہیں کرتا اور یوں ہمیں ہر روز ملنے والی چوبیس اشرفیاں ہماری مٹھی سے ریت بن کر پھسلنے لگتی ہیں۔ دن اور رات کے گزر جانے کے بعد ہر روز عطا ہونے والی چوبیس اشرفیاں بھی گزر جاتی ہیں۔ لیکن دوسری صبح ایک بار پھر یہی اور اتنے ہی سکے ہماری جھولی میں ڈال دئیے جاتے ہیں۔ گویا ہر روز ہمیں زندہ رہنے کیلئے چوبیس گھنٹے دیکر ہمیں آزمایا جاتا ہے، ہمارا امتحان لیا جاتا ہے اور ہم میں سے وہی لوگ کامگار وبامراد ٹھہرتے ہیں جو ان چوبیس اشرفیوں یا چوبیس گھنٹوں کو ضائع نہیں کرتے اور اک لگے بندھے نظم وضبط کیساتھ ان کا یومیہ ھفتہ وار یا مہینے بھر کا یا سالہا سال کا بجٹ بنا کر نہایت سوچ سوچ کر یا پھونک پھونک کر قدم بڑھاتے اس صراط مستقیم پر چلتے ہیں جسے میں نے ابھی ابھی بجٹ کا نام دیا ہے۔ چوبیس اشرفیاں روزانہ کا یہ بجٹ نظام الاوقات یا ٹائم ٹیبل بھی کہلاتا ہے۔ آپ نماز پنجگانہ کے ٹائم ٹیبل سے تو واقف ہی ہوں گے۔ یقین کریں کائنات کا ذرہ ذرہ اک خاص نظام الاوقات کی پابندی کر رہا ہے اسلئے صرف چاند سورج ستارے اور سیارے ہی نہیں چھوٹے سے چھوٹے ذرے کے اندر موجود مالی کیولز ایٹم اور ایٹمز کے اندر موجود الیکٹرون تک بھی اپنے مداروں پر اک خاص نظام کی پابندی کرتے ہوئے محوگردش دوراں ہیں۔ جب کائنات کا ہر ذرہ اپنے نظام الاوقات یا قدرت کے ترتیب دئیے گئے بجٹ کی پابندی کر رہا تو ہم آپ جو اپنے آپ کو اشرف المخلوقات کہتے ہیں اس نظام الاوقات یا وقت صرف کرنے کے بجٹ کی پابندی کیوں نہیں کرتے۔ اپنے پاؤں چادر کے اندر رکھنے کی بجائے چادر سے نکال باہر کیوں کرتے ہیں جو لوگ روزانہ ملنے والی چوبیس اشرفیاں ضائع کرتے رہتے ہیں ان کا کنگال ہونا عجب نہیں ہوتا۔ کنگال لوگ زندہ رہنے کیلئے بھیک مانگتے ہیں یا ادھار سدھار لیکر زندگی کی گاڑی کو چلتا رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھیں ادھار یا قرض مانگنا بھیک مانگنے سے بھی بدتر کام ہے۔ بھیک دینے والا چند سکے مانگنے والے کے منہ پر مار کر یہ سوچنے لگتا ہے کہ اس کا اجر اللہ کی جانب سے ثواب کی صورت ملے گا لیکن قرض دینے والا تو قرض کی واپسی کی آس لگائے رہتا ہے اور وہ اس کے بدلے میں آپ کی زندگی کی ہر سانس کو اپنے نام کرلیتا ہے۔ وہ نہ آپ سے اپنے قرضہ کی ایک ایک پائی وصول کرتا ہے بلکہ سود درسود موصول کرکے شیطان مردود کو طاغوتی قہقہوں کا پورا پورا موقع فراہم کرکے مقروض کی ناموس اور اس کی عزت کو خاک میں ملاتا رہتا ہے۔ آہ! کہ آج ہمارے ملک کا بچہ بچہ غیرقوموں کا مقروض ہو چکا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہمارے رہنماؤں کا صراط مستقیم سے بھٹک جانا تھا ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے ملک میں امیروں، کبیروں، نوابوں اور جاگیرداروں کی کوئی کمی نہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے آباؤ اجداد گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک کو رحیل کارواں جان کر اس سمت میں رواں دواں رہے جس سمت کی ہوا تھی۔ اگر یہ لوگ اپنی پانچوں انگلیاں منہ میں نہ ٹھونستے تو شائد ہمارے پھول جیسے بچے کچرے کے ڈھیر سے رزق تلاش نہ کررہے ہوتے۔ مزدور اپنے بچوں کو دو گھونٹ پانی پلانے کی خاطر روزانہ ایک نیا کنواں کھودنے کی ناکام کوشش نہ کرتے۔ قدرت ہم کو ہر روز چوبیس اشرفیاں دیتی ہے لیکن پھر بھی ہمارے کھیتوں میں بھوک اُگتی ہے، ہم میں سے بیشتر لوگوں کو رہنے کو چھت اور پہننے کو کپڑا نہیں ملتا، اس کی وجہ وہ امر بیل ہے جو ہماری ہر فصل کا رس چوس لیتی ہے، ہمارے کان کن پہاڑوں کا سینہ چیر کر سونا نکالتے ہیں لیکن پھن پھیلائے ناگ اس پر قبضہ جمالیتے ہیں۔ ٹیکس چوری اور قوم کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی روش نے ملک اور قوم کو جتنا نقصان پہنچایا اس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے، پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ڈالنے والوں کو کیا ہاتھ آیا اس کا انجام ہم سب کے سامنے ہے۔ یہ دنیا آنی جانی ہے، گناہ گاروں کے گناہ خدا بخش دیتا ہے، لیکن وقت کبھی بھی معاف نہیں کرتا

روکے سے کہیں حادثہ وقت رکا ہے

شعلوں سے بچا شہر تو شبنم سے جلا ہے

متعلقہ خبریں