Daily Mashriq


ٹماٹرکا رس دل کو تندرست اور بلڈ پریشر قابو میں رکھے

ٹماٹرکا رس دل کو تندرست اور بلڈ پریشر قابو میں رکھے

وکیو: ٹماٹر کے متعلق ایک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ اپنے بہت سارے کیمیکل اور غذائی اجزا کی بدولت یہ دل کے لیے مفید ہے اور بلڈ پریشر بھی قابو رکھنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ٹماٹر کا رس پیا جائے تو اس کے بہتر فائدے برآمد ہوتے ہیں۔

پوری دنیا میں عام پایا جانے والا مرغوب پھل ٹماٹر خون میں مضرچکنائی کی مقدار کولیسٹرول کم رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوا ہے لیکن اس پھل پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ٹوکیو میڈیکل اینڈ ڈینٹل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس ضمن میں ایک اہم مطالعہ کیا ہے جو ٹماٹر جوس کی افادیت ظاہر کرتا ہے۔ اس مطالعے کی تفصیلات فوڈ اینڈ سائنس نیوٹریشن میں شائع ہوئی ہیں۔

ٹماٹر میں کیروٹیونوئڈ ، وٹامن اے، کیلشیئم اور گیما امائنوبیوٹرائسک ایسڈ کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے۔ یہ تمام اجزا قلب کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ دل کے مرض کی سب سے سادہ اور بڑی وجہ خون کی شریانوں کی تنگی، سختی اور ان کے اندر پلاک نامی سخت چربی نما اجزا کا جم جانا شامل ہے۔ اس سے خون کی رگیں سخت اور سکڑجاتی ہیں اور بہاؤ نہ ہونے کی وجہ سے دل کا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے۔

 اگرذیابیطس، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر قابو میں رکھا جائے تو قلبی بیماریوں سے بہت حد تک محفوظ رہا جاسکتا ہے اور خون کی شریانیں بھی تندرست رہتی ہیں۔ اس ضمن میں پہلی مرتبہ مختلف لوگوں پر ٹماٹر یا اس کے رس کے اثرات معلوم کئے گئے اور یہ تحقیق ایک سال تک جاری رہی۔

تجربے میں 184 مرد اور 297 خواتین کو ایک سال کے لیے بھرتی کیا گیا اور انہیں ایک سال تک روزانہ مرضی کے مطابق ٹماٹر جوس پینے کا کہا لیکن شرط یہ تھی کہ اس کی مقدار 215 ملی لیٹر سے کم نہ ہو جو ایک کپ سے کچھ کم ہوتی ہے۔ اس دوران سائنسدانوں نے تمام افراد کے خون میں گلوکوز، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی آزمائش بھی انجام دی ۔

شرکا کی فہرست میں 94 افراد یا تو بلڈ پریشر کے مریض تھے یا پھر اس کنارے جاپہنچے تھے اور ایک سال تک ٹماٹر جوس پینے کے بعد ان کا بلڈ پریشر 141 سے 131 تک ہوگیا جبکہ ڈائی اسٹالک بلڈپریشر اوسطاً 83 سے 80 رہ گیا۔ یعنی مریض بلڈ پریشر کے دوسرے درجے سے پہلے درجے پر آگئے۔ اس کے اثرات تمام عمر کے مردوزن پر یکساں دیکھے گئے۔

متعلقہ خبریں