Daily Mashriq


ووٹ خریدنے والوں سے مقابلہ آرائی کا اعلان

ووٹ خریدنے والوں سے مقابلہ آرائی کا اعلان

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں پیسے کے بل پر ووٹ حاصل کرنے یعنی ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگانے والے سیاستدانوں میں شامل ہو گئے ہیں لیکن ووٹ خریدنے والوں کے خلاف مقابلہ آزمائی کی گھن گرج کے ساتھ۔ تربیلہ کے پن بجلی کے توسیعی منصوبے کے چوتھے یونٹ کا افتتاح کرنے کے بعد انہوں نے صوابی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں جس قدر گندا کھیل کھیلا گیا اس کی مثال نہیں ملتی اور یہ کوئی قابلِ فخر بات نہیں ہے۔ انہوں نے اس صورت حال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کا مقابلہ کریں گے جنہوں نے ووٹ خرید کر سینیٹ کی نشستیں حاصل کی ہیں اور جمہوریت کی توہین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی مسلم لیگ ن پاکستان کی جمہوریت کو گندی سیاست سے پاک کر دے گی۔ وزیر اعظم نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس طرح ووٹ خرید کر سینیٹ کی نشستیں حاصل کرنے والوںکا مقابلہ کریں گے اور ان کی پارٹی پاکستان کی جمہوریت کو گندی سیاست سے پاک کرنے کے لیے کیا اقدامات کرے گی تاہم انہوں نے سوال ضرور اٹھایا کہ ایسے نام نہاد سینیٹرز جو نئے سینیٹ میں نمائندگی حاصل کریں گے کیا وہ اس ایوانِ بالا کے ارکان کہلانے کے حقیقی معنوں میں مستحق ہیں؟ انہوں نے سینیٹ کے رکن منتخب ہونے کے لیے جو کچھ کیا ہے کیا وہ دیانت ہے؟ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی واحد ایسے لیڈر نہیں ہیں جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میںووٹ خریدے گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن ‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت دیگر پارٹیاں بھی اس بات پرہم آواز ہیں کہ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں نشستیں حاصل کرنے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔حالیہ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا الزام ساری جماعتیں لگا رہی ہیں اور تحقیقات کے مطالبے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں ۔ ان کی پارٹی کے قائد میاں نواز شریف نے خود پچھلے دنوں کہا تھا کہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ چلنے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ان سے بھی پہلے تحریک انصاف کے چیئرمین کئی روز سے آواز اٹھا رہے تھے کہ سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ خریدے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خود اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی میں سے دس سے زیادہ ارکان کے بارے میں کہا ہے کہ انہوں نے لالچ میں آ کر ووٹ دیے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو کہا ہے کہ وہ ووٹ بیچنے والے ارکان کے بارے میں تحقیقات کریں۔ پرویز خٹک نے شنید ہے عمران خان کو ایسے مشتبہ ارکان کی فہرست دے دی ہے جنہوں نے ووٹ کا سودا کیا۔اور عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ثبوت ملنے پر ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ لیکن یہ ثبوت کیسے ملیں گے؟ سینیٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی خریداری کے الزامات عائد کرنے کے لیے کسی قدر کمزورسی شہادت تو پیش کی جا سکتی ہے جسے ثبوت کہہ دینا بادی النظر میں ممکن نہیں ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی عظمیٰ بخاری کی طرح یہ تو کہاجا سکتا ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد کم ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کے چوہدری محمد سرور کس طرح سینیٹ کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد نسبتاً نہایت قلیل ہونے کے باوجود وہاں سے پیپلز پارٹی کے ارکان کیسے سینیٹ کے ارکان منتخب ہو گئے؟ لیکن یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ ان منتخب سینیٹروں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے کسی کو معاوضہ دیا تھا۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے رکن اور خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ کے رکن کے سینیٹر منتخب ہو جانے کو او ردوسرے صوبوں میںایسے منتخب سینیٹرز کے انتخاب کو جن کی کامیابی پر حیرت کا اظہار کیاجار ہا ہے ووٹوں کی خرید وفروخت کی شہادت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور بغیر ثبوت کے الزام لگانا بجائے خود جرم تصور کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی منتخب سینیٹر پر الزام لگانے کے لیے کہ اس نے ووٹ خرید کر نشست حاصل کی ہے اس الزام کا ٹھوس ثبوت ہونا چاہیے۔ ووٹنگ چونکہ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوئی ہے اس لیے اس الزام کی تصدیق کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ تاآنکہ ووٹ خریدنے والا اور ووٹ بیچنے والا خود یہ اقرار کر لیں کہ انہوں نے یہ سودے بازی کی ہے، اس اقرار کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جب رائے دہی کا نظام ہی ووٹ کو خفیہ رکھنے کا انتظام کرتا ہے تو ووٹ کی خریداری یا فروخت کا الزام کس طرح لگایا جا سکتا ہے۔جو لوگ بڑے دھڑلے سے ایسے الزامات عائد کر رہے ہیں ان سے ثبوت مانگنے والا کوئی نہیں ہے۔ جب کہ الزام لگانے والے خواہ وہ سیاسی لیڈر ہوں ،خواہ کارکن دراصل ایوان بالا کو بدنام کر رہے ہیں۔ اگر ان الزامات کو غلط ثابت نہیں کیا جاتا تو ایوان بالا کی نیک نامی پر یہ حرف ثبت ہو جاتا ہے کہ اس میں ایسے لوگ شامل ہیں جو پیسے کے بل پر ووٹ خرید کر ایوان کے رکن بنے۔ اس طرح اہل سیاست خود ایک اعلیٰ جمہوری ایوان کی بے توقیری کر رہے ہیں۔ ایک طرف بطور سیاسی لیڈر اپنی بے توقیری کر رہے ہیں دوسری طرف عوام کی بے توقیری کر رہے ہیں جن کے نمائندوں نے ایوان بالا کے ارکان کاانتخاب کیا۔ سبھی سیاسی پارٹیاں اور لیڈر جمہوریت کے گن گاتے ہیں لیکن اس سوال پر غور نہیں کیا جا رہا کہ آیا ایوان بالا کے ارکان پر غیر جمہوری طریقے سے رکنیت حاصل کرنے کے الزامات سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے ۔قانون کے مطابق اگر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ کسی رکن کے منتخب ہونے میں کسی ایسی پارٹی کے ارکان کے ووٹ بھی شامل ہیں جن کا تعلق منتخب رکن کی پارٹی سے نہیں ہے تو اس سے اس رکنیت پر حرف نہیں آتا۔ سینیٹ کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری کے التزام کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہر ووٹر اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق ووٹ دینے کے لیے آزاد ہے اور پارٹی لائن کا پابند نہیں ہے ۔اس لیے جس منتخب سینیٹر نے اپنی پارٹی کے ووٹروں کے علاوہ دوسری پارٹی کے ووٹروں کے ووٹ لیے اس کا انتخاب جائز ہے اور قانون کے مطابق ہے۔ آئین کی اٹھارہویں ترمیم پارٹی کے منتخب ارکان کو صرف تین موضوعات پر پارٹی کے سربراہ کی رائے کا پابند گردانتی ہے۔ پارٹی کے ارکان (1)۔ وزیر اعظم کے انتخاب (2)۔ بجٹ کی منظوری اور (3)۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹ دینے میں پارٹی کی لیڈر کی رائے کے پابند ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات کے لیے یہ پابندی نہیں ہے۔ جب آئین یہ پابندی نہیں لگاتا کہ سینیٹ کے انتخابات میں پارٹی کے ارکان پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کے پابند ہیں تو پھر پارٹیوں کے لیڈر کس طرح یہ توقع کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ ان کے ارکان ان کی پارٹی کی مرضی کے مطابق ووٹ دیں گے۔ اگر خفیہ رائے شماری کا طریقہ منظور نہیں تو پارلیمنٹ اس حوالے سے قانون سازی کر سکتی ہے۔ یہاں ہارس ٹریڈنگ کی حمایت مقصود نہیں ۔ پیسے کے بل پر ووٹ لینا اور پیسے کے بل پر ووٹ دینا دونوں ہی نہایت مکروہ رویے ہیں ۔ لیکن اس کا الزام لگانے کے لیے ثبوت کا ہونا ضروری ہے، ورنہ الزام بھی اتنا ہی مکروہ رویہ ہے۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ کے شور سے ایوان بالا کو بدنام کرنے اور پاکستان کی جمہوریت کو کمزور کرنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آ سکتا۔ ایسے الزامات لگانے کا مقصد حریفوں کو بدنام کرنا اور اپنے لیے نیک نامی سمیٹنا ہوتا ہے۔ لیکن اب جب سبھی ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں تو نیک نام کوئی بھی نہیں رہ جاتا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی پاکستان کی جمہوریت کو گندی سیاست سے پاک کرے گی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایسے سینیٹروں کا مقابلہ کریں گے جو پیسے کے بل پر منتخب ہو کر ایوان میں پہنچے ہیں۔ جب تک وزیر اعظم ایسے کوئی اقدامات کرتے نظر نہیں آتے اس وقت تک ان کے دعوے دعوے ہی رہیں گے۔ دعوے کرتے ہوئے انہیں وہ وقت یاد کرنا چاہیے جب پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹیاں وزیر اعظم کے انتخاب سے پہلے چھانگا مانگا ،مری اور نتھیا گلی کے ریسٹ ہاؤسز میں اپنے پارٹی کے ارکان کو مہمان رکھا کرتی تھیں۔ اور پھر ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ ایوان بالا میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطے مسلم لیگ ن کو اپنا چیئرمین منتخب کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ یعنی اسی ایوان بالا میں بڑی پارٹی ہونے کے باعث جس میں ایسے لوگ منتخب ہوگئے ہیں جو اس اعلیٰ ایوان کے رکن کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔ شاہد خاقان عباسی جس ایوان میں بڑی پارٹی ہونے کی بنا پر مسلم لیگ ن کا اس کے چیئرمین کی نشست پر استحقاق کا دعویٰ کر رہے ہیں اسی کے ارکان یا بعض ارکان کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایوان کا رکن کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔ ایک طرف وہ ایوان میں ایسے ارکان کی موجودگی کی شکایت کرتے ہیں جو ایوان کی رکنیت کے مستحق نہیں دوسری طرف وہ اسی ایوان کی چیئرمین شپ پر مسلم لیگ ن کے استحقاق کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ سیاسی مصلحت پسندی ہے یا ووٹ خریدنے والوں کے خلاف مقابلہ آزمائی؟ اور پھر مسلم لیگ ن کے 104ارکان کے ایوان بالا میں تیس ارکان ہیں جسے ایوان میں اکثریت حاصل نہیں ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے لیے انتخاب میں دوسری پارٹیوں سے مدد لینی پڑے گی۔ ن لیگ والے سبھی پارٹیوں سے اس حوالے سے رابطے کر رہے ہیں اور آزاد ارکان سے بھی ۔ انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا جیسے سینیٹروں کے انتخابات کے لیے ہوا۔ سینیٹروں کے انتخابات کے بعد سارے ملک میں ہارس ٹریڈنگ کا شور مچ گیا اور اس شور میں یہ تاثر ابھرا کہ ایوان بالا میں ایسے ارکان بھی ہیں جن کا انتخاب منصفانہ طریقے سے نہیں ہوا بلکہ پیسے کے زور پر ہوا۔ اب جب چیئرمین کا انتخاب اسی ایوان میں اسی طریقے سے ہو گا تو اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا۔ جب کہ ایوان کے ارکان کے بارے میں تو کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے ایک تعداد شفاف طریقے سے نہیں بلکہ پیسے کے زور پر منتخب ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں