Daily Mashriq

احتساب کا خواب

احتساب کا خواب

چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ٹی وی اینکرز کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے یہ چونکا دینے والی بات کی ہے کہ فوج سمیت سب کا احتساب کیا جائے۔جمہوریت پسند ہوں، فوج آئین وقانون کیساتھ کھڑی ہے اور سیاست بالکل الگ ہے۔ کوئی مارشل لاء نہیں لگے گا۔ کسی صورت ملازمت میں توسیع نہیں لوں گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئین اور جمہوریت کیساتھ کھڑے ہونے اور فوج کے احتساب کی بات عین اس وقت کی ہے جب ملک میں جمہوریت کی گاڑی انتخابی مراحل اور مدارج کی صورت میں رینگ تو رہی ہے مگر دور تک پٹڑی غیر یقینی اور شکوک کی دھند میں لپٹ کر رہ گئی ہے۔ سسٹم سے ناراض بلکہ آمادہ بغاوت میاں نوازشریف اس وقت عوامی جلسوں میں یہ تاثر دینے میں مصروف ہیں کہ برسوں پہلے جس’’امپائر‘‘ کی اُنگلی اُٹھنے کی پیش گوئی کی گئی تھی وہ امپائر درحقیقت فوج اور عدلیہ ہی تھی اور ان کی نااہلی کی صورت میں وہ انگلی اُٹھ بھی چکی ہے۔ اس تاثر کو عوام میں پذیرائی بھی مل رہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کبھی منصف اعلیٰ جسٹس ثاقب نثار کو قسم کھا کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں بلکہ وہ آئین کیساتھ ہیں اور کبھی سالار اعلیٰ کو یہ وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ وہ جمہوریت اور آئین کیساتھ کھڑے ہیں۔ سالار اعلیٰ نے تو آگے کی بات کر کے بھی احتسابی عمل میں شامل کر نے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ کل تک اس بات کو ناممکنات میں سمجھا جاتا تھا اب فوجی سربراہ اپنے ادارے کو احتسابی عمل کیلئے پیش کر کے اس ناممکن کے ممکن ہونے کا یقین دلارہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو ملک میں کبھی حقیقی احتساب کا عمل شروع ہی نہیں ہوا۔ اگر کبھی احتساب اور جواب دہی کا نعرہ بلند بھی ہوا تو اسے ایک مذاق کی صورت میں وقت کی ہوا میں اُڑا دیا گیا۔ لطیفوں اور قہقہوں کی دھند میں لپیٹ کر بے وقعت کر دیا گیا۔ یہ نعرہ لگانے والے کو معاشرے میں ’’نکو‘‘ اور تنہا کر دیا گیا۔ فضاء کچھ ایسی بنا دی گئی کہ احتساب کا نعرہ لگانے اور یہ مطالبہ دہرانے والے کی شبیہہ پر’’ انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے ہے چاند رے‘‘ کا مستقل سٹکر چسپاں کر دیا گیا۔ پاکستانی سیاست کے کئی مستانے اور دیوانے احتساب کے نعروں اور خوابوں کیساتھ رزق خاک ہوتے رہے حالانکہ احتساب ایک مہذب اور جمہوری معاشرے اور کسی بھی نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔ دنیا میں احتساب کا عمل مستقل اور مسلسل عمل ہے جو مطالبات اور نعروں کا محتاج نہیں ہوتا۔ حکمران طبقات نے اگر احتساب کی ضرورت محسوس بھی کی تو حکومت وقت نے ایک تابع مہمل ادارے اور سربراہ کی نگرانی میں اس کام کا آغاز کیا تاکہ احتساب کی بندوق کا رخ مخالف سمت میں ہی رہے۔ ان کی پیہم کوشش رہی کہ اس بندوق کا رخ ان کے عہد اقتدار میں خود ان کی جانب نہ ہونے پائے۔ یہ معجزہ آزاد اور حکومتی اثر ورسوخ سے ماورا ادارے کی صورت میں ہی ممکن ہو سکتا تھا شاید اسی خوف سے مستقل آزاد اداروں کو پروان چڑھنے ہی نہیں دیا گیا۔ اس کامیاب حکمت عملی کے باعث ملک کی حکمران اشرافیہ اور طاقتور ادارے ہمیشہ احتساب سے بالاتر رہے ہیں۔ سیاستدان اور بعض دانشور یہ کہتے رہے کہ اس ملک میں احتساب صرف سیاستدانوں کا ہی کیوں ہوتا ہے؟۔ یہ سوال اس لحاظ سے قطعی بے معنی ہے کہ اس ملک میں فوجی جرنیل اور سیاستدان اور بیوروکریسی سمیت کسی کا حقیقی احتساب ہوا ہی نہیں۔ دور بدلتے ہی احتساب کے تقاضے اور رنگ ڈھنگ ہی بدلتے رہے۔ ایک دور کے قابل احتساب کردار دوسرے دور میں صاف وشفاف ہو کر ہی سامنے نہیں آئے بلکہ حکمرانی کی مسند پر بھی فائز ہوتے رہے۔ یوں احتساب اور اقتدار کی میوزیکل چیئر کا کھیل برسوں سے جاری ہے۔ اب آرمی چیف کی طرف سے فوج کو بھی احتساب کے دائرے میں لانے کی بات نے تیزی سے بدلتی ہوئی سوچ اور ایک نئے رجحان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس عمل کا آغاز جنرل پرویز مشرف سے ہو رہا ہے اور ایک عدالت نے ان کی گرفتاری اور جائیداد کی ضبطگی کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف دس برس تک ملک کے سیاہ وسفید کے مالک رہے ہیں۔ بطور حکمران ان کا ہر اقدام اور فیصلہ فوج کا فیصلہ نہیں تھا۔ چند سٹریٹجک اور بنیادی فیصلوں کے علاوہ حکومت چلانے کے تمام فیصلے وہ سویلین نظام اور افراد کی مشاورت سے کرتے تھے۔ جن میں ان کے کلاس فیلوز اور گلاس فیلوز بھی شامل ہوتے تھے۔ روشن خیال اعتدال پسندی کے نام پر ملک کی بے ڈھنگی سیکولرائزیشن، بھارت کیساتھ پینگیں بڑھانا اور امریکہ کے آگے بے قیمت سپر ڈالنا بھی ایک ایسے ہی فیصلے تھے جن کی ذمہ داری تادیر فوج نے اُٹھانے سے انکار کیا تھا۔ یہی وہ فیصلے تھے جو پاکستان کو اپنی تاریخ کے مشکل ترین مسائل کا شکار بننے کا باعث بنے تھے۔ پاکستانی معاشرے کی اجتماعی طاقت اور سول سٹرکچر بکھرنے کے قریب تھا۔ ایک بے نام عسکریت نے اس کے وجود کو گھن کی طرح چاٹنا شروع کیا تھا۔ یہ عسکریت جنرل پرویز مشرف کے فیصلوں کے ردعمل سے اپنی نظریاتی طاقت حاصل کرتی تھی۔ اسلئے یہ وہ تاریخی مقام اور ٹرننگ پوائنٹ ہے جہاں پاکستان کو بدلنا ہے۔ یہ لمحات بدلے بغیر گزر گئے تو پاکستان زندگی کی راہوں پر ماضی کی طرح گھسیٹتا اور رینگتا چلا جائے گا۔ یہ وقت ہے کہ اصطلاحات کا ناجائز استعمال کرنے کی بجائے انہیں احترام اور تقدس دیا جائے تاکہ احتساب اور انصاف جیسی اصطلاحات پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ سیاستدانوں کو بھی یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ صرف انہی کا احتساب کیوں؟۔ حقیقت میں تو احتساب سیاستدانوں کا بھی نہیں ہوا۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے تو عوام کو یقین ہے کہ چند ماہ بعد منظرنامہ یکسر تبدیل ہو سکتا ہے۔ ماضی کے این آر او کی طرح پہلے پردے کے پیچھے ڈائیلاگ ہوگا اور پھر ایک ڈیل برآمد ہوگی اور یوں احتساب کا زور ٹوٹتا چلا جائے گا اور سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔

متعلقہ خبریں