Daily Mashriq

اب رہائی ملے بھی تو مر جائیں گے

اب رہائی ملے بھی تو مر جائیں گے

اب تو یہ بھی یاد نہیں رہاکہ یہ کہانی ہم نے پہلی بار کب پڑھی تھی ۔ بعد میں اسے درسی کتب میں بھی شامل کیا گیا تھا ، اس لئے عین ممکن ہے کہ ہم بھی اسے اپنے لڑکپن کے زمانے میں کہیں پانچویں چھٹی جماعت میں حصول علم کے دوران اردو کی کسی درسی کتاب ہی میں پڑھ کر اپنے اساتذہ کی جانب سے کہانی سے ملنے والے سبق کے حوالے سے وضاحت سن کر مستفید ہو چکے ہوں۔ کہانی میں آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔کہانی ایک تو تے کے گرد گھومتی ہے جو دور دیسوں میں تجارتی قافلے لیکر جانے والے کسی سودا گر کے گھر میں ایک سنہری پنجرے میں قید تھا ۔ ایک بار سودا گر تجارت کی غرض سے قافلہ لیکر جانے والا ہوتا ہے تو گھر کے ہر فرد سے ان کی فرمائش معلوم کرتا ہے کہ واپسی پر ان کیلئے کیا لیکر آئے ۔ ہر فردنے اپنی پسند کا اظہار کیا۔ گھر سے نکلتے ہوئے سودا گر تو تے کے پاس بھی آیا اور اس کی خواہش پوچھی تو اس نے کہا ۔ مالک جب آپ سفر کے دوران فلاں علاقے کے گھنے جنگل سے گزریں تو وہاں میرے قبیلے کے توتوں کے جھنڈ دکھائی دیں گے ۔آپ ان سے صرف یہ کہہ دیں کہ اے آزادی کی نعمت سے سر شار زندگی کے مزے لوٹنے والے توتو ، تمہارا ایک بھائی فلاں ملک میں سونے کے پنجرے میں قید تم کو آزادزندگی گزارنے کی مبارک باد دیتا ہے ، اور میرا یہ پیغام ان تک پہنچے تو ان کی جانب سے جو بھی جواب ملے و ہ میرے لئے تحفہ ہوگا ۔ سودا گر تو تے کا پیغام لیکر سفر پر روانہ ہوا اور مختلفملکوں میں سوداگری کرتا ہوا جب اس گھنے جنگل میں پہنچا تو چاروں جانب درختوں پر تو توں کے جھنڈ دیکھ کر اسے اپنے گھر میں قید توتے کا پیغام یاد آگیا ۔ اس نے رک کر اونچی آواز میں قیدی توتے کا پیغام سنایا تو اچانک ایک توتا درخت کی شاخ سے پھڑ پھڑاتا ہوا نیچے زمین پر آکر گر ا اور تڑپ تڑپ کر مرگیا ۔ کچھ مدت بعد سوداگر واپس اپنے وطن پہنچ گیا ۔ سب کو اپنے اپنے تحفے دیئے توآخر میں توتے کے پاس آیا توتے نے پوچھا ، مالک میں نے آپ کو ایک پیغام دیکر میرے وطن کے توتوں تک پہنچانے کی درخواست کی تھی ، سودا گر کو وہاں ایک توتے کے تڑپنے اور مرنے کی بات یاد آئی تو اس نے تو تے سے کہا ۔ زبانی کلامی تو کوئی بات نہیں کی انہوں نے البتہ ایک توتا تمہارا پیغام سن کر درخت سے نیچے آگر ا اور تڑپ کر جان دیدی ۔ یہ سنتے ہی سنہری پنجرے میں قید توتا بھی تڑپا اور تڑپ تڑپ کر جان دیدی سودا گر کو بہت افسوس ہوا ، مجبوراً اس نے پنجرے کا دروازہ کھول کر تو تا باہر نکالا ، مگر اچانک توتے کی جان میں جان آئی اور وہ اڑ کر قریبی درخت پر جا بیٹھا ۔ سودا گر نے حیرت سے یہ سارا منظر دیکھا اور توتے سے پوچھا ، یہ سب کیا ہے ؟ توتے نے کہا ، جس توتے نے میرے وطن میں میری داستان حسرت سن کر جان دی ، دراصل وہ بھی مرا نہیں تھا بلکہ میرے لئے پیغام تھا کہ آزادی کیسے حاصل کی جاتی ہے ، اور یہ کہہ کر توتے نے ایک لمبی اڑان بھری اور پلک جھپکتے نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔

جب پرندے نہ لوٹ کر آئیں

کیسے کاٹے گا شب شجر تنہا

یہ کہانی ہمارے سیاسی حالات پر ایک خوبصورت تبصرہ کرتی ہے ، ہم بھی کہانی کے توتے کی مانند سودا گر کی قید میں ہیں ، تاہم کہانی کے توتے اور ہم میں ایک نمایاں فرق ہے اور وہ یہ کہ کہانی کا توتاسونے کے پنجرے میں قید تھا جبکہ ہمیں اپنے سوداگروں نے انتہائی نامساعد صورتحال کے قید خانے کا اسیر بنا رکھا ہے ، اور سونے پر خود تصرف کر رکھا ہے ، جمہوریت کے نام کے سنہری پنجرے کو ہمارا مقدر بنا کر جو کھیل گزشتہ 70سال سے ہمارے ساتھ کھیلا جارہا ہے اس میں اب بعض آوازیں اس جنگل کے توتے کی مانند ابھرنے لگی ہیں ، تاکہ ہم من حیث القوم ان ’’سودا گروں ‘‘ کی قید سے خود کو آزاد کرسکیں مگر ان کے شکنجے اس قدر سخت ہیں بلکہ ہم تو خود کو ایک فلمی گیت کے مطابق اس صورتحال سے دوچار ہیں کہ

اتنے مانوس صیاد سے ہو چلے

اب رہائی ملے بھی تو مرجائیں گے

اب دیکھ لیجئے کہ میاں رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر کے اختیار کئے ہوئے رویئے کو بالآخر اعتزاز احسن نے بھی درست قرار دے کر سیاست کے ایک شاہی خاندان کے رویئے پر اعتراض دبی زبان ہی سے سہی کر دیا ہے ، مگر جب یہ سطور لکھی جارہی تھیں تو یہ خبر بھی آگئی کہ میاں رضا ربانی کو ، جنہوں نے بطور سینیٹر حلف نہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا تھا ، پارٹی کے چیئر مین نے منالیا ہے ، تاکہ ان اہم لوگوں کی ناراضی سے پارٹی پر پڑنے والے منفی اثرات کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر صورتحال کو جوں کا توں بنانے کامیابی میں حاصل کر لی جائے حالانکہ موجودہ سیاسی صورتحال ایک ایسے موقع کی مانند ہے جب عوام ان خاندانی جماعتوں کی غلامی کا طوق اپنی گردنوں سے اتارنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ، خصوصاً میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد لیگ (ن) کے اندر بھی حقیقی جمہوریت کے قیام کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے ، اسی طرح جو کرپٹ اور لوٹ مار کرنے والے اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کردوسری جماعتوں میں شامل ہورہے ہیں ان کی وجہ سے یہ پارٹیاں بھی صاف ستھری سیاست کے دعوے اب نہیں کر سکتیں ، مگر ہم ان قوتوں میں شامل نہیں جو سنہرے پنجرے سے آزادی چاہتے ہیں ۔ اس لئے کوئی سمجھدار تو تا ہمیں آزادی کا درس دے بھی تو ہمیں ازلی غلامی ہی میں لذت محسوس ہوتی ہے اور ہم آزاد ہونا ہی نہیں چاہتے ۔

احساس مرنہ جائے تو انسان کیلئے

کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی

متعلقہ خبریں