Daily Mashriq

ابھی کچھ دن لگیں گے

ابھی کچھ دن لگیں گے

اس وقت جس تکلیف سے گزر رہا ہے ہم سب چاہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک سنہرا دن طلوع ہو۔ ایک ایسا سنہرا دن جس میں کسی سیاستدان کو دیکھ کر ہمارے دلوں میں یہ خوف جنم نہ لے کہ یہ تو صرف ہمیں لوٹنے کو ہی تیار بیٹھے ہیں۔ کسی کو دیکھ کر یہ خیال نہ آئے کہ معاشرے کا گند اُبل کر معاشرے کے سر پر آگیا ہے۔ ہم ایک طویل عرصے سے بنا ہاتھ پیر ہلائے، اپنی اور اپنے حالات کی درستگی کا خواب سجا رہے ہیں۔ ہمیں بولنے کی حد تک یہ ادراک بھی ہو چکا ہے کہ اچھے لوگوں کو ووٹ دینے سے ہی ہم اپنی بھلائی کا پہلا پودا لگا سکتے ہیں، ہمیں یہ احساس بھی ہے کہ ہمارے ووٹ میں بڑی طاقت ہے۔ ہم خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی بھی پھینکتے ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف اور رانا ثناء اللہ کی طرف جوتا بھی اُچھالتے ہیں اور ہم یہ تجزیئے بھی کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو ان ساری باتوں سے یہ تو سمجھ ہی جانا چاہئے کہ لوگ اب ان کی ساری چالاکیاں اور لوٹ مار سمجھ چکے ہیں اور ان سے انہی سب باتوں کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں۔ لوگ خوش ہیں کہ ان کی مدد کرنیوالے خود بھی اس لوٹ مار میں شامل ہونیوالے بیوروکریٹس کو بھی نیب نے شکنجے میں جکڑ لیا ہے اور نیب میں جناب جاوید اقبال کے باعث اتنی طاقت بھر گئی ہے کہ ایسے لوگوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی نیب ٹس سے مس نہیں ہوا۔ ہم یہ اُمید بھی اپنے اپنے دروازوں پر باندھ لینا چاہتے ہیں کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن پھر بھی یہ اُمید جنم نہیں لیتی کوئی احساس یہ نہیں کہتا کہ اب واقعی سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کوئی خیال ایسے کسی اثبات کو جنم نہیں دیتا کہ اب واقعی سب درست ہو جانیوالا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ہمیں اندھیرے میں رہتے اتنا عرصہ ہوگیا تھا کہ روشنی کا احساس ہی باقی نہیں رہا، کچھ وقت لگے گا۔ کوئی کہتا ہے کہ جب تک یہ لوگ منظر عام پر دکھائی دیتے رہیںگے، یہ خوف نہیں ٹلے گا کہ برائی ابھی تک باقی ہے۔ عوام کے خیال میں خوف اس قدر بس چکا ہے اور ایسا مضبوط ہے کہ اسے پچھاڑنا دن بہ دن مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کبھی یونہی خیال آتا ہے کہ

دل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے

جہاں رنگ کے سارے خس وخاشاک

سب سرو وصنوبر بھولنے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے

تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر

کہیں اُمید کا چھوٹا سا اک گھر

بنتے بنتے رہ گیا ہے

وہ اک گھر بھولنے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے

مگر اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں

بس اک دن دل کی لوح منظر پر

اچانک رات اُترے گی

میری بے نور آنکھوں کے خزانے میں چھپے

ہر خواب کی تکمیل کر دے گی

مجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گی

اک ایسا خواب جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھا

اک ایسا خواب جس کے

دامن صد چاک میں کوئی مبارک

کوئی روشن دن نہیں تھا

ابھی کچھ دن لگیں گے

اور پھر میں سوچتی ہوں کہ کہیں افتخار عارف کو ایسا ہی تو کوئی خوف نہیں تھا کہ یہ وطن ہمارا دل ہی تو تھا اور اسے ہم نے خود ہی اپنے ہی ہاتھوں، اپنی ہی طاقت سے یوں بیدردی سے پامال کیا ہے۔ شاید کوئی جنون تھا جو سوچ پر حاوی تھا تبھی یہ لگتا تھا کہ میں چاہے پانی کا پیالہ ہی ڈالوں، اس تالات میں، میری جگہ دودھ کا پیالہ کوئی تو ڈالے گا۔ ہم سب اپنے اپنے تئیں، اپنے فرض کو کسی اور کے کاندھوں پر ڈال کر، آزاد ہو جاتے رہے اور اس ملک سے محبت کرنیوالوں کی تعداد جو پہلے زیادہ تھی، دن بہ دن گھٹتی گئی۔ لوگ اپنے مفادات کے بھنور لے کر شکار پر نکلتے رہے۔ یہ ملک ہی ہر بار شکار ہوتا رہا۔ اس ملک کو ہم سب نے لوٹا، ان گنت ناموں میں سیاستدانوں، بیوروکریٹس، اعلیٰ فوجی افسران کس کس کے نام شامل نہیں، یہ سب لوگ ہماری خواہشات کے، ہمارے لالچ کے، ہماری مفاد پرستی کے مجسم شیاطین ہیں، یہ ہمارے عفریت ہیں، انہیں ہم نے پالا پوسا ہے۔

ہم نے اپنے ہاتھوں سے دودھ پلایا ہے۔ انہیں ہم نے تھپک تھپک کر لوریاں گا کر چین کی نیند بخشی کہ یہ طاقتور ہو کر اُٹھیں اور ہماری ہی اُمیدوں کے گھروندوں کو ٹھوکروں میں اُڑا دیں اور وہ یہی تو کر رہے ہیں، ان سے اپنی سفارشوں کیلئے ہر اصول کو توڑ دینے کے خواہشمند ہم ہی تو تھے۔ ہمیں فائدہ دینے کیلئے اوروں کو نقصان پہنچانے میں ذرا جھجھک محسوس نہ کرنیوالے بھی ہم تھے۔ ہم تھے جو کہتے تھے مائی باپ بس ہمارا کام ہو جانا چاہئے، ہم تھے جو کہتے تھے آپ کی مرضی جو کھائیں بس ہمیں ہمارے حصے کے ٹکڑے ضرور ڈال دیں، اب کیا کہیں اور کس کو دوش دیں۔ یہ شہر تو ہم نے یہ ملک بھی ہم نے خود ہی پامال کروایا ہے اور اب خود ہمارے پاس بھی، اس قوم کے پاس بھی نہ کوئی اُمید باقی رہی ہے، نہ خواب، ہماری آنکھیں بے نور ہیں اور ہمارے خواب شکستہ، تبھی تو کوئی اُمید جنم ہی نہیں لیتی۔ تبھی تو کوئی خواب ہی ہمارے دامن میں روشن نہیں۔

متعلقہ خبریں