Daily Mashriq

سینیٹ انتخابات، عوام اور جمہوریت

سینیٹ انتخابات، عوام اور جمہوریت

اس میں شک نہیں کہ موجودہ دور میں جمہوریت سے بہتر نظام حکومت کہیں رائج نہیں اگرچہ ہمارا ایمان یقین اور دعویٰ ہے کہ بہترین نظام حکومت شورائی ہے جسے خلافت کہا جاتا ہے اور عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد آج تک دوبارہ قائم نہیں ہو سکی ہے ، اس لئے آج کی نئی نسلوں کے سامنے اس کی افادیت ضرورت اور اہمیت بیان کرنا یا دکھانا بہت ، مشکل ہے کیونکہ آج تقریباً دو صدیوں سے مغرب میں رائج جمہوری نظام حکومت نے ایسا جادو جگا یا ہے کہ کوئی اس کے خلاف بات تک نہیں کر سکتا ۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس وقت ہمارے پاس نظر یاتی طور پر اس کا متبادل خلافت کا نظام تو قرآن و سنت میں محفوظ ہے لیکن اس کے عملی اظہار اور شریں ثمرات سے ایک مدت ہوئی کہ دنیا (اسلامی دنیا ) محروم ہے ۔ خلافت وہ طرز حکومت ہے جس میں انسان بکا نہیں کرتے اور اس میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اپنے پورے بنیادی انسانی حقوق کیساتھ زندگی بسر کرتے رہے ہیں اور یہودیوں کے مئورخین اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ یہودیوں کو تاریخ کے سارے ادوار میں جس قوم کے ہاں امن وعافیت حاصل رہی ہے وہ عثمانی خلافت کے دوران متحرک قوم تھی ۔ لیکن پھر جس طرح برطانیہ نے عثمانی خلافت کا خاتمہ کیا اور دنیا پر غلبہ حاصل کیا تو برطانوی تہذیب وتمدن اور نظریات کو بھی عالمی غلبہ حاصل ہوا۔ برطانیہ کو جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں سے اس کی ابتدا ہوئی اور یہیں اس کی نشوونما ہوئی اور آج اپنی تاریخ کے بلند ترین مقام پر ہے ۔ دنیا بھر میں اس کی تقلید اور نقل کی جاتی ہے ۔ خیر سے ایک زمانے میں پورا ہندوستان بھی برطانوی جمہوریت کے نیچے بد ترین آمریت کے اثرات سے کراہ رہا تھا لیکن وقت گزرنے کیساتھ اہل ہندوستان نے بھی برطانیہ سے سیکھ کر یہی فارمولا اور اصول استعمال کر تے ہوئے حق خود ارادیت کے تحت آزادی کا مطالبہ کیا ۔ آزادی عظیم نعمت خداوندی ہے ، لیکن اہل ہندوستان بالخصوص مسلمانان ہند کو آزادی کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ آج تک چکار ہے ہیں۔ پاکستان قائم ہوا تو برطانیہ ہی کی جمہوریت کے اصولوں کے مطابق قائداعظم ؒ نے مقدمہ لڑ کر جیت لیا لیکن ہائے افسوس کہ اُن کو یہاں جمہوری نظام کی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع نہ مل سکا اور پھر تو چل سو چل۔ مارشل لاء اور لولی لنگڑی جمہوریت کے درمیان وہ آنکھ مچولی رہی کہ الامان والحفیظ۔ کہنے کو تو گزشتہ دس برس سے وطن عزیز میں جمہوریت کا راج ہے لیکن آج بھی وہ جمہوری اقدار و روایات وطن عزیز میں رائج وراسخ نہ ہو سکیں جس کی ضرورت تھی۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی انتخابات ہوئے، سیاسی جماعتوں دھاندلی اور دو نمبری کا شور مچایا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ الیکشن، سیاسی جماعتیں اور ان کا منشور عوام اور ووٹرز سب کے سب آج بھی شدید بنیادی اصلاحات کے متقاضی ہیں اور شاید وقت گزرنے کیساتھ اصلاحات ہو بھی جائیں لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان 1990ء سے لے کر آج تک ایک دوسرے پر لوٹا کر یسی اور ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگاتے رہے ہیں او ر آج حال کچھ ایسا ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان کشمکش برپا ہے اور اسی کشمکش میں سینیٹ کے انتخابات معدوم اور مدھم سے نظر آنے لگے تھے لیکن اللہ کی شان دیکھئے کہ انتخابات تو ہوگئے لیکن ایسے انداز میں کہ ہر طرف سے آوازیں اُٹھنے لگی ہیں کوئی سپریم کورٹ کو دہائی دے رہا ہے، کوئی اپنے ارکان اسمبلی کیخلاف تحقیقات کر رہا ہے اور عوام الگ سے سراپا احتجاج ہیں کہ ہمارے ووٹوں سے منتخب اراکین اسمبلی یوں گھوڑوں گدھوں کی طرح بکیں گے، ہمارے وہم وگمان میں بھی نہ تھا، علامہ محمد اقبالؒ نے کس خوبصورتی سے مغربی جمہوریت کا تنقید ی جائزہ چٹکی بھر کر لیا تھا۔

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے

اور انور مسعود نے کیا کمال پیروڈی کی ہے اسی شعر کی۔

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ

سینیٹ (ایوان بالا) اور اس کے انتخابات کتنے اہم ہیں، اس کا اندازہ بے چارے اٹھانوے بلکہ ننانوے فیصد پاکستانی عوام کونہیں۔۔ عوام بے چاروں کو تو دو وقت روٹی کی اشد ضرورت ہے لیکن اے حکمرانوں! اے اراکین اسمبلی! تمہیں تو معلوم ہے کہ ووٹ اور انتخاب کا تقدس کیا ہے؟ لیکن اے عوام پاکستان، سینیٹ سے بے خبر سہی، اتنا تو سیکھ لو کہ اللہ حکم دیتا ہے کہ امانت (ووٹ کی امانت) ان لوگوں کے حوالے کردو جو اس کے اہل ہیں۔‘‘

کروڑوں روپے جن اراکین اسمبلی نے لے لئے۔۔ وہ یاد رکھیں کہ ایک دن اس کا حساب دینا ہوگا میدان حشر میں تو حساب لازمی ہے اور عموماً یہاں اس دنیا میں بھی بعض اوقات مؤثر مواخذہ ہوجاتا ہے بقول شخصے:

عدل وانصاف صرف حشر پہ موقوف نہیں

زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے

متعلقہ خبریں