Daily Mashriq


نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں

نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں

ارنسٹ ہیمنگوے نے کہا تھا کہ ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے اور خوش نصیب ہونا اچھی بات ہے لیکن ایک بات کا خیال رہے کہ جب خوش قسمتی آئے تو آپ کو اس کے لیے پہلے سے تیار ہونا چاہیے۔خوش نصیب ہونا یا خوش نصیبی کے لیے پہلے سے تیار رہنا ۔یہ اور اس قسم کی دوسری بہت سی باتیں نوجوانوں کے لیے بڑی پرکشش ہوتی ہیںدراصل انسان کی زندگی کا سب سے اہم حصہ ہی جوانی ہے یہی وہ زمانہ ہے جب انسان ایک بہتر مستقبل کے لیے تگ و دو کرتاہے ۔ وہ زمانہ ہے جب اسے یہ سیکھنا ہوتا ہے کہ وقت بڑی دولت ہے وقت کو ضائع کرنے کا مطلب اپنے آپ کو ضائع کرنا ہے اسے اس زمانے میں اپنے لیے زندگی کی راہیں متعین کرنی ہوتی ہیں اگر کوئی نصب العین سامنے ہو تو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اسے پانے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے یعنی جس طرح دن نیا ہے اسی طرح انسان کے دل میں نئی امنگیں بھی پیدا ہونی چاہئیں وہ ایک نئے حوصلے کے ساتھ نئے دن کا آغاز کرے وہ چوبیس گھنٹے کے ہر منٹ ہر سیکنڈ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے اپنے معمولات کے لیے باقاعدہ ایک ٹائم ٹیبل کا ہونا بہت ضروری ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ روز کا کام روز ہوتا رہتا ہے فرض کریں آپ نے ایک نئی کتاب کو پڑھنا شروع کیا ایک دن دو چار صفحے پڑھے اور پھر اسے گھر کے کسی کونے کھدرے میں رکھ کر بھول گئے۔ بہتر یہی ہے کہ مطالعے کا ایک وقت مقرر کیا جائے کہ فلاں وقت اتنی دیر کے لیے اس کتاب کا مطالعہ کرنا ہے ۔ اسی طرح دوسرے اہم امور کے لیے بھی باقاعدہ ٹائم ٹیبل ہو تو بہت سے کام وقت پر نپٹائے جاسکتے ہیں ۔خوش نصیبی کے لیے پہلے سے تیار ہونا اسی کو کہتے ہیں ! کہتے ہیں ایک مرتبہ خوش قسمتی نے ایک کاہل شخص کے دروازے پر دستک دی اس وقت خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا اس نے دستک کی آواز سنی لیکن سستی کی وجہ سے اپنی جگہ سے اٹھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ اب خوش قسمتی کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہے کہ وہ اس کاہل شخص کے انتظار میں وہاں کھڑی رہتی وہ آگے بڑھ گئی اور اس نے ایک اور شخص کے دروازے پر دستک دی وہ شخص ہوشیار اور بیدار تھا اس نے جیسے ہی خوش قسمتی کی دستک سنی اٹھا اور اسے خوش آمدید کہتے ہوئے گلے سے لگا لیا ۔خوش قسمتی کیا ہے؟ یہ زندگی میں انسان کو ملنے والے مواقع ہیں اور اللہ پاک سب کو موقع دیتا ہے جس طرح بارش ہر زمین پر برستی ہے سورج ہر جگہ چمکتا ہے اب یہ زمین پر ہے کہ اس میں کتنی گنجائش ہے نرم زمین پر فصل بہت جلد اگتی ہے لیکن اگر زمین بنجر ہے تو اس پر بارش کے برسنے کا کوئی اثر نہیںہوتا ۔ یہی مثال انسان کی بھی ہے ہمارے اندر چیزوں کو سمجھنے کا شعور ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے آپ کو اس قابل بنانا چاہیے کہ جب بھی موقعہ ملے انہیں آگے بڑھ کر سینے سے لگا لیں ہمارے چاروں طرف زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح بکھری ہوئی ہے۔ ہر چیز ایک کہانی ہے بس اسے پڑھنے کی ضرورت ہے خالق کائنات کی تخلیقات کو غور سے دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ کہتے ہیں انسان کا بہترین مطالعہ انسان ہے۔ ہمارے آس پاس انسان تو بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن ان میں دلچسپی لینے کی ضرورت ہے۔ ان کے اچھے کاموں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ان کی غلطیوں سے بچنے کی ضرورت ہے ۔یہ ہمارے لیے باعث عبرت بھی ہوتے ہیں اور باعث تقلید بھی ! لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب ان میں دلچسپی لی جائے۔ ان کے حالات کا مطالعہ کیا جائے۔ سیکھنے کے لیے کیا کچھ نہیں ہے بس دیکھنے والی آنکھ ہونی چاہیے! اسی طرح ہر عضو پر غور کرتے چلے جائیے تو آپ یقینا جان لیں گے کہ ہم اپنے وجود میں کتنے بڑے خزانے کے مالک ہیں۔ لیکن اگر آنکھ دیکھنے سے انکار کردے دماغ سوچ سے پہلو تہی کرے اور کان سننے سے انکاری ہوجائیں تو پھر قسمت کا کیا قصور ہے ؟دراصل خزانہ ہمارے اندر موجود ہوتا ہے اور ہم اسے پانے کے لیے زمانے بھر کی خاک چھانتے رہتے ہیں۔ بس اپنے من میں ڈوب کر غوطہ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے اسے معرفت کردگار حاصل ہوجاتی ہے۔ اپنے آپ کو پہچان لیا جائے تو زندگی کا سفر آسان ہوجاتا ہے۔ نفس کا تکبر بہت بڑی ٹھوکر ہے یہ تاریکی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو پہچان نہیں پاتے یہ بہت بڑا مغالطہ ہے۔ اس دھوکے سے جتنی جلد چھٹکارا حاصل کر لیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ نوجوانوں کو مکالمے کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھنا چاہیے زندگی کے اسرارو رموز کو سمجھنے کے لیے مکالمہ بہت ضروری ہے اور مکالمہ اس سوچ کے ساتھ کیا جائے کہ ہم نے کچھ سیکھنا ہے جو باتیں ہمارے ذہن میں ہیں جن باتوں کو ہم درست سمجھتے ہیں انہیں پوری دیانت داری کے ساتھ بیان کرنا ہے۔ یاد رکھیے بحث برائے بحث اور مکالمے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ کوشش کیجیے کہ بحث کا دروازہ نہ کھلے ! یہ آپ کو الجھا کر رکھ دیتی ہے ۔اس میں آپ کی انا شامل ہوجاتی ہے۔مواقع ہمارے چاروں طرف بکھرے ہوتے ہیں بس آگے بڑھ کر ان سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ فائدہ اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب ہمارے اندر گنجائش پیدا ہوجائے جس طرح زمین بارش کے پانی سے بار آور ہوجاتی ہے اسی طرح ہم نرمی اختیار کرکے، دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھ کے، اپنی انا کے بت کو توڑ کر کامیابی کے سفر پر گامزن ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں