Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

امام ابن سیرین ؒ تابعین میں سے ہیں ۔ حق تعالیٰ نے ان کو خواب کی تعبیر کافن عطا فرمایا تھا ۔ ایک شخص نے امام ابن سیرین ؒ کے پاس آکر عرض کیا کہ حضرت ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ میری چار پائی کے نیچے انگارے دہک رہے ہیں ۔ فرمایا کہ جلدی جا ،اپنے بال بچوں اور سامان کو گھر سے نکال دے ۔ تیرا گھر گر پڑے گا ۔ یہ شخص جلدی کرکے اپنے گھر گیا اور اپنے بیوی بچوں اورسامان کو گھر سے نکال لایا ۔ چند ہی گھنٹے گزرے تھے کہ سارا مکان اوپر سے نیچے آگرا۔ تقریباً پانچ ، چھ ماہ بعد ایک اور شخص آیا اور اس نے بھی وہی خواب دیکھا اور عرض کیا کہ حضرت ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میری چار پائی کے نیچے انگارے دہک رہے ہیں ۔ امام ابن سیرین ؒ نے فرمایا : چارپائی کے نیچے زمین کی کھدائی کر ۔ تجھے سونا ملے گا ۔ اس شخص نے کھدائی کی تو اس کے نیچے سے خزانہ برآمد ہو ا اور لاکھوں اشرفیاں اور سونا ملا ۔ وہ شخص مالدارہوگیا ۔

لوگوں نے امام ابن سیرین ؒ سے عرض کیا کہ ایک شخص نے یہی خواب دیکھا تو آپ نے اس کا گھر گروادیا اور دوسرے نے وہی خواب دیکھا تو اسے خزانہ دلا دیا ۔آ پ نے فرمایا کہ پہلے نے سخت گرمی کے موسم میں خواب دیکھا تھا ۔ گرمی میں چار پائی کے نیچے آگ دہکنا بنیاد کیمنہدم ہونے کی دلیل ہے ۔ دوسرے نے یہ خواب سردی میں دیکھا ہے ۔ اس موسم میں چار پائی کے نیچے سے گرمی پہنچنا ایک نعمت ہے اور آگ کی صورت سونے کے مشابہ ہوتی ہے ۔ میں نے تعبیر دے دی کہ سونا ملے گا ۔ قاضی محمد ایوب ؒ جو بھوپال میں قاضی القضا ۃ (چیف جسٹس ) تھے ۔ ان کو تعبیر میں حق تعالیٰ نے مہارت عطا فرمائی تھی ۔ ان کے زمانے میں ایک شخص نے خواب دیکھا ۔ وہ شخص ان کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ نماز کی ایک بہت بڑی جماعت کھڑی ہوئی ہے ۔ لاکھوں آدمی ہیں اور صف اول میں رسول اکرم ؐ کھڑے ہیں اور نواب صدیق حسن خان نماز کی امامت فرما رہے ہیں ۔ (نواب صدیق حسن خان اہل حدیث مسلک میں صاحب علم شخص تھے ، ان کی اہل علم سے محبت کے بہت سے واقعات حضرت تھانوی ؒ نے بیان فرمائے ہیں )۔

خواب سن کر انہوں نے نوجوان سے پوچھا : ’’کیا تم نے واقعی یہ خواب دیکھا ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا کہ جی ہاں ۔ فرمایا تو سن لو کہ نواب صدیق حسن خان کا انتقال ہوگیا ہے ۔ کچھ ہی دیر بعد اطلاع آئی کہ نواب صدیق حسن ؒ کا انتقال ہوگیا ہے ۔ نوجوان کو تعبیر سن کر تعجب ہوا تھا ۔ اس کا گمان تھا کہ اس میں نواب صدیق ؒ کی مقبولیت کی طرف اشارہ تھا ، کیونکہ ان کو امامت کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ یہ نوجوان قاضی کے پاس پہنچا او رپوچھا کہ آپ نے یہ تعبیر ظاہری گمان کے بالکل مخالف دی ۔ فرمایا کہ نبی کریم ؒ کی موجودگی میں کسی کو امامت کاحق نہیں ہے ۔ رسول اکرم ؐ کے آگے کوئی جنازہ تو ہو سکتا ہے ۔ کوئی زندہ نہیں ہو سکتا ۔

(خطبات حکیم الاسلام حضرت قاری طیبؒ )

متعلقہ خبریں