Daily Mashriq

نشے کی تجارت اور سپلائی بند کیجئے

نشے کی تجارت اور سپلائی بند کیجئے

کارخانو مارکیٹ کے قریب نشے کے عادی افراد کی پوری قطار اور کھلے عام منشیات استعمال کرنے کی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی بی آر ٹی کے پلوں کے نیچے اور پشاور کے دیگر مقامات سے نشے کے عادی افراد کو بلاتاخیر آئس/ڈرگ بحالی مرکز میں منتقل کرنے کی ہدایت دیر آید درست آید کے مصداق ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ بحالی کے مرکز اور ہسپتالوں میں ان کو علاج معالجے، تربیت، خوراک سمیت تمام سہولیات فراہم کی جائیں، صوبائی حکومت منشیات کے عادی افراد کو بامقصد زندگی کی طرف واپس لانے میں انتہائی سنجیدہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ نشے کے عادی افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کیلئے پہلے سے ہدایات جاری کر چکے ہیں۔ ان ہدایات پر پیشرفت یقینی بنائی جائے صوبائی حکومت کے قائم کردہ ڈرگز بحالی سنٹر کے ثمرات مستحقین کو ملنے چاہئیں۔ دریں اثناء صرف نظر اور تساہل کی عادی کیپٹل سٹی پولیس نے وزیراعلیٰ کے احکامات پر منشیات کی لت میں مبتلا افراد کو معاشرے کے کارآمد شہری بنانے کی خاطر خصوصی مہم کا آغاز کر دیا ہے، مہم کے پہلے مرحلے میں حیات آباد، ٹاؤن، کینٹ، فقیرآباد اور گلبہار سرکلز سے منشیات کے عادی افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔24 منشیات فروشوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں منشیات کے عادی افراد پہلے پارکوں کے اردگرد اور کھلے مقامات پر نظر آتے تھے ریل کی پٹڑی کے اردگرد ان کے ڈیرے اب بھی ہیں۔ جب سے بی آر ٹی کیلئے طویل پلوں کی تعمیر شروع ہوئی اس وقت سے پلوں کے نیچے نشے کے عادی افراد کی ٹولیوں نے مستقل ڈیرہ ڈال لیا تھا۔ گلبہار پولیس سٹیشن کے بالکل سامنے نشے کے عادی افراد کی پوری بستی آباد تھی۔ کارخانو مارکیٹ کے بی آر ٹی پل کے نیچے بھی ان کا بڑا ڈیرہ تھا۔ نشے کے عادی افراد کی حالت زار دیکھ کر شہری صرف توبہ استغفار کر کے ہی ان کے پاس سے گزرتے اور نوجوانوں کو عبرت حاصل کرنے کی ہی نصیحت کر سکتے تھے۔ ان کی موجودگی سے نشے کی اشیاء کا سرعام استعمال، علاقے میں صفائی کے مسائل، چھوٹی موٹی چوریاں خاص طور پر بی آر ٹی کے جنگلے کاٹ کر فروخت کرنے کے مسئلے سمیت مختلف قسم کے سماجی ومعاشرتی اور انتظامی مسائل کا سبب بن رہا تھا لیکن اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر نہ تو پولیس اور نہ ہی سوشل ویلفیئر کے ادارے اور سرکاری حکام ان سے تعرض کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے رہے جو ازخود ہیروئن، آئس اور دیگر نشے کے عادی افراد کے اڈے بنانے میں مددگار ثابت ہوتی رہی بلکہ منشیات فروخت کرنے والوں کو بھی آسانی تھی۔ جناح پارک کے پاس ریلوے پٹڑی پر منشیات فروشوں کے کارندے کھلے عام نشے کے عادی افراد کو منشیات کی سپلائی کرتے نظر آتے تھے۔ اسی طرح جیل کے پاس پل کے نیچے پٹڑیوں کے اردگرد بیٹھے افراد کو بھی منشیات فروش کھلے عام منشیات پہنچاتے تھے۔ گلبہار پولیس سٹیشن کے سامنے اور کارخانو مارکیٹ کے قریب بھی منشیات مل جایا کرتی تھی، یہ ساری تفصیل نوشتہ دیوار بھی تھی اور میڈیا وقتاً فوقتاً اسی کی نشاندہی اور توجہ دلانے کی ذمہ داری بھی ادا کرتا آیا ہے۔ اس کے باوجود اس بات کا انتظار کیوں کیا گیا کہ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر پھیل جائے کیا یہ پولیس، سوشل ویلفیئر اور انسداد منشیات کے ذمہ دار اداروں کا فرض نہ تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریاںنبھائے۔ جو پولیس اور سوشل ویلفیئر کا ادارہ اس عام مسئلے پر بھی وزیراعلیٰ کے احکامات کے بغیر کارروائی سے گریزاں ہوں ان سے اس بات کی توقع عبث ہے۔ اس قسم کی کارروائی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی بلکہ قبل ازیں بھی ہو چکی ہے۔ بہرحال اب جبکہ ایک مرتبہ پھر اس امر کا احساس کیا جاچکا ہے تو ان افراد کے علاج معالجے اور بحالی کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ آئندہ کیلئے اس قسم کے مزید افراد کی روک تھام کیلئے انسداد منشیات کے ادارے اور پولیس کو منشیات کی سمگلنگ اور منشیات فروشی کی روک تھام میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ پولیس سے یہ بات مخفی نہیں کہ کاروں کی ڈگیوں میں شراب کے کریٹ اور موٹر سائیکل سوار اپنے گاہکوں کو ایک برقی پیغام پر مطلوبہ چیزیں پہنچا آتے ہیں۔ جب تک اس کاروبار کی بڑے پیمانے سے لیکر چھوٹے پیمانے تک اور ہر سطح پر بیخ کنی نہیں ہوگی منشیات کے عادی افراد کی ٹولیاں نظر آتی رہیں گی۔ بہتر ہوگا کہ مسئلے کو جڑ سے اکھاڑا جائے۔ جب تک منشیات کی تجارت اور منشیات گھروں تک پہنچانے والے منظم گروہوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں کمی لانا ممکن نہ ہوگا۔ سب سے خطرناک نشہ تو آئس کا ہے جس کا کاروبار کرنے والے افراد کا نشانہ آٹھویں سے دسویں کے طالب علم بن رہے ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء ہی نہیں طالبات بھی اس نشے کی عادی ہورہی ہیں اور ہوچکی ہیں اور یہ لعنت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ان سارے عوامل کا جائزہ لینے اور ان کے انسداد میں جتنے جلد اور سخت اقدامات کئے جائیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں