Daily Mashriq

ملاعمر کا کھوج لگانے میں امریکہ کی ناکامی

ملاعمر کا کھوج لگانے میں امریکہ کی ناکامی

برطانوی اخبار دی گارجین کا یہ انکشاف بڑی دلچسپی کا باعث ہونے کیساتھ ساتھ حیران کن بھی ہے کہ امریکی فوج افغان طالبان کے بانی اور سابق امیر ملاعمر کو ان کے بیس کے قریب کئی برس تک رہائش رکھنے کے باوجود اسے تلاش کرنے میں ناکام رہی۔ ملاعمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر رکھی گئی تھی۔ برطانوی اخبار نے نئی کتاب میں ہونے والے انکشافات کو امریکی خفیہ ایجنسیوں کی شرم ناک ناکامی قرار دیا ہے۔ اگرچہ افغان طالبان اور پاکستان دونوں کی جانب سے بار بار ملاعمر کے افغانستان ہی میں موجود ہونے کا کہا جاتا رہا لیکن دنیا ان کی باتوں پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھی۔ بہرحال اس معاملے سے قطع نظر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ امریکہ نہ تو اپنے جاسوسی آلات اور زمینی انٹیلی جنس کے ذریعے طالبان کے امیر کو ڈھونڈ سکی اور نہ ہی امریکی سیٹلائیٹ اور جاسوسی کے آلات اس کا کھوج لگا سکے، مستزاد ایک کروڑ ڈالر کی لالچ بھی کام نہ آئی۔ اس سارے انکشاف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ افغان طالبان اور افغان عوام کو امریکہ اور اس کے حواری کسی قیمت پر قبول نہیں اور وہ کسی بھی قیمت پر ان سے تعاون کیلئے تیار نہیں۔ افغانستان میں سترہ سالوں کی ناکامی اور طالبان کا بقاء کی جنگ میں ناقابل شکست ہونا اب ثابت ہوچکا ہے جس کے بعد ہی امریکہ طالبان سے مذاکرات پر مجبور ہوا۔ ملاعمر طالبان کے امیر ہی نہیں ان کی وحدت واتحاد کی بھی ضمانت تھے ان کی وفات کے بعد بھی طالبان کا نظم برقرار رہا جو ان کی قیادت اور کرشمہ سازی کا اعجاز قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان سارے حالات میں مذاکرات اور افغانستان میں طالبان کو مستحکم قوت تسلیم کر کے ان سے معاملت ہی سے افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہوگی۔

سوات کے مقامی وسائل سے استفادے پر توجہ کی ضرورت

سوات کی دنیا کی بہترین کراکری اور کاسمیٹکس کی تیاری میں استعمال ہونے والی مٹی سے مقامی طور پر استفادہ کا سامان نہ ہونا تکلیف دہ امر ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ کراکری اور کاسمیٹکس کی بہت ساری فیکٹریاں سوات سے باہر منتقل ہو چکی ہیں۔ سوات میں دہشتگردی کے واقعات سے قبل کسی حد تک کاروباری ماحول موجود تھا اور چند ایک کارخانے بھی تھے جو اب نہیں رہے۔ بہرحال وہ وقت گزر چکا اور امن کی مکمل اور مستحکم بحالی کا بھی کافی عرصہ گزر گیا لیکن اس کے باوجود محولہ قسم کی صورتحال اس امر کا غماز ہے کہ نہ تو سوات کے مقامی صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کو علاقے میں موجودہ وسائل کو بروائے کار لاکر مقامی افراد کو روزگار وکاروبار کے مواقع دلانے کی فکر ہے اور نہ ہی حکومت اس میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، وزیراطلاعات اور وفاقی وزیر مواصلات سمیت کئی عہدیداروں اور ممبران اسمبلی کا تعلق سوات سے ہے جو اگر توجہ دیں تو علاقے میں موجود وسائل کو بروئے کار لاکر لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ سوات کے مقامی افراد کو ان کے علاقے ہی میں کاروبار اور روزگار کے مواقع کی فراہمی پر توجہ دی جائے گی اور صنعت کاروں کو مراعات دیکر صنعتوں کے قیام پر راغب کیا جائے گا اور ایسا ماحول اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا کہ صنعتکار ازخود کارخانے لگانے میں دلچسپی لیں۔

لاتوں کے بھوت باتوں سے مانیں گے؟

واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی پشاور کی جانب سے عملہ صفائی کے متعلقہ ملازمین کے نام اور موبائل نمبرز کے پوسٹرز آویزاں کرے شہریوں کو اپنے علاقے کی صفائی پر مامور ملازمین سے خود رابطہ کرنے کی سہولت کی فراہمی بظاہر تو اچھی تجویز ہے لیکن اس کے کارگر ہونے کی ضمانت نہیں جو ملازمین افسران کی نگرانی میں کام چوری اور غیر حاضری کے مرتکب ہورہے ہوں ان کو عوام کے حوالے کرنے سے کیا تبدیلی آئے گی اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان ملازمین نے موبائل بند کر لئے تو پھر کیا بنے گا یا پھر کسی نے فون کر کے بد زبانی کی یا وہ باہم جھگڑ پڑیں اس کا کیا تدارک ہوگا یا پھر یہ ملازمین کوئی بہانہ تراشیں اور کسی دوسری جگہ تبدیل ہونے یا افسران بالا کی جانب سے وہاں بھجوانے کا عذر کریں تو اس کی تصدیق کیسے ہوگی۔ غرض اس سے قباحتیں زیادہ اور فوائد کی امید کم ہے۔ بہرحال اس تجویز پر عملدرآمد اور اسے آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔ شہر میں صفائی کی صورتحال کی بہتری کیلئے جو بھی ممکن اقدامات ہوں اس سے گریز نہیں کیا جانا چاہئے۔ شہر کے عملہ صفائی کو اگر لاتوں کے بھوت سے تشبیہہ دی جائے اور ان کے باتوں سے ماننے پر شک کا اظہار کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا، ممکن ہے یہ تجربہ کارگر ہو اور شہریوں کا سنگین مسئلہ کسی حد تک کم ہو اور وہ خوشگوار تجربے سے دوچار ہوں۔

متعلقہ خبریں