Daily Mashriq


مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

اگر بہت ضروری کام نہ ہو تو اب گھر سے باہر نکلنا بہت بڑی حماقت ہے، پشاور کا کوئی چوراہا ایسا نہیں ہے جہاں ٹریفک جام کے دل دکھانے والے مناظر سے واسطہ نہ پڑے۔ ہر بازار میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے، اب وہ سڑکیں اور بازار دیکھ کر دل میں ایک ہوک سی اُٹھتی ہے جہاں ہم دوستوں کیساتھ بڑے اطمینان سے گھنٹوں گھوما کرتے تھے۔ آج زندگی اس ڈگر پر لے آئی ہے کہ آج ہمارے پاس سب کچھ ہے لیکن اگر نہیں ہے تو وقت نہیں ہے۔ پہلے لوگوں کے پاس وقت ہی وقت ہوا کرتا تھا اب جسے دیکھئے سرپٹ بھاگ رہا ہے۔ شاید ہم عدیم الفرصتی کے عذاب میں مبتلا ہو چکے ہیں، اس سب کچھ کے باوجود دوستوں سے ملتے جلتے رہنا چاہئے، مل جل کر بیٹھنے اور تبادلۂ خیال کرنے سے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھنے سکھانے کا موقع ملتا ہے، اب جسے دیکھئے مسائل کا رونا رو رہا ہے۔ ہر بندہ پریشان ہے ’’یار پریشانیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں‘‘ اب یہ جملہ تو کثرت استعمال سے فیشن بن چکا ہے۔ ہماری روزمرہ کی گفتگو میں مصروفیت اور ٹینشن بہت زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا طرز زندگی ہے جس کی وجہ سے ہمارے مسائل میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ جہاں تک مسائل کا تعلق ہے تو یقینا یہ ہر جگہ ہوتے ہیں اور سب کو ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ لوگ جو آئیڈیل صورتحال کے فسانے تراشتے رہتے ہیں یہ صرف افسانے ہی ہوتے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ محمد ابراہیم ذوق نے کیا خوب کہا تھا:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

یہ دھوپ چھاؤں کا سفر ہے۔ خوشی غمی ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں، انہی ہنگاموں میں ایک دن زندگی کی شام ہوجاتی ہے بس اپنے حصے کی زندگی کو مثبت انداز سے گزارنا ہی صاحب کمال ہونے کی دلیل ہے کسی بھی مسئلے کا حل اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب اسے تسلیم کرلیا جائے! اس حوالے سے ہمارے روئیے بڑا ا ہم کردار ادا کرتے ہیں، ہم اچھی بری باتیں اپنے معاشرے سے سیکھتے رہتے ہیں ہم نے جب کبھی کسی تقریب میں شرکت کی ہمیں بڑا فائدہ ہوا، پرانے دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے، بندہ ایک دوسرے کے حال احوال سے آگاہ ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دوستوں کے مسائل سن کر انسان اپنے دکھ بھول جاتا ہے یہ ساری باتیں گھر بیٹھ کر نہیں سیکھی جاسکتیں اسی لئے نفسیات کے ماہرین ملنے جلنے میل ملاپ پر بہت زور دیتے ہیں۔ دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور اپنے ملنے جلنے والوں میں دلچسپی لینا مکمل اور بھرپور زندگی ہے۔ زندگی گزارنے یا اسے سمجھنے کیلئے مولانا احمد علیؒ فرماتے ہیںکہ قرآن پاک کا خلاصہ تین چیزیں ہیں! اپنے رب کو راضی کرو عبادت کیساتھ! آقا کریمؐ کو راضی کرو اطاعت کیساتھ! رب کریم کی مخلوق کو راضی کرو خدمت کیساتھ! عبادت رب کریم کی، اطاعت نبی کریمؐ کی، خدمت مخلوق خدا کی! یقینا یہ پورے قرآن پاک کا خلاصہ ہے ہماری پریشانیوں کی سب سے بڑی وجہ ہماری زندگی میں توازن کا نہ ہونا ہے! پریشانیاں اور مسائل تو زندگی کیساتھ جڑے ہوئے ہیں، زندہ انسان کیلئے ہی ساری مصیبتیں ہیں، ہر انسان پرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہے، سیٹ ہونا چاہتا ہے لیکن اس کی زندگی کے ماہ وسال سیٹ ہونے ہی میں گزر جاتے ہیں اور وہ سیٹ نہیں ہو پاتا! اسی کا نام زندگی ہے، عرض یہ کرنی ہے کہ سب کچھ ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے، مصیبت سے گھبرانا سب سے بڑی مصیبت ہے! بات مصیبت اور پریشانیوں کی ہو تو ذہن عوام کی طرف ضرور منتقل ہوجاتا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں اُکتائے ہوئے عوام، مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام جو سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں پاکستانی کرنسی کی قدر روزبروز گرتی چلی جارہی ہے۔ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔ زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جارہی ہے، مختار مسعود اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’آوازدوست‘‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ہمارے زوال کی ساری وجوہات کو اکٹھا کیجئے تو صرف ایک وجہ بنتی ہے یعنی ملک میں اتفاق اور یکجہتی کا فقدان! تاریخ اقوام عالم اُٹھا کر دیکھ لیجئے جب کسی معاشرے میں انصاف کی پاسداری نہیں کی جاتی عوام کو سستا انصاف گھر کی دہلیز پر فراہم نہیں کیا جاتا تو پھر اس معاشرے کی سلامتی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن جایا کرتی ہے۔ ہم مروت ورواداری سے بہت دور ہوچکے ہیں، مکالمہ ختم ہوچکا ہے، احترام آدمیت ناپید ہے، دوسروں کی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی ہمارے خیالات سے متفق نہ ہو تو اس کا وجود ہمارے لئے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ کسی سیانے کا کہنا ہے کہ جب ناخن بڑھ جاتے ہیں تو انگلیوں کو نہیں کاٹا جاتا بلکہ ناخن ہی کاٹے جاتے ہیں، اسی طرح جب غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں تو رشتے نہیں ختم کئے جاتے بلکہ غلط فہمیوں کو ختم کیا جاتا ہے لیکن آج اپنے اردگرد کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ رشتے ختم ہورہے ہیں۔ غلط فہمیاں روزبروز بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔ اتحاد واتفاق کے حوالے سے کوئی سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتا، سب نفاق کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کہتے ہیں دوست دوست کا آئینہ ہوتا ہے اگر ہم مثبت تنقید بھی برداشت نہیں کرسکتے تو پھر ہماری اصلاح ناممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ جو غلطیاں ہم میں پچھلے ستر برسوں سے پائی جاتی ہیں وہ اپنی جگہ اتنی مستحکم ہوچکی ہیں کہ اب ان سے پیچھا چھڑانا ہمارے لئے بہت مشکل ہوچکا ہے۔

متعلقہ خبریں