Daily Mashriq


 وزیراعظم صاحب! قوم کی تعریف کے چند لفظ کہئے

وزیراعظم صاحب! قوم کی تعریف کے چند لفظ کہئے

پاکستان کیلئے ایک نئی صبح طلوع ہورہی ہے۔ ایک ایسی صبح جس میں پاکستان کو عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جارہا ہے۔ ایک طویل عرصے سے پاکستان اپنے حکمرانوں کی بدعنوانی اور کم علمی کے باعث سایوں میں رہا ہے۔ اب دن بدل رہے ہیں، شاید پہلی بار بھارت کا منفی پراپیگنڈا پاکستان کیخلاف کارگر ثابت نہیں ہوا۔ بھارت نے پوری کوشش کی لیکن پاکستان کو اس طور بدنام نہ کرسکا جیسی اس کی خواہش تھی۔ اب کی بار رب العالمین کی بھی بڑی رحمت رہی پاکستان جس جنگ میں شامل ہی نہ ہونا چاہتا تھا وہ کسی صورت پاکستان پر طاری نہ کی جاسکی۔ بھارتی طیارے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے لیکن کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور پاکستان جوابی کارروائی میں ابھی نندن نام کی ٹرافی اُٹھا لایا۔ بات صرف اسی حد تک ہی موقوف نہ رہی سفارتی سطح پر بے شمار فتوحات پاکستان کے حصے میں رہیں۔ اس سے پہلے کہ اقوام عالم کی جانب سے پاکستان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ آتا، پاکستان نے جنگ کے حوالے سے اپنے ارادوں کے اظہار کے طور پر ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کر دیا۔ بھارت کو کئی محاذوں پر اخلاقی شکست کا سامنا کرنا پڑا جس نے پاکستان کے کردار کو اور بھی مثبت طور پر دنیا کے سامنے اُجاگر کیا۔ اگرچہ میں سمجھتی ہوں کہ شاکراللہ کی موت کو پاکستان کے مفاد میں بھرپورطور پر استعمال نہ کیا جا سکا اور اس حوالے سے ہماری سفارت کاری ذرا کمزور دکھائی دی لیکن عمومی طور پر پاکستانی سفارت کاری بہت اعلیٰ نہج پر اپنا کردار ادا کرتی دکھائی دی۔ پاکستانیوں کو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اللہ کی مدد اس بار ان کے معاملات میں شامل حال تھی۔

اس وقت معیشت کے اعتبار سے پاکستان کے معاملات خاصے دگرگوں دکھائی دیتے ہیں لیکن کمال بات یہ ہے کہ پاکستانیوں میں مایوسی دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے اپنے معاملات کو برداشت کرنا سیکھ لیا ہے۔ جنگ کے شور شرابے کو بھی عوام مذاق میںٹالتے رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے بھارتی عوام کو بھی ابتداء میں جنگی جنون میں مبتلا کردیا تھا۔ سوشل میڈیا پر یہ جنون واضح دکھائی دے رہا تھا لیکن پاکستانیوں کی جانب سے کمال حس مزاح کا مظاہرہ ہوتا رہا۔ بھارتی جہاز جب اپنا پے لوڈ گرا کر واپس اپنی سرحدوں کی طرف بھاگے تو پاکستانیوں نے اس بات کو بھی مزاح کا منبع بنا لیا۔ سوشل میڈیا پر کتنے ہی جملے کسے جاتے رہے۔ کسی نے پیغام بھیجا نہایت افسوسناک خبر 45فوجیوں کا بدلا لیتے ہوئے انڈیا نے ہمارے دو چیڑ کے درخت مار گرائے، ایک صاحب نے لکھا کہ ’’پہلے سبزیکل سٹرائیک کے بعد، اب پیش خدمت ہے درختکل سٹرائیک‘‘۔ ہم ہنستے رہے اور ہماری حکومت نے کمال ہوشمندی کا مظاہرہ کیا۔ اس جنگ کی ہمیں کسی طور ضرورت نہیں تھی اور ہم اس جنگ سے صاف بچ نکلے اگرچہ اس میں امریکہ نے ہماری مددکی۔ عین وقت پر امریکہ کی بھارتی سرزنش نے معاملات کوہمارے لئے ایک احسن موڑدیدیا۔ امریکہ جانتا تھا کہ طالبان کیساتھ جس مذاکرات میں پاکستان نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اگر اس میں پاکستان کا عمل دخل ذرا بھی کم ہوا تو معاملات دوبارہ خراب ہوسکتے ہیں۔ ان معاملات کو درست طور پر اپنے منطقی انجام تک پہنچانا، پاکستان سے کہیں زیادہ امریکہ کیلئے ضروری تھا۔ پاکستان کے کردار کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے امریکہ نے اس وقت پاکستان سے دوستی خوب نبھائی اور معاملات ابتری کا شکار ہونے سے بچ گئے اور جس امریکی بیڑے کے ہم1965ء جنگ سے منتظرتھے وہ اب آن پہنچا۔

لوگوں کی حس مزاح کا عالم تو یہ تھا کہ جس بھارتی پائلٹ کو گرفتارکیا گیا تو لوگ سوشل میڈیا پر پنجاب پولیس کے کردار کو بھی نشانہ بناتے رہے۔ کسی نے کہا کہ بھارتی پائلٹ شکر کرے کہ پنجاب پولیس کے ہتھے نہیں چڑھ گیا ورنہ ابھی تک اس نے چار مجاں تے دو موٹر سائیکل دی چوری لینی سی‘‘ میں سمجھتی ہوں کہ اس سارے مسئلے میں لوگوں نے بھی، عوام نے کمال ذہنی بلوغت اور سمجھ داری کا ثبوت دیا۔ میڈیا نے بھی بہت مثبت کردار ادا کیا۔حکومت کا کرداربھی جرأتمندانہ اور صلح جو تھا۔ معاملات کی بہتری میں فوج کے کردار سے بھی کسی صورت انکار ممکن نہیں۔ پھر اپوزیشن جماعتوں کا کردار بھی بے شک داد وتحسین کے لائق ہے۔ پاکستانی قوم نے مجموعی طور پر نہایت مثبت کردار ادا کیا جس پر ساری قوم ہی تحسین کی مستحق ہے۔ جس طور وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کے پاکستان سے جانے کے بعد بھارتی جنگی جنون کے جواب میں قوم سے خطاب کیا تھا ایک بار پھر انہیں تحسین کے چند الفاظ لئے قوم سے خطاب کرنا چاہئے تاکہ ملک میں ایک مثبت احساس جنم لے۔ تبدیلی تو واقعی آگئی ہے ایک مثبت اقدام اور سہی تعریف کے چند الفاظ اس قوم کے کردار پر تو بنتے ہیں۔

متعلقہ خبریں