Daily Mashriq


قبائلی علاقہ جات میں اعلیٰ عدالتوں کا قیام

قبائلی علاقہ جات میں اعلیٰ عدالتوں کا قیام

انضمام شدہ قبائلی علاقہ جات میں سوموار کے روز سے جوڈیشل افسران اپنے فرائض سنبھال چکے ہیں۔ یہ دن قبائلی علاقوں کے عوام کیلئے ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ اس دن کیلئے اُنہوں نے چند طاقتور عناصر کی بے پناہ مخالفت کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی اور اسی کے نتیجے میں بالآخر متنازعہ فرنٹیئر کرائم ریگولیشن اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کا دائرۂ اختیار ان قبائلی علاقوں تک وسیع ہونے پر یہاں کے عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ ان کیلئے یہ ایک اُمید کی کرن ہے کہ اب اُنہیں ماضی کی طرح اس بات کا ڈر نہیں رہے گا کہ انہیں کسی اور کے کئے گئے جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ ماضی میں یہاں کسی ایک فرد کے جرم کی پاداش میںسارے قبیلے کو خمیازہ بھگتنا پڑتا تھا البتہ اب یہاں کے عوام ایسے کسی بہیمانہ اقدام سے محفوظ رہ سکیں گے۔ قانون کی بالادستی سے یہاں اب کوئی کسی کی جائیداد یا زمین بہ زوربازو نہیں چھین پائے گا اور قدیم قبائلی تنازعات کا بھی حل نکلنے کی اُمید کی جا سکتی ہے۔ بلاشبہ قبائلی عوام نے اس سے پہلے خاصا کڑا وقت دیکھا ہے البتہ اب یہ ان کیلئے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔اس اقدام کا سہرا پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب وقار احمد کو جاتا ہے کہ ان کے اس تاریخی فیصلے سے قبائلیوں کا اپنے ساتھ بارہا کئے گئے وعدوں پر اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ اس فیصلے کی بدولت ہمیشہ ان کے ممنون رہیں گے۔ ابتدائی طور پر ہر قبائلی ضلع میں ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور دوایڈشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ رفتہ رفتہ سول ججوں اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی تعیناتیاں بھی عمل میں لائی جائیں گی۔ تقریباً دو ہفتے قبل صوبائی حکومت کی جانب سے ضلعی عدالتوں کیلئے 907نئی آسامیوں کا اعلان کیا گیا تھا البتہ چونکہ ان آسامیوں پر تعیناتیوں اور نئے اہلکاروں کی تربیت کیلئے کچھ وقت درکار ہے، سو قبائلی علاقوں کی ضرورت فوری طور پر پورا کرنے کیلئے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے بڑے پیمانے پر ترقیاں کی گئیں اور ساتھ ہی ساتھ صوبائی حکومت کو درکار اضافی اخراجات کیلئے بجٹ کا تخمینہ بھی دیدیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام متعلقہ محکموں کو یہ ہدایت جاری کی گئی ہے وہ اس ضمن میں کسی بھی زیرالتوا معاملے کی رپورٹ فوری طور پر ضلعی عدالتوں کے سیکرٹیریٹ میں قائم کردہ خصوصی سیل میں جمع کرائیں تاکہ ان پر جلد ازجلد کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کا کہنا ہے کہ انضمام شدہ علاقوں میں عدالتوں کے باقاعدہ قیام اور آمد ورفت کے انتظام کیلئے چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے اور تب تک تمام جوڈیشل افسران عارضی بنیادوں پر ملحقہ اضلاع سے ہی اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔ خیال یہ کیا جاتا تھا کہ قبائلی علاقوں کے انضمام سے متعلق اصلاحات پر مکمل طور عمل درآمد نہیں ہو سکے گا کہ اس سے کچھ طاقتور عناصر کے مفادات کو خطرہ ہے اور اسی باعث وہ ان اصلاحات میں رخنے پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ ان خدشات نے سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے برقت اور موزوں فیصلوں کے باعث جلد ہی دم توڑ دیا۔ گزشتہ حکومت کی جانب سے تجویز کردہ فاٹا انٹیرم گورننس ریگولیشن برائے سال2018 کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے قبائلی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ان تمام اقدامات کے باوجود سٹیٹس کو کی حامی قوتیں اب بھی سرگرم ہیں۔ وہ انضمام کی بجائے ایک الگ صوبے کا قیام چاہتی ہیں اور اس کیلئے ان کی جانب سے خاصہ داروں اور ملکوں کو بھی مسلسل ورغلایا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان عوام دوست اصلاحات کی بجائے پرانا جرگہ سسٹم ہی جاری رکھتے ہوئے ان اضلاع کو پولیس کے دائرۂ اختیار سے خارج رکھا جائے۔گورنر ہاؤس میں ہونے والے صوبائی انتظامیہ کے ایک اجلاس میں ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے بھی ان علاقوں میں جرگہ سسٹم اور لیویز کے اختیارات کو قائم رکھنے کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔ کچھ ایسے ہی قانون کی تجویز آخری ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی سامنے آئی جس کے مطابق لیویز فورسز کو آئی جی پولیس کے دائرۂ اختیار سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کہا جارہا ہے کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کے غیرروایتی انداز میں تبادلے بھی اسی فیصلے سے اختلاف کے باعث کئے گئے کہ ان کے مطابق یہ اقدام سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو کیخلاف ہوگا۔اس تمام مزاحمت کے پیچھے اصل وجہ لیویز کو ڈپٹی کمشنر کے زیراختیار کام کرتا رکھنے کی خواہش ہے اور اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے طرح طرح کی تجاویز سامنے آرہی ہیں۔ ان میں فاٹا انٹیرم گورنمنٹ ایکٹ کو دوبارہ نافذ کرنے، قبائلی علاقہ جات کو بلوچستان کی طرز پر ’’اے‘‘ اور ’’بی‘‘ کیٹگری میں تقسیم کرنے اور پولیس کو دس سال کے لمبے عرصہ کے دوران آہستہ آہستہ لیویز کی جگہ لانے جیسی تجاویز شامل ہیں مگر سٹیٹس کو کے حامی افسران اور انتظامیہ اس بات سے نابلد ہے کہ اگر ایک فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بجائے کسی نہ کسی صورت چلتے رہنے دیا جائے تو ایسے میں وہ قوتیں پنپنے لگتی ہیں جو اس نظام کے سقموں کو اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے استعمال کرنے لگتی ہیں اور وقت آنے پر ہر قسم کی اصلاحات یا تبدیلی کی مخالفت اور مزاحمت میں سامنے آجاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے فروتر ذاتی مفادات کے تحفظ کی بجائے اب ملک وقوم کی خاطر آگے بڑھا جائے اور ان علاقوں کے انضمام کو نہ صرف خوشدلی سے قبول کیا جائے بلکہ ان کے استحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار بھی ادا کیا جائے۔وزیراعظم عمران خان کو بھی صوبہ خیبر پختونخوا کے معاملات پر کڑی نظر رکھنا ہوگی اور انہیںکسی بھی مفاد پرست قوت کو صوبے کے عوام کی تقدیر سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے۔

(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں