Daily Mashriq


چھوکے دیکھا تو ہاتھ جلنے لگے

چھوکے دیکھا تو ہاتھ جلنے لگے

کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے ہم نے اپنے کالم میں رو رو کر کہا تھا کہ اگر سعودی عرب اور ملیشیا جیسے مسلم ممالک میں منشیات کے سمگلروں یا منشیات فروشوں کو موت کی سزا دی جا سکتی ہے تو ہمارے ملک میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔ ہمارے نوجوانوں کو زندہ درگور کرنے والے موت کے ان سوداگروں سے قتل کا بدلہ قتل کیوں نہیں لیا جاتا۔ اندھے قانون کے لمبے ہاتھ ان کی گردنوں کو کیوں نہیں دبوچ پاتے۔ ہماری یہ فریاد ان سینکڑوں بے بس بہنوں بیٹیوں دلہنوں اور ان کے لاچار والدین کی بلکتی صدا بن کر نوک قلم پہ آئی اور

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

کے مصداق بہت جلد نتیجہ خیز ثابت ہوگئی جس کے زیراثر ہم بے اختیار ہوکر دہائی ہے سرکار دہائی ہے کی بجائے بدھائی ہو سرکار بدھائی ہو کا ترانہ الاپنے لگے اور چشم تصور میں سینکڑوں کشتہ گان ستم سے گلے مل مل کر کہنے لگے کہ مبارک ہو۔ بدھائیاں دو، اچھلو کودو ناچو گاؤ، بھنگڑے اور دھمال ڈالو، مٹھائیاں تقسیم کرو، شیرینیاں بانٹو، اگر ایسا کرنا بدعت ہے تو سجدہ شکر بجا لاؤ۔ اے منشیات زدہ بچوں کی زندہ لاشوں کا ماتم کرنے والے یتیم بچو، ان کے گھر دلہن بن کر آنے والی نصیب جلی بیواؤ، اُجڑی کوکھ کا رونا رونے والی ماؤں، آپ کی آہ نے اثر کر دکھایا کیونکہ بہت بڑی اور خوش کن خبر آئی ہے آپ سب کیلئے جو اخبارات کے اولین صفحے پر جلی حروف سے شائع ہوئی ہے کہ منشیات کا کاروبار کرنے والوں کیلئے سزائے موت کا قانون تیار کر لیا گیا۔ یہ خبر پڑھ کر ہم پھولے نہ سمائے اور جب ہم یہ خبر سنانے ایک منشیات زدہ بیٹے کے ستم مارے مایوس باپ کے پاس یہ سوچ کر پہنچے کہ وہ یہ خبر سنتے ہی اچھل پڑے گا اور اپنی پتھرائی ہوئی آنکھوں کے خشک آنسو پونچھ کر راقم السطور کے گلے لگ جائے گا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوا، بڑا جہاں دیدہ تھا وہ غم زدہ باپ، اس نے اس خبر کو بڑے غور سے سنا اور پھر مایوسی سمندر کے گہرے پانیوں میں ڈوب کر اُبھرنے کے بعد اس کے خشک ہونٹوں پر دکھ بھری مسکان پھیل گئی جس نے نہایت طنزیہ لہجے میں مجھے مخاطب ہوکر کہا، قانون تو ٹوٹنے کیلئے بنتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں اس کی اس بات کی تہہ تک پہنچ پاتا اس نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قانون کا بننا یا تیار ہونا الگ معنی رکھتا ہے جبکہ قانون کو لاگو کرنا یا اس کی عملداری قائم کرنے کے کچھ اور معنی لئے جاتے ہیں۔ اس نے ٹھنڈی آہ بھر کر بتایا کہ ہمارے ملک میں آئین بھی موجود ہے اور قانون بنانے کی فیکٹریاں بھی اپنی پیداوار میں دن دونی رات چونی اضافہ کرتی رہتی ہیں۔ ہماری قانون ساز اسمبلیاں قانون بناتی ہیں لیکن پوچھنا یہ ہے کہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی روش ختم کیوں نہیں ہوتی، بھلا گوشت کی رکھوالی کبھی کوئی بلی کر سکتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر خود قانون کی دھجیاں نہ اُڑائیں تو بھلا کب چل سکے موت کی سوداگری کا یہ دھندہ۔ کہنے کو تو کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہئے لیکن یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر، قانون کے لمبے ہاتھ کمزور ناتواں اور غریب لوگوں کی گردنوں ہی کو دبوچتے ہیں جنہیں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے علاوہ سالہا سال تک سچے جھوٹے مقدموں کی پیروی کے اذیت ناک مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں، وہ مہنگا انصاف نہ خرید نہ سکنے کی پاداش میں جرم ناکردہ کی سزا بھگتے بھگتے مرگ مفاجات کو گلے لگا لیتے ہیں۔ خوش آئند خبر ہے منشیات کیخلاف قانون کے تیار ہونے کی مگر اسے قانون ساز اسمبلیوں سے منظور کروانے کے مرحلے ابھی باقی ہیں۔ اس کے بعد ہر قانون، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں کا کھلونا بن جاتا ہے، دکانیں سج جاتی ہیں، وکیل اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں میں سے ایک نام ہے لیکن ہمارے ہاں وکالت ایک مقدس پیشہ ہے، حق اور انصاف کے حصول کیلئے مہنگے سے مہنگا وکیل پکڑنے کی اصطلاح عام استعمال ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اپنے ماتھے پر نرخ نامہ سجائے مصر کے بازار میں کوڑیوں کے بھاؤ بکتے دکھائی دیتے ہیں ماہرین قانون۔ اللہ بچائے ہسپتالوں اور تھانہ کچہریوں کے چکر سے، کتنی پتے کی باتیں کر رہا تھا وہ منشیات زدہ بیٹے کا ستم رسیدہ باپ، ترس آنے لگا اس بھولے باچھا کے کڑوا سچ اُگلنے کے اس انداز پر لیکن اس سے بڑا بھولا باچھا تو میں خود ثابت ہونے لگا جب

ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

کی قسم پوری کرنے بیٹھ گیا۔ یہ بھی نہ سوچا کہ اس طرح ہم توہین عدالت کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔ رات کے بارہ بجے کا وقت تھا جب ہم سوچ سمندر کے پاتال میں بیٹھے یہ باتیں لکھ رہے تھے۔ ایسے میں ہمیں اپنے منشیات زدہ لخت جگر شہبازعلی کے موٹر بائیک سٹارٹ کرنے کی آواز آئی، ہم چونک کر اپنے خلوت کدے سے نکلے، شہباز کی ماں سے پوچھا کہ کہاں گیا ہے یہ مردود رات کے بارہ بجے اپنا موٹرسائیکل سٹارٹ کرکے۔ اس نے موبائل پر کسی سے بات کی اور پھر نکل گیا ’آئس خریدنے‘۔ شہباز کی تتڑی ماں سے یہ سلگتی بات سننی تھی کہ آئس پڑ گئی میری خوشیوں کی اس پھوار پر جو ایک خبر بن کر اُتری تھی دل پژمردہ کے نہاں خانے میں

اس کے لہجے میں برف تھی لیکن

چھوکے دیکھا تو ہاتھ جلنے لگے

متعلقہ خبریں