Daily Mashriq


ڈان لیکس کامعاملہ، طے یا تحلیل

ڈان لیکس کامعاملہ، طے یا تحلیل

وزیر اعظم محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات میں ڈان لیکس پر معاملات حل ہوئے ہیں یا نہیں اس کا اندازہ آگے چل کر ہوگا فی الوقت اتنا ہی نظر آتا ہے کہ یہ معاملہ طے کر دیا گیا ہے ۔ تاکہ اس پر مزید بحث مبا حثہ نہ ہو اور ملک میں آمنے سامنے والی صورتحال کے تاثرات کا مزیدموقع باقی نہ رہے ۔ سیاست میں ایک کھڑ کی ہمیشہ کھلی رکھنے کا طریقہ کار رائج ہے تو دفاعی حکمت عملی کے تحت ایک قدم واپسی بھی حکمت عملی ہی ہوتی ہے ۔ ہمارے تئیں ایک جانب جہاں رازداری نہ برتنے کی غلطی کی گئی تو دوسری جانب حدود کی سہوسے معاملہ برابر کر دیا گیا موخر الذکر عمل ہی نے بند گلی کی اینٹیں اکھاڑ نے کی راہ سجھادی اور نہ صر ف تیز ہوا کا دبائو کم ہوا بلکہ طوفان میں کھڑا ہونے کا حوصلہ بھی ملا ورنہ دیوار کے گر جانے یا ستون کے ڈھے جانے کا امکان کھائی دے رہا تھا دل کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا شام گیا کا ذہن بنانے والوں کے مرنے کی تیاریوں کا دھر ے کا دھرا رہ جانے سے سیاسی منفعت کا جو خون ہوا اس سے بھی انکار ممکن نہیں فی الوقت یہ معاملہ فضا میں محو پرواز تو قفاً ساکت طیورپرندے کے مشابہ معاملہ ہے سادہ لفظوں میں نہ کسی کی جیت ہوئی ہے نہ کسی کی ہار ۔ اگر اخلاص شامل رہا اور طوفانی بگولے نہ اٹھے تب ہی قرار دیا جا سکے گا کہ ڈان لیکس کا تنازعہ خوش اسلوبی سے طے پا چکا قومی و ملکی مفاد میں ہونا بھی ایسے ہی چاہیئے ۔ بعض معاملات میں قصور وار کو قصووار گردانے بغیر ہی پنچائت اٹھا دینا ہی صائب فیصلہ ہوا کرتا ہے بشرطیکہ کوئی فریق باہر جا کر زوربازو نہ آزمائے ہم سمجھتے ہیں کہ راز داری نہ برتنے کی غلطی اتنا سنگین معاملہ نہ تھا اگر سیدھے سادھے طریقے سے اسے حل کرنے کی سعی ہوتی اور دائو پیچ نہ آزمائے جاتے یہ تو ایک اعتراف سے معاملہ نمٹ جاتا یا پھر زیادہ سے زیادہ ایک sorryکہنے کی حد تک معاملہ رہتا لیکس کا معاملہ اس وقت ہی سنگین ہوگیا جب یہ دراڑ اور خلیج بن گئی اور لیکس کی نمی سے قومی ستون سیم زدہ ہوگئی حکومت اور فوج کے آمنے سامنے آنے کا تاثر پیدا ہوا تعلقات کی نوعیت اگر ظاہری طور پر نہ بھی بدلی ہوتو رویے کی سرد مہری تو دیکھنے والی نہیں محسوس کرنے والی بات تھی ۔ ہمارے تئیں اگر قلب واذہان پر شبنم گری ہوتو قطرہ انفعال کے موتی بیش قیمت گردانے جاتے ہیں ورنہ اوس کی بھی ہیت زیادہ مختلف نہیں ہوتی ۔ بہر حال آنے والا وقت بہت سے سوالات اور بہت سے خدشات کا زبان حال سے جواب دے گا مگر فی الوقت تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کی آس قبل از وقت ہوگا اسے بد قسمتی ہی گردنا جائے گا کہ ایک سیدھے سادھے معاملے سے سیاسی امیدیں وابستہ کر لی گئیں اور سنجیدہ نوعیت کے معاملے کو سیاست کی سیاہ بھٹی میں جھونک کر کچھ کا کچھ کر دیا گیا جس سے ہر کوئی اپنے مقصد کا مطلب نکالنے کا متلا شی ہوا اور معاملہ اس قدر بگڑ ا کہ اس پر مفاہمت ہی قومی مجبوری بن گئی ۔وگر نہ ہاتھی کے اٹھتے قدموں کے سامنے چٹان ہی سدراہ ہو پاتی ہے یا پھر وہ نرم چکنی مٹی جس پر ہاتھی پھسل تو سکتا ہے اس کو پوری طرح کچلنے کی طاقت اس میں بھی نہیں ہوتی ۔ ہم توقع تو رکھتے ہیںکہ ڈان لیکس کا معاملہ بحث و مباحثہ کے بعد خوش اسلوبی اور شرح صدر کے ساتھ حل ہوچکا ہوگا پاک فوج اور حکومت کے درمیان غلط فہمی دور ہو چکی ہوگی اور کھلے دل اور صاف ذہن و قلب کے ساتھ تو ملکی یکجہتی و عظیم ترقومی مفاد کے لئے دونوں یک جان دو قالب ہو کر قوم کے اطمینان کا باعث بنیں گے ۔ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے بلکہ اس ضمن میں کچھ دکھاوا کی بھی اس لئے ضرورت ہوگی کہ اس کے بغیر نا طقین و ناقدین کی غلط فہمی دور نہیں ہو سکتی اس نازک صورتحال کو جن جوانب سے تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کا جو سنہری موقع گردانا گیا تھا ان کو اب مایوس کن پیغام بھی ملنا چاہیئے ۔ ہم سب کا مفاد اسی میں ہے کہ فضائو ں سے دل دل پاکستان جان جان پاکستان کا نغمہ سنائی دے ۔ وردی پوش ہوں یا سیاستدان حکمران ہوں یا رعایا اس مٹی کا قرض ہر ایک کے ذمے واجب الادا ہے اور یہ قرض محبت ایثار اور قربانی کا قرض بھی ہے اور فرض بھی ہم اپنا فرض نبھا کر ہی یہ قرض اتارسکتے ہیں ارض وطن کو ضرورت پڑے تو دھرتی گلنار کرنے کو تیار بیٹھے ہیں دشمن کو کتنی بار کر چکا تو امتحان ہمارا ۔ ہمیں بحیثیت قوم آگے بڑھنا ہے اور اس وقت ہم سی پیک کی شاہراہ پر پوری رفتار سے سفر کی تیاریوں میںہیں اس خاص وقت میں کسی سپیڈ بریکر کی بالکل بھی گنجائش نہیں ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ یہ باب مستقلاً بند ہو چکا ہے اور اس میں کوئی روزن اور دریچہ باقی نہیں رہا ۔اس باب کو نہ صرف بند کیا جائے بلکہ اس باب کے سامنے ایک ایسی دیوار بھی حائل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی اسے پار نہ کر سکے اس پر زقند نہ ڈال سکے کسی کو اس غار کے دہانے پر روشنی کی کرن پھر نظر نہ آنے لگے یہی قومی مفاد اور قومیت کا تقاضا ہے قوموں کی زندگی میں اس طرح کے مسائل ابھرتے اور نمک کی طرح پانی میں گھلتے جاتے ہیں قومی مفا د کے دریامیں تحلیل ہوتے جاتے ہیں چٹکی بھر نمک ڈالنے سے اس کا پانی کھارا نہیں ہوا کرتا ۔

متعلقہ خبریں