Daily Mashriq

احسن مشاورت

احسن مشاورت

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی جانب سے رمضان یا عید کا غیر سرکاری طور پر اعلان کرنے والے خطیب یا امام مسجد کو ایک سال قید اور 2سے 5لاکھ روپے جرمانہ کرنے کی سفارشات ملک بھر میں ایک ہی دن روزہ رکھنے اور عید منانے کو یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ اور قابل قدر اقدام ہے ۔احترام رمضان ترمیمی بل 2017اور رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو سے متعلق سفارشات کی مخالفت نہیں کی جاسکتی شکایات اور اعتراضات کے ازالے کیلئے یہ تحریر نہایت احسن ہے کہ کمیٹی کا دورانیہ تین سال کیلئے ہو اور کمیٹی کا چیرمین بھی تین سال کیلئے نامزد ہو اور ہر صوبے کو موقع دیا جائے ۔کمیٹی کے ایک رکن کی یہ تجویز بھی صائب ہے کہ چاند نظر آنے کی پیشگوئی کی بھی ممانعت ہونی چاہیئے اور بہتر ہوگا کہ ماہرین بھی کسی عوامی فورم پر اپنی رائے کا اظہار نہ کریں تاکہ ہیجان کی کیفیت پیدا نہ ہو اور عوام یکسوئی کے ساتھ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کریں ۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین اور ممبر ان کی اہلیت اور عہدے کی مدت مقرر کرنے سے ان شکایات کا بھی ازالہ ہوگا جس سے قبل ازیں صرف نظر ممکن نہ تھا ۔
ادارہ جاتی پریکٹس کی کامیابی کیسے ممکن ہوگی ؟
خیبر پختونخوا حکومت کا تدریسی ہسپتالوں میں ادارہ جاتی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کو الائونس دینے کی تجویز سے اتفاق اور ادارہ جاتی پریکٹس کی فیسیں مارکیٹ سے کم رکھنے کا حکم ایک ایسا عملی قدم ہے جس پر ادارہ جاتی پریکٹس کی وقتی حوصلہ افزائی اور مستقبل میں اس کی کامیابی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بہترمنصوبہ بندی ہے لیکن اسے کامیابی کی کلیدی کے طور پر متعارف کرانے کی غلطی نہ کی جائے کیونکہ جو سنیئر ڈاکٹرز اس وقت ہسپتالوں سے باہر کامیاب پریکٹس کر رہے ہیں حکومت خواہ مراعات دے یا سخت تعزیر کا اعلان کرے ان کا ٹس سے مس نہ ہونا یقینی ہے کیونکہ وہ حکومت کے ہم پلہ با اثر مضبوط اور دائو پیچ کی سمجھ رکھتے ہیں سادی سی بات ہے اعلیٰ گریڈ او رعہد وں کے پروفیسروں کی پریکٹس اتنی ہوتی ہے کہ ان کو حکومتی مراعات سے لچایا نہیں جا سکتا دوم یہ کہ ان کوتعزیر کا کوئی ڈر نہیں حکومت جو بھی قدم اٹھائے گی ۔ عدالتوں سے رجوع کرنا ان کیلئے کوئی مسئلہ نہیں بالفرض محال حکومت اگر ان کو بر طرف کرنے کا انتہائی اقدام اٹھا نا چاہے تو قوانین و ضوابط کے جھمیلوں میں ایسا کرنا بھی ممکن نہیں ایسے میں موزوں راستہ یہی ہوگا کہ حکومت ان کا متوازی طو رپر بالحکمت مقابلہ کرنے کیلئے رجسٹر ارز اور زیادہ سے زیادہ اسسٹنٹ پروفیسروں کی ادار ہ جاتی پریکٹس کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ آگے چل کر یہ لوگ باہر پریکٹس کی بجائے ادارہ جاتی پریکٹس ہی سے وابستہ رہنے کو ترجیح دیں اس سے ڈاکٹروں کے ڈیوٹی کے اوقات میں تعجیل کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور وہ ہسپتالوں میں موجود گی کو سہولت خیال کرنے لگیں گے ۔ ادارہ جاتی پریکٹس کی کا میابی کیلئے فیسیں کم رکھنے کا اقدم مریضوں کو ہسپتال لانے کی حوصلہ افزائی اور عوام کو سہولت کی فراہمی کا باعث ہوگا جو کہ مستحسن امر ہے ۔
ضلع ناظم کا پر حکمت فیصلہ
ضلع ناظم چترال کی جانب سے ،پولو ٹورنامنٹ کی منسوخی حالات کے بہتر ادراک عوامی جذبات و احساسات کومحسوس کرنا اور ان کا احترام کرنا ہے ۔ بلاشبہ چترال میں پولو مقبول عام کھیل ہے اور ضلع بھر کے عوام یکساں طور پر اس کے شائق ہیں ۔ پولو سے محبت چترالیوں کے خون میں ضرورشامل ہوگا مگر عقید ے اور عقید ت میں نہیں ۔ چترال کو اب پر امن علاقہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیئے بھر ے بارود کی بو سونگھنے کیلئے قوی شامہ کی ضرورت ہوتی ہے جس کی ہر کس و ناکس سے توقع عبث ہے ۔ چترالیوں کو من حیث المجمو ع پر امن مہذب شائستہ اور پر خلوص سمجھنا غلطی نہیں لیکن غلطی یہ ضرور ہے کہ ان کی اس کیفیت کو بھلا دیا جائے جو اچانک طاری ہوتی ہے ۔ ماضی میں جھانک کر دیکھا جائے تو مثال کی تلاش مشکل نہیں اور اگر حال ہی کے واقعے کے تناظر میں بھی دیکھا جائے تو عوام کے قوت برداشت کا بخوبی مشاہدہ ممکن ہے ۔ اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ چترال اب صرف قدیم چترالی باشندون کا ضلع نہ رہا دوم یہ کہ یہاں کی نوجوان نسل چترالی کی بجائے چترالی نژاد ہی گردانا جانا چاہیئے پولو کے شائقین اور خصوصاً پولو کے کھلاڑیوں کے جذبات کی قدر اپنی جگہ ان سے گزارش ہو سکتی ہے کہ اس پولو ٹورنامنٹ کا انعقاد کسی مناسب موقع پر ہو سکتا ہے اور ہونا بھی چاہیئے فی الوقت اسے مصلحت کا تقاضا گردانا جائے یا انتظامی ضرورت یا پھر عوامی جذبات و احساسا ت کا ادراک و احترام فی الوقت اسے ملتوی کرنا ہی بہتر تھا ضلع ناظم کا اقدام بر وقت موزوں اور عوامی نمائندگی کے حق کی ادائیگی گردانا جائے یا مجبوری اسے مختلف نام دیا جا سکتا ہے جس کی تائید موقع شناسی ہوگی ۔

اداریہ