''ڈان لیکس'' انکوائری رپورٹ اور آزادیٔ صحافت

''ڈان لیکس'' انکوائری رپورٹ اور آزادیٔ صحافت

صبح کو اخبار دیکھے تو اپنی یادداشت کے بڑھاپے کے زیرِ اثر کمزور ہونے کا احتمال قوی محسوس ہونے لگا۔ لیکن رات کو ایک ٹی وی چینل پر ایک جھلک اس تصویر کی ضرور دیکھی تھی جس میں امریکہ کے پاکستان میں سفیر ڈیوڈ ہیل روزنامہ ''ڈان'' کے اعلیٰ انتظامی یا ادارتی ذمہ دار کے ساتھ کھڑے تھے اور یہ بیان نشر ہو رہا تھا کہ سفیر موصوف نے روزنامہ ڈان کے آزادیٔ صحافت کے کردار کو سراہا۔ اس سے پہلے سہ پہر سے سارے ٹی وی چینلز پر فوج کے تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کی طرف سے ''ڈان لیکس'' انکوائری رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم کے دفتر سے جاری کیے جانے والے حکم نامے پر جاری کیے ہوئے ٹویٹ کو واپس لینے کا ذکر تھا۔ اور کہا جارہا تھا کہ اس ٹویٹ سے پیدا ہونے والا معاملہ طے پا گیا ہے یا حل کرلیا گیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ تو ڈان لیکس انکوائری کمیشن کی رپورٹ سے متعلق تھا۔ جس کے بارے میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وزیر اعظم کو پیش کیے جانے کے بعد یہ رپورٹ عام مشاہدے کے لیے شائع کر دی جائے گا۔ لیکن شائع کیے جانے کی بجائے اس پر وزیر اعظم کے دفتر سے ایک حکم نامہ جاری کرنے پر اکتفا کیا گیا جس پر فوج کے محکمہ تعلقات عامہ نے متذکرہ ٹویٹ جاری کیا تھا جو بارہ دن کے بعد اب انہوں نے واپس لے لیا ہے۔ فوج اور سویلین حکومت اس بات پر متفق ہے کہ معاملہ طے یا حل ہو گیا ہے اور پہلے جیسی صورت حال قائم ہو چکی ہے۔ لیکن پہلے سے مراد کون سا دن ہے۔ یہ اندازہ کرنا مشکل ہے۔ یہ معاملہ تو طے ہو گیا ہے لیکن عوام کے ذہنوں میں ابھی بہت سے سوال جواب طلب ہیں۔ مثال کے طور پر طارق فاطمی اور راؤتحسین علی کو کس الزام کے تحت ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا یہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ سے معلوم ہو سکے گا۔ لیکن اخبارات میں شہ سرخی کے ساتھ یہ خبر شائع ہو چکی ہے کہ رپورٹ کو شائع نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس امکان پر غور کیا جا سکتا ہے کہ کیا راؤ تحسین علی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق اپنے خلاف ہونے والے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں اور عدالت انکوائری کمیشن کی رپورٹ طلب کرے تاکہ راؤ تحسین کے خلاف الزامات معلومات ہو سکیں۔ لیکن کیا راؤ تحسین علی اپنے عدالت جانے کے بیان پر قائم رہ سکیں گے؟ طارق فاطمی کہہ چکے ہیں کہ ان پر الزامات سراسر غلط ہیں لیکن انہوں نے الزامات نہیں بتائے۔ فیصلے کے مطابق ان کی صرف میز بدلی گئی ہے۔ وہ بھی شاید اس معاملے کو طے ہی سمجھیں گے ۔ سینیٹر پرویز رشید نے بھی الزامات کا ذکر نہیں کیا البتہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان یہ بتا چکے ہیں کہ ان پر خبر رکوانے میں ناکامی کا الزام ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس الزام کا ایک ٹی وی انٹرویو میں خوب ٹھٹھہ اُڑایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خبر رکوانا وزیر اطلاعات کی ذمہ داری ہے تو یونیورسٹیوں کے شعبہ صحافت کے نصاب میں یہ مضمون شامل کر دیا جائے کہ'' خبر کیسے رکوائی جاتی ہے۔'' انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات کسی رپورٹر کو کسی خبر کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر سے آگاہ کر سکتا ہے۔ اس سے خبر کی صداقت پر بات کر سکتا ہے لیکن اسے خبر روکنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ اس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ اس وقت وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کو معلوم تھا کہ ''ڈان'' کے سرل المیڈا کو کہیں سے ایسا مواد یا خبر مل چکی ہے جو نامناسب ہے یا جو روکے جانے کے لائق ہے۔ ممکن ہے سرل المیڈا نے وزیر اطلاعات سے اس کی توثیق بھی چاہی ہو۔ یہ بھی امکان ہے کہ وزیر اطلاعات نے اس خبر کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر بھی بیان کیا ہو۔ لیکن خبر رکوانے میں ناکام رہے ہوں۔ سینیٹر پرویز رشید نے یہاں تک تو اپنی ذمہ داری بیان کر دی لیکن اس سے آگے بھی ان کی ذمہ داری تھی جس کا انہوں نے ذکر نہیں کیا۔سویلین اور فوجی قیادت دونوں بیک زبان کہہ رہی ہیں کہ یہ بے بنیاد ہے۔ ایسی کوئی گفتگو متذکرہ اجلاس میں ہوئی ہی نہیں جس پر سرل المیڈا کی سٹوری کی عمارت کھڑی ہے۔ یعنی ''خبر'' من گھڑت ہے اور پلانٹ کی گئی ہے۔ فوجی قیادت کی طرف سے کہا گیا کہ یہ ''خبر'' قومی سلامتی کے منافی ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر ساری قوم جاننا چاہتی ہے کہ قومی سلامتی کے منافی من گھڑت مواد خبر کے طور پر سرل المیڈا کو فراہم کرنے کا کون کون ذمہ دار ہے؟ روزنامہ ڈان کے انتظامی اور ادارتی ذمہ دار مصر ہیں کہ یہ خبر صحیح ہے اور اسے شائع کرنا ان کی صحافتی ذمہ داری اور آزادیٔ صحافت کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ ''ڈان لیکس'' انکوائری رپورٹ کے نتیجے میں سرل المیڈا اور ڈان کی انتظامیہ کا معاملہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز ای پی این ایس پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیا کونسل اس ''خبر'' کے صحیح ہونے یا من گھڑت ہونے کا فیصلہ کرے گی؟ ڈان لیکس انکوائری کمیشن نے اس بارے میں کچھ کہا ہے یا نہیں؟ یہ معلوم نہیں۔ البتہ جب ''ڈان لیکس'' انکوائری رپورٹ کے متعلق فوج کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر کی پریس کانفرنس کی خبرکے بعد ایک ٹی وی چینل پر یہ فوٹیج دیکھی جس کا ذکر آغاز کلام میں کیا گیا ہے کو خیال آیا کہ اس طرح گویا امریکی سفیر نے روزنامہ ڈان کے ادارتی اور انتظامی ذمہ داروں کے موقف کا ساتھ دیا ہے۔ جو شاید ان کی سفارتی ذمہ داریوں کا حصہ نہیں ہے۔ روزنامہ ڈان کی آزادی صحافت کا ایک واقعہ اور یاد آ رہا ہے جب ڈان نے ایک اردو روزنامہ کے ساتھ انتظام کے ذریعے ایک تہلکہ خیز خبر شائع کر دی تھی کہ طالبان کے افغانستان میں اسامہ بن لادن کے پاس ایٹم بم موجود ہے۔ افغانستان کی قالینی بمباری کے ذریعے اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ۔ لیکن اسامہ کے پاس جو ایٹم بم تھا اس کا کوئی پتا نہ چلا۔ کئی سال بعد اسامہ بن لادن ایبٹ آباد کے ایک مکان میں قتل ہو گیا لیکن اس کا ایٹم بم برآمد نہ ہوا۔ آزادی صحافت کے اس اظہار سے لاکھوں افغان بے گناہ شہید ہوئے۔

اداریہ