Daily Mashriq

کر کٹ اب کھیل نہیں رہا

کر کٹ اب کھیل نہیں رہا

اس میں کوئی شک وشُبہ نہیں کہ کوئی کھیل اوربالخصوص کر کٹ ملک میں اعتماد اور عوام کو علاقائی، نسل ،ذات پات کی تقسیم کے بغیر جو ڑنے میں اہم کر دار ادا کر تا ہے ۔ کسی ملک اور ریاست میں وہ مقصد جو اربوں روپوںسے بڑے بڑے لیڈر اور راہنما حا صل نہیں کر سکتے ، کھیل کے ذریعے آسانی سے حا صل کیا جا سکتا ہے ۔کوئی بھی کھیل جغرافیائی اور سر حدی حدود و قیود سے مبرا سمجھا جاتا ہے بد قسمتی یہ ہے کہ ہم کھیل کو، کھیل کے جذبے اور حد تک نہیں رکھتے بلکہ حقیقت میںکھیل جوا با زی، کرپشن ، بد عنوانی اور سٹہ بازی کا ایک بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے۔اس میں شک نہیں کہ ترقی یا فتہ ممالک میںمیں جوا با زی اور بد عنوانی شامل ہے، مگر وہا ں پر یہ بہت کم ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک اور با لخصوص پاکستان میں ا س میں کرپشن بد عنوانی ، جوا با زی اور اقر با پر ور ی کا بازار گرم ہے۔ اگر ہم پاکستانی کر کٹ پر نظر ڈالیںتو یہ بات روز روشن کی طر ح عیاں ہے کہ اس کھیل میں ہر قسم کی جوا بازی ، سٹہ بازی اور سیاست کا دخل ہے۔ جسکی وجہ سے ہم اپنے اُس مقام کو قائم رکھنے میں ناکام رہے جو ہم نے ما ضی میں سے حا صل کیا تھا۔بد قسمتی سے جوا بازاور سٹے باز ہمارے کھلا ڑیوں اور ٹیم انتظامیہ کو خرید لیتے ہیں اور اُن کھلا ڑیوں کو جن کو ملک اور قوم کے لئے کھیلنا چاہئے وہ ملک اور قوم کے لئے نہیں، بلکہ اپنی ذات ، پیسے ، ما فیا ، سٹہ بازوں اور جوا با زوںکے لئے کھیلتے ہیں۔

بد قسمتی سے پو ری ٹیم انتشار اور افرا تفری کا شکار ہے ۔ کراچی سے تعلق رکھنے والا کھلا ڑی لاہور کے کھلا ڑی کی کپتانی میں نہیں کھیلنا چا ہتا جبکہ لاہور کا کھلا ڑی کراچی کے کھلا ڑی کی کپتانی اور قیادت میں نہیں کھیلنا چاہتا۔کر کٹ ٹیم میں گروہ بندی ،اورگروپ بندی سر ائیت کر چکی ہے ۔کیچ کو قصداًً چھوڑنا ، رنز نہ بنانا اور نا قص فیلڈ نگ کرنا اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔1992 میں عمران خان کی قیادت میں عالمی کپ جیتنے کے بعد اب تک پاکستانی ٹیم کوئی خا ص بین الاقوامی مقابلہ یا ایونٹ نہیں جیت سکی ۔ اگر ایک طر ف کھلا ڑیوں میں اتحاد اور اتفاق کا فقدان ہے تو دوسری طر ف ہر دور کی حکومت کرکٹ منیجمنٹ میں اپنے من پسند اور منظور نظر لوگوں کو بھاری بھر کم تنخواہوں اور معا وضوں پر کرکٹ ٹیم میں شامل کرتی رہی ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ کر کٹ ٹیم میںبہت کم کھلا ڑی اہلیت اور قابلیت سے شامل کیئے جاتے ہیں جبکہ ان میں اکثرکھلا ڑی سفا رش پر لئے جاتے ہیں۔جہاں تک کر کٹ کے کھلا ڑیوں کی تعلیم اور تربیت کا تعلق ہے تو انکی تعلیم اور تربیت بھی اُس لیول کی نہیں ہوتی جس لیول کی دوسرے ممالک کے کھلاڑیوں کی ہوتی ہے۔ نتیجتاً اُ ن میں حقیقی معنوں میں قائدانہ صلا حیتیں نہیں ہوتی جو کسی ٹیم کے کپتان کا خا صا ہونا چاہئے۔ جہاں تک عمران خان کا تعلق تھا تو وہ آکسفو رڈ یو نیور سٹی سے فا رغ التحصیل ہیں اور وہ اس معا شرے میں پر وان چڑھے تھے جس سے آج کل ہمارے کرکٹ کے کھلا ڑی نفسیاتی طو ر پر خائف ہیں ۔ایک کپتان اور کھلا ڑی کے طو ر پر عمران خان کوانگریز کی گو ری چمڑی کا کوئی خو ف نہیں تھا۔وہ انگلینڈ، نیو زی لینڈ اور ترقی یافتہ ممالک کے کھلاڑیوں اور انکے ماحول کو خاطر میں بھی نہیں لاتے کیونکہ وہ یو رپ سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان تھے اور کھیل کے دوران کسی وقت بھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے ۔
بد قسمتی سے وطن عزیز میں کر کٹ کے 90فی صد کھلا ڑیوں کی سلیکشن اُس عمر میں کی جاتی ہے جو ان کی تعلیم اور تربیت کا دور ہوتا ہے، مگر جس وقت کر کٹ کے کھلا ڑی ٹیم کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں اُس وقت ان کی ایجو کیشن ادھو ری رہ جاتی ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر موجودہ اور سابقہ کر کٹ کے کھلا ڑیوں کے تبصروں کے دوران ان کی ذہنی استعداد کو آسانی کے ساتھ چیک کیا جا سکتا ہے۔جب وہ الیکٹرانک میڈیا پر لاکھوں لوگوں کے سامنے گفتگو کر رہے ہوتے ہیں تو ان کی گفتگو کس لیول کی ہوتی ہے ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ کر کٹ بو رڈ کے پاس بھی کوئی ایسا میکینزم نہیں کہ وہ کھلا ڑیوں کی تعلیم اور تربیت سائنسی اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کر سکے۔ جہاں تک پاکستان کر کٹ بو رڈ کے بجٹ کا تعلق ہے تو میرے اندازے کے مطابق یہ تقریباً سالانہ 6 اور 7 ارب روپے کے درمیان ہے اور پاکستان جیسے غریب ملک جہاں پر 13 کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبو ر ہیں ۔ وہاں پر اتنی رقم کرکٹ پرخرچ کرنا کسی فضول خر چی سے کم نہیں۔اگر ہماری کر کٹ ٹیم ملک اور قوم کے لئے نہیں بلکہ اپنی ذات ، پیسوں روپوں کے لئے ہے تو پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کا بجٹ جو کرکٹ بو رڈ پر خرچ کیا جاتا ہے اس کو غریب عوام کے روز گار پر خرچ کرنا چاہئے جو غُر بت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں تاکہ کم ازکم سالانہ 9 لاکھ کے قریب لوگ نان نفقے کے قابل تو ہو سکیں۔ جس طرح ملک کے حکمران ہونگے وہاں کے کھلا ڑی بھی اُس طر ح ہونگے۔دوسرے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو کرکٹ سے زیادہ اور مسائل درپیش ہیں ہمیں کو شش کرنی چاہئے کہ ہم ان مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دیں۔ کرکٹ کی بجائے زیادہ زوردوسرے اہم مسائل پر دینا چاہئے جیسے ملک میں ہر شُبہ کرپشن اور بد عنوانی کی لپیٹ میں ہے اسی طرح کرکٹ میں اربوں روپوں کی کرپشن ہوتی ہے۔پاکستان میں روزانہ اس کے نت نئے سکینڈل منظر عام پر آر ہے ہیں۔اس پر روزانہ ایسے ٹی وی ٹاک ہو رہے ہیں جیسے یہ پاکستان کا سب سے اہم ایشو ہے۔

اداریہ