Daily Mashriq


کابل کے قصاب کے لئے ریڈ کارپٹ

کابل کے قصاب کے لئے ریڈ کارپٹ

یہ نوے کی دہائی ہے اور افغانستان کو خانہ جنگی کے شعلوں نے بُری طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ۔ سوویت یونین کو افغانستان سے مار بھگانے والے سات 'جہادی' گروہ جنگ کے بعد مالِ غنیمت میں اپنا زیادہ سے زیادہ حصہ بٹورنے کے لئے ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں۔ سوویت یونین کو افغانستان سے نکالنے کے لئے ایک دوسرے کے حلیف سمجھے جانے والے جنگجو سردار ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آ رہے ہیں۔ حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار خانہ جنگی کے شعلوں کو ہوا دینے کے حوالے سے مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔حزبِ اسلامی کے جنگجو کابل کے نزدیک پہاڑوں میں پوزیشنیں سنبھالے کردارالحکومت پر راکٹوں کی بارش کرنے میں مصروف ہیں۔ حزبِ اسلامی کی طرف سے ہونے والے اس وحشیانہ حملے نے کا بل شہر کا ایک تہائی حصہ راکھ اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔کابل پراس وحشیانہ بمباری نے اس وقت کی افغان حکومت کوگلبدین حکمت یار کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا اور 1993ء میں صدر برہان الدین ربانی نے گلبدین حکمت یار کو وزارتِ عظمٰی کے عہدے کے لئے نامزد کردیا تھا۔لیکن اس ظالم جنگجو نے وزیرِ اعظم بننے کے بعد بھی پہاڑوں کے اوپر واقع بہترین جنگی پوزیشن کو چھوڑ کر وزیرِ اعظم ہائوس منتقل ہونے سے انکار کردیا تھا۔ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد حکمت یار دارالحکومت میں صرف کابینہ کے اجلاس کی صدرات کرنے آیا کرتا تھا اور اس وقت بھی اس کے خونخوار جنگجوئوں کا جتھا ان کے ساتھ ہوتا تھا۔ اگر میٹنگ میں کوئی بات حکمت یار کی طبیعت پر گراں گزرتی یا میٹنگ ناکام ہو جاتی تو وہ واپس پہاڑوں پر جا کر کابل پر بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیتا تھا۔ کابل کا یہ محاصرہ 1996ء تک جاری رہا جس میں ایک اندازے کے مطابق 50ہزار لوگ مارے گئے جن میں سے زیادہ تر سویلین تھے۔ حکمت یار نے کابل میں خون کی ہولی کھیلی جس کی وجہ سے انہیں 'کابل کا قصاب' کا لقب دیا گیا۔ 2001ء میں امریکہ کی جانب سے افغانستان پر حملے کے بعد حکمت یار اپنے جنگجوئوں کے ساتھ روپوش ہو گئے اور اگلی دو دہائیوں تک چھاپہ مار کارروائیوں کی قیادت کرتے رہے۔ اب ہم ماضی سے حال میں آتے ہیں۔ یہ 4 مئی 2017ء ہے اور گلبدین حکمت یار بوڑھے ہو چکے ہیں۔ اس وقت حکمت یار کی عمر 69 سال ہے۔ کئی سال پہلے کابل کو راکھ کے ڈھیر میں بدلنے اورکابل کے ہزاروں باسیوں کو موت کی نیند سلانے والا آج ایک فاتح کی طرح شہر میں داخل ہو رہا ہے۔ ہر قسم کے اسلحے سے لیس جنگجو اس کے ساتھ چل رہے ہیں اورکاروں اور ٹرکوں کے ایک بڑے قافلے کے علاوہ سیکورٹی صورتحال کا فضائی جائزہ لینے کے لئے ایک ہیلی کاپٹر بھی اس قافلے کے اوپر منڈلا رہا ہے۔ کل کا بدنام ِ زمانہ جنگجو سردار آج ایک ہیرو کی طرح دارالحکومت میں داخل ہو رہاہے جس کے استقبال کے لئے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ اور سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی موجود ہیں۔صدارتی محل میں گلبدین حکمت یار کے لئے سرخ قالین بچھایا گیا ہے جس پر وہ ایک شانِ بے نیازی سے قدم رکھ رہے ہیں۔اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں کیونکہ افغانستان کے دوسرے بڑے عسکریت پسند گروپ کے سربراہ نے امن کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اشرف غنی کے لئے یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔ اس موقع پر گلبدین حکمت یار نے خطاب کرتے ہوئے تما م عسکریت پسند گروہوں، خصوصاً طالبان کو ،تشدد کا راستہ چھوڑ کر ''امن کے کاروان'' میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ کچھ تجزیہ کاروں کی رائے میںحکمت یار کا ہتھیار ڈال کر افغانستان کے آئین کو قبول کرنا ایک بہت بڑا ٹرننگ پوائنٹ ہے جس کے بعد اشرف غنی کی دوسرے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذا کر ا ت کرنے اور ان کو امن کی راہ پر لانے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں ۔ دوسری جانب نا قدین کو اس سارے عمل میں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی جو حکمت یار کو ایک ایسے بھیڑیئے سے تشبیہہ دیتے ہیں جس کے دانت گر چکے ہیں اور وہ شکار کرنے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے علاوہ گروہ کی تعداد میں بھی خاطر خواہ کمی آ چکی ہے۔گلبدین حکمت یار کے ہتھیار ڈالنے اور امن کی راہ اپنانے سے افغانستان میں جاری تشدد کا خاتمہ تک نہیں ہوسکتا کیونکہ مکمل امن کے قیام کی چابی طالبان کے پاس ہے۔اسی طرح ،نسلی طور ایک پشتون ہونے کی وجہ سے حکمت یار کی مرکزی دھارے میں واپسی سے پہلے سے نسلی اور لسانی تنازعات کا شکار افغان معاشرہ مزید تنازعات میں گھر سکتا ہے۔ افغان اتحادی حکومت، جو پہلے سے معاشی، سیاسی اورسیکورٹی کے مسائل میں بُری طرح الجھی ہوئی ہے، مزید کسی تنازعے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ حکمت یار کی واپسی سے کابل کے باسیوں کو ان چارسالوں پر مشتمل بھیانک خواب کی یاد ضرور آئی ہوگی جن کی وجہ سے حکمت یار کو'کابل کاقصاب' کا لقب ملا تھا۔ ان چار سالوں میں راکٹوں کی برسات سے ہلاک سے ہونے والے افراد کے لواحقین کے لئے حکمت یار کی طمطراق سے کابل آمد زخمی پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ یہاں پر یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ وہی گلبدین حکمت یار ہے جو اپنے مظالم اور جنگی جرائم کی وجہ سے کل تک اقوام ِ متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا ۔(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں