Daily Mashriq


مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم اور کردستان

مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم اور کردستان

تقریباًسوسال قبل استعمارنے اپنے مذموم اہداف کی خاطر مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی کی جوآگ بھڑکائی تھی عرب بہار (جسے عرب خزاں کہنا زیادہ موزوں ہے ) کے بعدخانہ جنگی کی یہ آگ آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔خانہ جنگی کی اس آگ کی آڑ میں استعمار کا مرکزی ہدف شروع سے مشرق وسطیٰ کی تقسیم اور یہاں کے وسائل پر قبضہ جمانا رہاہے۔دیکھاجائے تو مشر ق وسطیٰ کی نئی تقسیم کاعملاًآغاز نائن الیون کے بعد عراق پرحملے سے کردیاگیا تھا،جس میں عرب بہار(خزاں) بالخصوص داعش کے فتنے اور شامی خانہ جنگی کے بعداس وقت بہت تیز ی آچکی ہے۔جب کہ اس تقسیم کااصل نقشہ ایک صدی قبل تھیوڈور ہرزل اور پھر سائیکس پیکونامی معاہدے کے صورت کھینچا گیاتھا۔مشرق وسطیٰ کی اس نئی تقسیم میں فی الوقت ہدف مشرق وسطیٰ کے تین اہم ممالک یعنی عراق،شام اور ترکی ہیں۔اس کے لیے ان تین ممالک میں بسنے والے کردوں کوکردستان بنانے کے لیے آزادی کانعرہ دیکر ا بھا را جا رہاہے جس کامقصددرحقیقت لسانیت اور قومیت کے نام پر مشرق وسطیٰ کو مزید تقسیم کرناہے۔چنانچہ کرد اور کردستان اس وقت مشرق وسطیٰ میں شامی خانہ جنگی اورفتنہ داعش کے بعد دوسرابڑا ایشو بنا ہو ا ہے ۔ کر د د ر ا صل مشرق وسطیٰ کے شمال میں رہتے ہیں۔خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد سیکولرمصطفی ٰکمال اتاترک نے جہاں ترکی سے اسلام کا جنازہ نکالا وہیں اقلیتوں اور دیگر قوموں کے ساتھ جڑی ہوئی قدیم اخلاقی حدود وروایات کو بھی پامال کردیا۔چنانچہ مصطفیٰ کمال اتاترک نے عربی کی طرح کردی زبان پر بھی پابندی لگادی،جو کوئی کردی میں بات کرتے ہوئے پکڑا جاتا اسے سزادی جاتی ۔1991ء تک یہ پابندی بر قر ا ر ر ہی ،لیکن نجم الدین اربکان اور اردگان کی کوششو ں سے اب کردوں کوترکوں کے برابرحقوق حاصل ہو گئے ہیں۔دوسری طرف ماضی میں بعض کرد استعمار کے آلہ کار بننے لگے،جنہیں مختلف حیلے بہانوں سے شدت پسندی اور ملکی یک جہتی کے خلاف ابھاراجانے لگا۔چنانچہ27نومبر1978 ء کوترکی میں اشتراکی نظریات کے حامل چندکردوں کواقتدار کالالچ اور کردقومیت کا نعرہ دے کر ابھاراگیا، یوں انہوں نے PKK کے نام سے ایک شدت پسند جماعت کی بنیاد رکھ دی۔اس جماعت کابظاہرہدف ترکی سے کردوں کو علیحدہ کرنااور دنیا بھر کے کردوں کو ایک جگہ جمع کرکے بڑاکردستان بناناہے۔لیکن پس پشت کارل مارکس اورلینن ایسے اشتراکیوں کے نظریات کوفروغ دے کرکردوں اورترکوں کو تقسیم کرنا اورمشرق وسطی ٰ میں خانہ جنگی کی آگ بھڑ کاناہے۔یہ کہنا کہ ترکی کردوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتا اس لیے PKKکردوں کے حقوق کے لیے ترکی سے جنگ لڑرہی ہے قطعاًغلط ہے۔ترکی سے راقم کے دوست عمرفاروق جو املاً کردی ہیں ،اٹھارہ زبانوں پر عبور رکھتے اور کافی عرصہ پاکستان میں بھی زیرتعلیم رہے ان کا یہ کہنا ہے کہ ''ترکی میں کردوں کو وہی حقوق حاصل ہیں جو ترکوں کو حاصل ہیں۔لیکن چند باغی لوگ کردوں کے نام پر ترکی میں ترک اور کردوں کو تقسیم کرکے خانہ جنگی اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہیں برطانیہ ،امریکا،جرمنی اورفرانس سمیت کئی دیگر ملکوں کی حمایت بھی حاصل ہے''۔یہی وجہ ہے کہ جب کبھی ترکی نے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی امریکا سمیت ان ممالک نے ترکی کی ہمیشہ مذمت کی۔بالکل یہی صورت حال عراق میں رہی۔بہرحال عراق کوتقسیم کرنے کے بعداستعمار کا اگلا ہدف ترکی اور شام کو تقسیم کرنا ہے۔چنانچہ اس وقت ترکی میں PKKاور دیگر کرددہشت گرد تنظیموں کو امریکا کی طرف سے بھرپور سپورٹ کیا جارہاہے۔جس کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ امریکا PKKکو داعش کے خلاف لڑنے کے لیے مددفراہم کررہاہے۔دوسری طرف گزشتہ ماہ کے آخرسے ترکی اور PKKکے درمیان زبردست قسم کی جنگ چھڑی ہوئی ہے اورترکی امریکا کیPKKکے ساتھ بڑھتی ہوئی قربتوں سے سخت نالاں ہے۔یہاں ایک اور سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا عراق،ایران ،ترکی اورشامی کرد مشترکہ طور پر ایک ہی کردستان کا مطالبہ کرتے ہیں ؟چاروں ملکوں میں بسنے والے کردوں کے تہذیبی اور ثقافتی کلچر کا جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سارے کرد مشترکہ طور پر متحدہ کردستان کے حامی نہیں ہیں۔کیوں کہ ان کی زبان اور دیگر ثقافتی روایات ایک دوسرے سے الگ ہیں۔چنانچہ عراقی کردوں میں 1973سے 2006تک مسلسل اختلاف چلاآتارہا،نوبت یہاں تک بھی پہنچی کہ عراقی کردوں کے لیے دوعلیحدہ علیحدہ کرد ملک بنادیے جائیں۔اسی سے یہ بات اچھی طر ح سمجھی جاسکتی ہے کہ ترکی میں PKKجو کردوں کے نا م پر کردستان کا مطالبہ کررہی ہے اس میں کتنا دم ہے ۔ کیوں کہ ترکی کے بیشتر کرد PKKکے مخالف اور تر ک حکومت کے ساتھ ہیں۔بہرحال مستقبل قریب میں استعمار کا ہدف عراق کی طرح ترکی میں بھی کر د ستا ن بنانے کا ہے،لیکن اگر ترکی اپنی سلامتی کی خاطر ا ستعما ر کے سامنے ڈٹارہااور کردوں کو ترکوں کے برابرحقوق دیتارہاتو استعمار کا ترکی کو تقسیم کرنے کاخوا ب شرمندہ تعبیر ہوگا،نہ مشر ق وسطیٰ کولسانیت اور قومیت کے نام پر مزیدتقسیم کرکے کردستان بنایاجاسکے گا۔

متعلقہ خبریں