Daily Mashriq

سورج مہربان

سورج مہربان

اللہ کی مہربانیوں کا شما رانسان کے بس کی بات ہی نہیں کہ اس نے اپنی بے پناہ تخلیقات میں کیا کیا چھپا رکھا ہے ۔زمین اس کے تخلیقی نظام کی ایک بہت ہی چھوٹی سی اکائی ہے ۔اس ایک مختصر سی اکائی میں اس خالق نے اپنی تخلیق کے کیسے کیسے امکان رکھ دیے ہیں کہ صرف ایک زمین کے امکانات کو ابھی تک انسان سمجھ نہیں پایا۔ اللہ نے سب سے بڑھ کر انسان کو شعور اورآگہی سے نواز ا کہ چاہتا ہے کہ اس کی یہ تخلیق (انسان)اس کی کائنات کو اپنے تصرف میں لائے ۔ اللہ کی تخلیق بھی اس کی اپنی ذات کی طرح لامنتہا ہے ۔وہ ایک ننھے سے بیج سے کیسے کیسے تناور درخت بنادیتا ہے ۔ وہ ایک نطفے سے کیسے کیسے عظیم انسان بنادیتا ہے ۔ وہ پتھروں میں ہیرے ، سونا ، تیل ، گیس اور نہ جانے کیا کیاچھپا دیتا ہے کہ انسان ہزاروں سال سے کھدائیاں کرکے تھک گیا لیکن وہ نعمتیں ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں ۔ ایک پٹرولیم نے انسان کو کیا کچھ دے دیا ۔ ابھی پٹرولیم کے ذخائر ختم نہیں ہوئے کہ شیل گیس کو انسان نے دریافت کرلیا جوریتلی زمین میں چھپی رہتی ہے کہ جس سے انسان ہزاروں برس تک استفادہ کرسکتا ہے ۔ توانائی کی بات کریں تو اللہ کا سب سے بڑا تحفہ سورج ہے کہ جس نے اس زمین کو زندگی بخش رکھی ہے ۔ یہ سورج نہ ہوتو یہ زمین زندگی سے عاری ہوجائے ۔ کروڑوں برس سے یہ سورج ایک ہی طرح سے دہک رہا ہے اور اس کی انرجی ختم یا کم ہونے میں نہیںآتی ۔انسان کی دریافت کردہ تمام توانائیاں اس ایک سورج کے آگے ہیچ ہیں ۔اس کرۂ ارض پر انسانی آبادی بڑھ رہی ہے ۔دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ توانائی کی تقسیم میں بھی بحرانی کیفیت ہے ۔ سائنسدان تیل ،گیس اور بجلی کے متبادل ذرائع پر کام کررہے ہیں لیکن اب بھی ان تینوں طاقتور فیول کی جگہ کوئی دوسرا فیول نہیں لے سکا ۔شمسی توانائی پر گزشتہ دو دہائیوں میں تیزی سے کام ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسی توانائی جو کن فیکون کے سلسلے سے جاری و ساری ہے اور یہ توانائی اسی ذات کے حکم پرمدار رکھتی ہے ۔ جدید دنیا میں تحقیق کا راج ہے اور تحقیق نے ہی انسان کو ترقی کی شاہراہ پر لا کھڑا کیا ہے ۔ آج کے دور میں سب سے زیادہ تحقیق متبادل ایندھن کی تلاش میں ہورہی ہیں ۔ شمسی توانائی بھی انہی میں سے ایک ہے ۔ مجھے یاد ہے جب باڑا بازار کا پورے ملک میں شہرہ تھا۔میرے بڑے بھائی وہاں سے ایک سولر کیلکولیٹر لے کر آئے تھے جو سیل کی بجائے شمسی توانائی پر چلتا تھا۔ میرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ سورج کی شعاعوں سے وہ کیلکولیٹر انرجی سٹور کرتا تھا ۔پاکستان میں جب سے بجلی کا بحران آیا ہے پرائیویٹ سیکٹر نے شمسی توانائی کے حوالے سے کافی انوسٹمنٹ کی ہے ۔ حیران کن صورت اس میں یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اس میں کوئی بھی عمل دیکھنے میں نہیں آیا ۔ پنجاب میں ایک سولر پارک بنایا گیا ہے لیکن اس کے علاوہ گراس روٹ لیول پر اس سلسلے میں کام نہیں کیا گیا۔ حکومت کا وہ گردشی قرضہ جس سے اس کی جان نہیں چھوٹ رہی ، اور وہ اضافی خرچہ جو آئی پی پیز کو دیا جاتا ہے اگر یہی پیسہ اس سیکٹر میں لگایا جاتا اور عوام کو سبسڈائز ریٹس پر سولر کٹس دی جاتیں تو آدھی آبادی بجلی کے استعمال میں خودمختار ہوجاتی ۔ ایسا ہوجاتا تو بھلا آئی پی پیز کے تیل کے مزے کون لوٹتا ۔ اپنے اللے تللے کے لیے عوام کو تباہ و برباد کرنے والوں سے کون پوچھے کہ خدا کی دی ہوئی مفت نعمت (سورج)کو بھی عوام کو استعمال کرنے کا بھی حوصلہ نہیں ان میں۔دنیا میں ہزاروںتعداد میں سولر پارک بنائے جاچکے ہیں کہ جن سے ہزاروں میگا واٹ سستی بجلی حاصل کی جاتی ہے ۔شنگھائی گولڈ مڈ سولر پارک چائنہ نے بنایا ہے جس سے 500میگاواٹ بجلی فراہم ہوتی ہے۔لانگ زینگیا رڈیم سولر پارک بھی چائنہ میں بنا ہے کہ جس کی بجلی کی پیداوار 530میگا واٹ ہے ۔ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں بنایا گیا ٹوپاز سولر پارک کی پیداوار 550میگا واٹ ہے ۔کیلیفورنیا ہی میں سولر سٹار نامی ایک پارک کی پیداوار 579میگا واٹ ہے ۔بھارت میں 12 گیگاواٹ بجلی سولرپارکس سے حاصل کی جاتی ہے جبکہ ایک گیگاواٹ سے سوا سات لاکھ گھروں کو بجلی پہنچائی جاسکتی ہے ۔ بھارت اپنی شمسی توانائی کی استعداد میں اضافے کا پروگرام بناچکا ہے اوروہ اسے 12سے 20گیگاواٹ کردے گا ۔سولر پارک یا سولر فارمز کی خوبی یہ ہے کہ اس کے لیے سب سے اہم چیز وہ مقام ہے کہ جہاں دھوپ مسلسل اور فراوان ہوجبکہ اس کے لیے ڈیموں جیسے میگاسٹرکچر کی ضرورت بھی نہیں پڑتی ، جبکہ اس کی کاسٹ بھی ڈیموں سے بہت کم آتی ہے ۔ساتھ اس کی تعمیر میں سالوں کی بجائے مہینے درکار ہوتے ہیں ۔ ہمارے ملک تھر اور چولستان کہ جہاں گرمی ناقابل بیان اورناقابل بیان حد تک چلی جاتی ہے۔ان مقامات پر دو چار سولر پارک بنادینے سے کم از کم بجلی کا شارٹ فال کم تو کیا جاسکتا ہے ۔ سولر انرجی پاکستان کے موجودہ بحران کوہنگامی طور پر ریلیف دیا جاسکتا ہے ۔ افسوس یہ ہے کہ ہم ایسی قوم ہیں کہ جو سولہ لاکھ کیوسک میٹھا پانی ہر سال سمندروں میں پھینک دیتے ہیں ۔اس پانی پر ہم نے کوئی نیا ڈیم نہیں بنایا ۔ انڈیا پانی کو بھی قید کررہا ہے اور سورج کو بھی محفوظ کررہا ہے ۔ ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ توانائی ایک بہت بڑی حقیقت ہے اور اس کے بغیر ترقی کا خواب دیکھا ہی نہیں جاسکتا ۔ اگر ہم بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرسکیں تو ہمارے گھریلوصارفین سکھ کا ساتھ لے سکتے ہیں اور ہمارے کارخانے بجلی پرکنورٹ ہوکر سستی اشیاء کی پیداوار دے سکتے ہیں ۔مگر افسوس ہم تو باہر کی جانب دیکھتے ہیں کہ کوئی ہمارے کشکول کو ہی بھردے کہ چند دن دال روٹی چل سکے ۔

اداریہ