Daily Mashriq

اپنی اپنی راہ چلنے سے ٹکرائو کی نوبت نہیں آتی

اپنی اپنی راہ چلنے سے ٹکرائو کی نوبت نہیں آتی

وزیر دفاع خرم دستگیر نے اقرار کیا ہے کہ قومی سلامتی کا فورم بھی سول ملٹری تعلقات میں تنائو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے ۔نواز شریف کے جانے کے بعد سول ملٹری تعلقات میں مزید بگاڑ آیا ۔بطور وزیر دفاع اپنی آخری پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ اگست 2017سے لے کر اب تک قومی سلامتی کمیٹی کے گیارہ اجلاس ہوئے ۔ آئندہ ہفتے ایک اور اجلاس ہو گا ۔ اس فورم میں سٹریٹجک امور پر سول ملٹری مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا لیکن جو تنائو نواز شریف کے جانے سے ختم ہو چکا تھا وہ ختم نہیں ہوا ۔خلائی مخلوق اور نادیدہ قوتوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہاکہ وہ اس بارے میں تو کچھ نہیں جانتے البتہ وزارت دفاع کی عمارت آسیب زدہ ہے ۔ وزیر دفاع نے اس موقع پر اپنی مختصر مدت وزارت کے دوران اہم تقرریوں اور وطن عزیز کی سلامتی کے لئے دفاعی تیاریوں کا بھی ایک جائزہ پیش کیا جس پر اعتماد کا اظہار نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ وطن عزیز میں دفاعی تیاریاں اور دفاع وطن کے ذمہ داران کے کردار و عمل بارے قوم کو کسی قسم کا تفکر نہیں یہ عمل اطمینان بخش ہے کہ پاکستان دفاعی پیداوار کے شعبے میں مسلسل ترقی کر رہا ہے جو امر پوری قوم کے لئے باعث تفکر ہے وہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں سول ملٹری تعلقات میں تنائو کی کیفیت تقریباً مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ سول و ملٹری قیادت کے درمیان اس قسم کی کشیدگی اور تنائو کی وجوہات کیا ہیں اس بارے اندازہ لگانا بھی مشکل ہے لیکن بر سر زمین حقیقت یہ ہے کہ سول و ملٹری تعلقات کی کشیدہ نوعیت بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ درمندان وطن کو خوف آنے لگتا ہے۔ وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر خان خود ایک سابق جرنیل کے صاحبزادے اور سیاستدان ہیں۔ ان کی جانب سے سول و ملٹری تعلقات میں کشیدگی کا پریس کانفرنس میں اقرار خاصا سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس قسم کے موضوعات پر کم ہی کوئی بات کرتا ہے مگر خرم دستگیر نے قوم کو صورتحال سے صریح لفظوں میں آگاہی دے کر اور کشیدگی کا اقرار کرکے جرأت کا مظاہرہ کیا ہے۔ سول و ملٹری تعلقات میں کشیدگی کی وجوہات کا تو علم نہیں البتہ سول قیادت کو اکثر یہ شکوہ رہتا ہے کہ ملٹری حکومتی معاملات میں دخل اندازی کرتی ہے۔ پارلیمان کو مضبوط نہیں ہونے دیا جاتا رواں حالات میں تو عدلیہ سے بھی سول حکومت کے تعلقات کچھ اچھے دکھائی نہیں دیتے اور اب سیاسی عناصر عدلیہ کو بھی سیاست میں دخیل گردانتے ہیں جس سے اتفاق ضروری نہیں لیکن بہر حال ایک دوسرے کو مطعون کرنے اور للکارنے کے مماثل حالات و واقعات سے انکار کی گنجائش نہیں۔ وطن عزیز میں سول ملٹری اور عدلیہ کے درمیان تعلقات کا بگاڑ ملک و قوم کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔ سب سے پہلے اس سے بیرونی دنیا میں ملک کا وقار مجروح ہوتا ہے اور ملک کے داخلی طور پر مستحکم نہ ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں لیکن اس کا کوئی حل اور ان اختلافات کو دور کرنے پر کبھی سنجیدگی اور درد مندی سے توجہ بھی نظر نہیں آتی۔ اختلاف رائے سے لے کر سنجیدہ اختلاف تک سبھی کی گنجائش ہے اور ہونی چاہئے مگر اس کو اختلاف رائے اور جداگانہ موقف اور انداز فکر کی حد تک رکھنے کی بجائے کشیدگی اور محاذ آرائی میں تبدیل کرنا وہ مشکل صورت ہے جو قوم کے لئے تشویش کا باعث امر ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے جانے کے بعد سول ملٹری تعلقات میں بگاڑ میں شدت آنے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہئے۔ اس ضمن میں اعلانیہ کردار تو عدالت کا ہے اور اگر کسی خفیہ کردار کی جانب سے ادائیگی ہوئی ہے تو کیا یہ مناسب نہ تھا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس معاملے پر باز پرس کا حق استعمال کرتے۔ یہ ایک عجیب بات ضرور ہے کہ ایک مذہبی گروہ کے دھرنے کو ختم کرانے کے لئے ایسے کردار سامنے آئے اور ایسے کردار و عمل کا مظاہرہ کیاگیا جس پر عدالت عظمیٰ کے جسٹس تک نے سخت ریمارکس دئیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سول و ملٹری تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر فریق دستور پاکستان پر عمل کرے اور جو دائرہ کار اور دائرہ اختیار ان کا آئین میں طے ہے اس کی پوری پوری پاسداری کی جائے اور ملکی معاملات کو مفادات سے مبرا رکھنے کی پوری کوشش میں ہر فریق اخلاص اور ایمانداری کا مظاہرہ کرے۔ ہر فریق اپنی اپنی راہ چلے تو ایک دوسرے کے آمنے سامنے آنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ سول و ملٹری تعلقات کا آئین و دستور میں تعین موجود ہے اور ہر دو نے آئین کی پابندی اور اپنے فرائض منصبی کی اس کے تحت ادائیگی کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ اگر اس حلف کی پاسداری ہو تو کسی وزیر دفاع کو وزارت دفاع کی عمارت میں پریس کانفرنس کرتے یوں دل کے پھپھولے نہ پھوڑنا پڑیں گے۔توقع کی جانی چاہئے کہ جانبین کو اس امر کا جلد احساس ہوگا اور وہ ایسے معاملات سے اجتناب کا راستہ اختیار کریں گے جس کی منزل کشیدگی ہو۔

اداریہ