Daily Mashriq

نواز شریف کا چیئر مین نیب کو چیلنج

نواز شریف کا چیئر مین نیب کو چیلنج

چیئر مین نیب کے ایک اخباری کالم پر تین ماہ بعد حرکت میں آنے پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ان کو پارلیمنٹ بلا کر استفسار کرنے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا ثبوت یا استعفے کے مطالبے کی صورتحال میں کون فریق زیادہ درست ہے اس سے قطع نظر احتساب کاعمل اور صورتحال جگ ہنسائی کی کیفیت کا شکار ہوگیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں احتیاط کے تقاضوں کو جس طرح ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت تھی اس درجے کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیاگیا۔ بہر حال اس صورتحال سے قطع نظر یقینا احتساب چیئر مین نیب کی ذمہ داری ہے لیکن ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے جو تقاضے ہوتے ہیں ان کی کسی طور خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔ خواہ کوئی بھی ہو ان کے خلاف تحقیقات ہوسکتی ہے لیکن اس کا انداز ایسا ہونا چاہئے اور تحقیقات سے قبل معاملے پر گفتگو مناسب نہیں یقینا چیئر مین نیب نے ایک اخبا ری کالم کا سوچ سمجھ کر ہی نوٹس لیا ہوگا لیکن چونکہ یہ معاملہ اب احتساب کے عمل کے لئے ہی سوالات کا باعث بن رہا ہے اس لئے جتنا جلد اس سلسلے میں پیش رفت کی جائے اتنا بہترہوگا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے چیئر مین نیب سے استعفے کامطالبہ تو مناسب نہیں مگر نیب سے ثبوت مانگنا اور تحقیقات کے ذریعے اس معاملے کو ثابت کرنے کا چیلنج اب نیب کے وقار اور احتساب کے عمل کی وقعت کا سوال بن چکا ہے۔
فاٹا اصلاحات کی بیل پھر منڈھے نہ چڑھ سکی
فاٹا اصلاحات کے معاملے پر وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والا پارلیمانی جماعتوں کے دوسرے اجلاس میں بھی وزیر اعظم نے اس معاملے کو مسلم لیگ (ن) کی مجلس عاملہ میں لے جانے کا اعلان کرکے گویا فاٹا اصلاحات پر بھاری پتھر رکھ دیا جس کے بعد اب موجودہ دور حکومت میں فاٹا اصلاحات کی عملی شکل دیکھنے کا اب کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اجلاس میں حسب سابق فاٹا اصلاحات پر جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی حسب سابق اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔اس ضمن میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ حکومت اور جے یو آئی (ف) کیساتھ پانچ سال تک فاٹا کی حیثیت تبدیل نہ کرنے کا معاہدہ موجود ہے۔ حکومت اجلاس میں مکمل طور پر بے بس دکھائی دی۔ ثابت ہو گیا مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی فاٹا اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔فاٹا کا انضمام عوام کی مشاورت سے کرنے کی تجویز میں بھلائی کا پہلو ضرور ہے لیکن اس کو ممکن بنانے میں تاخیر در تاخیر اور دکھاوے کے اجلاس اور اقدامات، قبائلی بھائیوں کیساتھ مذاق سے کم نہیں۔ طریقہ کار جو بھی اختیار کیا جائے فاٹا کے عوام اب جلد سے جلد فرنگی نظام سے چھٹکارہ چاہتے ہیں، اگر اس بنیادی نکتے پر کوئی اختلاف نہیں تو پھر طریقہ کار اختیار کرنے میں اس قدر تاخیر کی کیا ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو بیک وقت متعارف کرانے کی بجائے پہلے عدالتی مشینری کی فعالیت کا اہتمام کیا جائے، اس کے بعد ہی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشنز کا ٹائم فریم ضروری اقدامات کی تکمیل کے بعد دیا جائے۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں میں مشاورت اور اتفاق رائے ہی کافی نہ ہوگا بلکہ قبائلی عوام اور ان کے نمائندوں کی تجاویز کو بھی سمونے کی ضرورت پڑے گی جس کیلئے وقت درکار ہوگا۔ فاٹا کے انتظامی معاملات چلانے کیلئے پولیٹیکل انتظامیہ کی جگہ سول انتظامیہ کو وجود میں لانا بھی بتدریج اور مرحلہ وار ہی ممکن ہوگا۔ اس وقت جبکہ قبائلی علاقہ جات میں قیام امن کے بعد استحکام امن اور بنیادی اساس کی بحالی کا مرحلہ ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے اس پر پوری توجہ دے کر اس کو یقینی بنایا جائے۔ فاٹا کے عوام کے بنیادی مسائل اور خاص طور پر کاروبار کی بحالی کو اولیت دی جائے تاکہ نظام کی تبدیلی روبہ عمل لائی جائے تو فاٹا کے عوام کو اس نظام میں ڈھلنے میں مشکلات کی بجائے راحت کا احساس ہوگا۔ فاٹا اصلاحات کا بنیادی مقصد ہی عوام کی فلاح اور مسائل کا خاتمہ ہونا چاہئے اسے جلد سے جلد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے جسے سیاسی مخالفت اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھاناکسی صورت بھی مناسب نہیں۔ فاٹا کے عوام اور منتخب نمائندوں نے ان اصلاحات کی منظوری کے لئے بہت جدوجہد کی ہے اور وہ جلد سے جلد ان اصلاحات کے نفاذ کے متمنی ہیں۔ حکومت نے فاٹا میں عدالتی عملداری اور بندوبستی قوانین کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کے عمل پر عملدرآمد کا تو اعلان کیا ہے مگر اس حوالے سے سرکاری طور پر اب بھی اقدامات کرنے کی بجائے اسے بھی التواء کا شکار بنادیاگیا ہے۔ سیاسی رہنمائوں کو سیاسی مفادات سے ایک قدم آگے بڑھ کر بھی سوچنا چاہئے اور عوامی مفاد اور خواہشات کے مطابق معاملات میں اس طرح کی رخنہ اندازی سے گریز کرنا چاہئے۔

اداریہ