Daily Mashriq

عوام کوکیا ملا؟

عوام کوکیا ملا؟

جب بھی میاں نواز شریف اوران کی بیٹی محترمہ مریم صفدر پبلک اجتما عات میں بات کر تے ہیں تو دونوں کہتے ہیں کہ ووٹ اور عوام کو عزت دو۔ میں اس کالم کے تو سط ان سے پو چھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے عوام کے لئے کیا کیا جنہوں نے آپ کو ووٹ دیا ۔ بلکہ اپنے دور حکومت میں آپ نے پا کستان کے عوام پر مہنگائی اور قرضوں کا مزید بو جھ ڈالا ۔ اور اب تو آپکے صدر ممنون حسین بھی کہتے ہیں کہ حکمرانوں نے اپنے دور حکومت میں18 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا انہوں نے اُس کاکیا کیا ۔آپ کس عوم اور ترقی کی بات کرتے ہیں۔یہ دونوں اور انکی پا رٹی عدالت کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے۔ اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ؓاور حضرت علیؓ جیسے عظیم لوگ عدالت میں پیش ہوتے ہیں ۔ تو پھرہم اور آپ کون ہوتے ہیں عدالت اور انصاف سے انکار کرنے والے ۔ اگر ہم ن لیگ حکومت کی پانچ سالہ کا ر کر دگی پر نظر ڈالیں تو اس دور میںپا کستان کا کل قرضہ28000 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ہر پاکستانی ایک لاکھ30 ہزار روپے مقروض ہے۔ پاکستان کا کل قرضہ ملک کی اقتصادیا ت کا 70 فی صدہے۔ جو بُہت زیادہ ہے۔ نواز شریف وہ خوش قسمت حکمران ہیں جن کے دور میں عالمی ما رکیٹ میں خام تیل کی قیمت 30 اور 40 ڈالر بیرل کے درمیان رہی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں عالمی ما رکیٹ میں تیل کی قیمت 120 ڈالر سے لیکر 130ڈالر فی بیرل رہی مگرنہ تو نواز شریف کے دور میں بجلی اور توانائی کے ذرائع سستے ہوئے اور نہ دوسری چیزیں سستی ہوئیں۔ عالمی مارکیٹ میں 600 اشیاء کی قیمتیں سستی ہوگئیں مگر ہمارے ملک میں کوئی چیز بھی سستی نہیں ہوئی۔اور اب یہ حالت ہوگئی کہ کئی سماجی اقتصادی عشاریئے بنگلہ دیش، بھوٹان اور افغانستان سے بھی گر گئے۔ایک زمانہ تھا جب چوک یادگار میں ہتھ گاڑی میں افغانی کرنسی تبدیل کرنے کے لئے جاتے تو پو ری ہتھ گاڑی پر400 یا 500 روپے ملتے تھے اورآج ایک افغانی پاکستانی پونے دو روپے کے برابر اور ڈالر کی قدر ۱۱۹ روپے ہے۔ اقتصادیات کی اس ناگُفتہ بہ حالت کے با وجود بھی میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ ملکی معیشت میں بہتری آئی ہے اور پاکستان بُہت جلد اقتصادی ٹا ئیگر بننے والا ہے۔ ہمیشہ ممالک قرضے لیتے ہیں اور اقتصادی ترقی کے لئے قرضے لینا کوئی بُری بات نہیں مگر بد قسمتی سے وطن عزیز میں لئے گئے قرضے ملک اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں ہوتے بلکہ یہ پیسے حکمرانوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں۔آج کل ایم اے، ایم ایس سی، ڈاکٹرانجینئر زبے روز گار ہیں اور فکر معاش کے لئیسرگرداں ہیں۔ اور کسی کوچند ہزار کی نو کری بھی نہیں ملتی۔ اس وقت تقریباً 13 کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔قرضہ لینے کے با وجود ہمارے سماجی اقتصادی اعشاریئے مسلسل گر رہے ہیں۔ کیونکہ یہ قرضے ملک کے غریب عوام پر خرچ نہیں ہو رہے ہیں۔عالمی مالیاتی بینک کے مطابق پاکستان بین الاقوامی انسانی وسائل کے لحاظ سے 184 ممالک کی فہرست میں 147 ویں نمبر پر ہے۔پاکستان کے 50 فی صد لوگوں کو پینے کا صاف پانی، 50 فی صد لوگوں کو ٹائلٹ اور 50 فی صد لوگوں کو نکاسی آب کی سہولت میسر نہیں۔10 ہزار آبادی کے لئے 5 ڈاکٹر، 10 ہزار آبادی کے لئے 5 بیڈ اور5 نرس دستیاب ہیں اور وہ بھی صر ف بڑے شہروں میں دیہاتوں میں کچھ بھی نہیں۔پاکستان میں بچوں کی شرح اموات دو ہزار میں 120 ہے۔ گائوں اور دیہاتوں کی حالت صحت کے لحا ظ سے انتہائی نا گُفتہ بہ ہے۔وکی پیڈیا کے مطابق پاکستان میں خواندگی کی شرح 55 فی صد ہے۔ تعلیم پر قومی وسائل کا کم ازکم 6 فی صد استعمال کرنا چاہئے مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیم پرقومی وسائل کا صرف 2 فی صد خرچ کیا جاتا ہے۔ دنیا کے 200 ممالک میں 130 ممالک ایسے ہیں جو پاکستان کے ساتھ یا پاکستان کے بعد دنیا کے نقشے پر وجود میں آئے مگر افسوس کی بات ہے کہ ان 130ممالک میں پاکستان سماجی اقتصادی لحا ظ سے سب سے نیچے ہے۔پاکستان میں ہر سال 35 لاکھ نوجوان تعلیم مکمل کرتے ہیں مگر ان نوجوانوں کو کھپانے کے لئے حکومت کے پاس کوئی انتظام نہیں۔پاکستان کی 84 ممالک کے ساتھ تجارت ہے مگر بد قسمتی سے پا کستا ن کا تجا رتی خسارہ 6.5 بلین ڈالر ہے۔سال 2013 سے سال 2015 میں پاکستان کی بر آمدات میں 14 فی صد کمی واقع ہوئی۔پاکستان کی کُل آمدنی میں ،صنعتیشعبہ کا کردار اہم ہے جو ما ضی میں 25 فی صد تھی اور نواز حکومت میں 20 فی صد ہوگئی۔ٹیکسٹائل انڈسٹری میں 43 فی صد کمی ہوئی۔ غریبوں کے نام پر ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں سے پیسے لئے جاتے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام کے سماجی اقتصادی اعشاریئے اچھائی کے بجائے مسلسل تنزلی کا شکار ہیں۔اس ملک کے غریب عوام کی زندگی میں اُس وقت تک تبدیلی نہیں آسکتی جب تک وہ اس قسم کے کرپٹ اور بد عنوان حکمرانوں کو چُن کر اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں۔اب جبکہ عام انتخابات قریب ہیں میری پاکستان کے عوام سے استد عاہے کہ خدارا ذات پات ، سیاسی پا رٹی سے بالاتر ہو کر ایسے لوگوں کو ووٹ دیں جو کم ازکم بدعنوان اور کرپٹ نہ ہوں۔

اداریہ