Daily Mashriq


پاکستان کا لائحہ عمل

پاکستان کا لائحہ عمل

امریکہ کی تازہ ترین حرکتوں پر کسی کو کوئی اچنبھا نہیں۔ یہ سب جو ہو رہا ہے اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی ذات سے منسوب کیا جا رہا ہے ۔ لیکن اس ساری صورتحال میں اس امر کو ذہن میں رکھنا بھی بہت اہم ہے کہ امریکہ میں ملکی پالیسی محض کسی ایک شخص یا جماعت کی سوچ کا نتیجہ نہیں ہوسکتی اس حوالے سے ہمیشہ ہی یہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی مرتب کرنے میں کئی ادارے شامل تجویز رہتے ہیں۔ امریکی صدر اس کا اظہار ضرور کرتا ہے۔ اس خارجہ پالیسی پر اس کی سوچ کی اثر پذیری بھی رہتی ہے لیکن مکمل دبائو کی سی کیفیت نہیں ہوتی۔ ایران کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان اور دونوں ملکوں کے درمیان جوہری معاہدے کی تنسیخ کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سب سے اہم سوال تو اس ساری صورتحال میں یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ سارے نظام پر اس بری طرح حاوی ہو چکے ہیں کہ امریکہ کی اپنی سوچ معطل ہو چکی ہے۔ پہلے تمام صدور کے ساتھ امریکہ کا بقیہ نظام تو پورے طور کام کرتا رہا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یہ نظام شاید بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی ترجیحات اب امریکہ کے بین الاقوامی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوں گی۔ امریکہ کے یورپی ساتھی ممالک بھی اس تنسیخ سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ سے نہ صرف کئی بار اپنے تحفظات کااظہار کر چکے ہیں بلکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کو ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ اس ساری صورتحال جو ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے نتیجے میں جنم لے گی کا مشرق وسطیٰ پر خاصا منفی اثر مرتب ہوسکتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کی جانب سے پیش گوئیوں کی بھرمار تو ہے ہی لیکن اس بات سے نظر نہیں چرائی جاسکتی کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے سعودی عرب اور اسرائیل سے بیک وقت نہایت اچھے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب کے ایران سے تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں رہے۔ اسی لئے ڈونلڈ ٹرمپ کی تائید کرتے ہوئے سعودی عرب نے یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ ایک مسلمان ملک کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسرائیل کی مسلمان ملکوں سے دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا کردار بھی ہم ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں۔ اس سارے منظر نامے میں پاکستان کے لئے بھی کئی مشکلات منہ کھولے کھڑی ہیں۔ جن کا بھرپور ادراک اس وقت پاکستان کے لئے بہت اہم ہے۔ پاکستان اس وقت خود بھی درون خانہ کئی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ ملک میں حقیقی احتساب نے ایک اودھم مچا رکھا ہے۔ وہ جن کا احتساب ہو رہا ہے خاصی پریشانی کا شکار ہیں وہ اور ان کے ساتھی مل کر خوب ہنگامہ برپا کئے ہوئے ہیں۔ ایسے میں امریکہ کا یہ اقدام اور سعودی عرب کا یوں امریکی حمایت کرنا پاکستان کے لئے کئی مشکلات کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان اپنے آپ کو سعودی عرب کے فیصلوں کی اثر پذیری سے بالکل الگ نہیں کرسکتا۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران‘ پاکستان کا ہمسایہ برادر ملک ہے۔

پاکستان کی خواہش ہے کہ اس کے تعلقات ایران سے بھی اچھے رہیں۔ ایران سے تجارتی روابط کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ گوادر اور چاہ بہار کی بندرگاہوں کے معاملات میں جو باتیں ایران اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کا باعث بن سکتی تھیں‘ انہیں نہایت احسن طور سے حل کرنے کی کوششیں بھی جاری تھیں۔ دونوں بندر گاہوں کو ایک دوسرے سے ملانے‘ ان کے درمیان زمینی رابطے استوار کرنے اور دونوں بندر گاہوں کی بہتری اور اثبات کے لئے استعمال کرنے کی کوشش بھی جاری تھی۔ کئی منصوبوں پر غور و خوض جاری تھا۔ پاکستان کو اس وقت نہایت احتیاط سے دونوں ملکوں سے اپنے تعلقات طے کرنے کی ضرورت ہوگی۔ امریکہ سے پاکستان کی دوری ہی صرف معاملہ کا ایک اہم پہلو نہ ہوگی جو راستہ منتخب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ سعودی عرب سے تعلقات بھی اپنا دبائو ڈالیں گے۔ اسرائیل کے حوالے سے پاکستانی قوم کے جذبات اور حکومت کا کردار بھی بہت اہم ہوگا لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سی پیک کی موجودگی اور مستقبل کی اس سارے معاملے پر اثرات کا جائزہ لینا بھی بہت اہم ہوگا۔ یہ بات طے کی جانی ضروری ہے کہ پاکستان اپنے ماضی کے جذباتی کردار کو برقرار رکھے گا جس میں دوستیاں اور وفاداریاں طے کرنے اور نبھانے کا معیار کچھ اور رہا ہے یا صورتحال میں کسی تبدیلی کا امکان ہے۔

سعودی عرب سے ہماری محبت اور عقیدت اپنی جگہ لیکن ایران ہمارا ہمسایہ بھی ہے اور برادر اسلامی ملک بھی۔ تجارت میں تو لوگ اور اقوام اپنی جذباتی وابستگیوں کو اکثر ہی بھول جایا کرتے ہیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھنا بھی اہم ہے کیونکہ اس بات سے تو قوموں پر ترقی کے راستے کھلتے ہیں۔ چین کے بھارت کے ساتھ لاکھ شکوے سہی لیکن دونوں کے درمیان تجارت کا حجم روز بروز بڑھ رہا ہے۔ یہ وقت پاکستان کے لئے بھی نہایت اہم ہے۔ ہمیں کئی حساب کتاب دوبارہ کرنے ہوں گے اور ذہن میں غالب خیال یہی رہے گا کہ پاکستان ‘ پاکستان کا مستقبل اور پاکستان کی معیشت سب سے اہم ہیں۔

متعلقہ خبریں