سوشل میڈیا اور صوبائی سیاست

سوشل میڈیا اور صوبائی سیاست

میڈیا کے منفی استعمال کے بر عکس اس کا فائدہ یہ ہے کہ جس طبقے کی شنوائی کسی بھی پلیٹ فارم پر نہیں ہو رہی تھی وہ طبقہ سوشل میڈیا کے ذریعہ بھر پور طریقے سے اپنا پیغام عوام اور حکام بالا تک پہنچا رہا ہے۔صرف گزشتہ چند دنوں کا ہی جائزہ لیں تو اس میں متعدد مثالیں ایسی موجود ہیں کہ سوشل میڈیا پر تحریک اٹھنے سے حکام بالا نوٹس لینے اور اس کے سدباب پر مجبور ہوئے۔ ایک وقت تھا سیاستدان عوام کو لولی پاپ دکھا کر عوام کی ہمدرددیاں حاصل کر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لیا کرتے تھے اور پھر پانچ سال کا عرصہ یونہی گزار کر دوبارہ کوئی نیا لولی پاپ تیار کرکے عوام کی ہمدرددیاں حاصل کرلیتے تھے ،آج صورتحال مگر یکسر تبدیل ہو چکی ہے،عوام سیاستدانوں سے پائی پائی کا حساب مانگ رہے ہیں ،جو سیاستدان اپنے حلقے سے عوام کے ووٹ کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد کو اپنا مسکن بنا لیتے تھے، حلقے میں نہ آنے پر عوام انہیں مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں ایک عرصہ تک سرائیکیوں کو الگ صوبے کا لولی پاپ دکھایا جاتا رہا ہے ،حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سیاستدانوں کو سرائیکی صوبے کا خیال پانچ سال پورے کرنے کے بعد ہی آتا ہے ،سرائیکی خود یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن سے الگ ہونے والے سیاستدان پانچ سال تک حکومت میں رہے ،فوائد اٹھاتے رہے لیکن انہوں نے سرائیکی صوبے کی کوئی بات نہ کی آخر کیوں؟ اسی طرح کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ،مردم شماری 2017میں پنجاب کی آبادی 11کروڑ سے متجاوز ہے جو باقی تینوں صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے لہٰذاانتظامی لحاظ سے پنجاب کو دو یا دو سے زیادہ صوبوں میں تقسیم کرنے میں کیا حرج ہے؟
امر واقعہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں ضم ہو گیا۔ اس حوالے سے دونوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا‘ جس کے نکات کے مطابق جنوبی پنجاب صوبے کا قیام تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کی بنیاد ہے۔ معاہدے میں اقتدار میں آنے کے بعد 100 دن میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کمیٹی بھی بنائی جائے گی۔ تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب محاذ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو یادداشت کا نام دیا گیا ہے۔ اس انضمام اور اس معاہدے کو ملکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جنوبی پنجاب محاذ اپنے طور پر تو سرگرم تھا ہی‘ لیکن اسے اپنی آواز قومی سطح پر اٹھانے اور ایک الگ صوبے کے حوالے سے اپنی بات منوانے کے لیے بہرحال ایک بڑے پلیٹ فارم کی ضرورت تھی‘ جو اسے تحریک انصاف کی صورت میں مل گیا ہے۔ اس انضمام کا دونوںپارٹیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ تحریک انصاف کو یہ فائدہ ملے گا کہ وہ جنوبی پنجاب کی بہت سی نشستیں اپنے اس نئے اتحادی کی مدد سے جیتنے کی کوشش کرے گی‘ کیونکہ اس محاذ کو ایک نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے موثر آواز تصور کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے لوگ اسے بخوشی ووٹ دینے پر رضامند ہو جائیں گے۔ جنوبی محاذکا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو جائے گا۔ جنوبی پنجاب صوبہ کے حامی پنجاب میں ایک نیا صوبہ بنانا چاہتے ہیں۔ پنجاب کے جنوبی سترہ اضلاع پر مشتمل اس مجوزہ صوبے میں ممکنہ طور پر جھنگ سے لے کر رحیم یار خان تک اور بہاولنگر سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان تک کے علاقے شامل ہوں گے۔ 2014ء میں بھی پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے چند اراکین نے ایک الگ صوبے کا مطالبہ کیا تھا اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس کی حمایت کی تھی۔ اس دوران بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا۔ اس کے متوازی ایک بحث یہ جاری ہے کہ صرف پنجاب ہی کیوں‘ دوسرے صوبوں میں بھی نئے چھوٹے صوبے بننے چاہئیں۔ اس کے لیے دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ پاکستان کے ہم پلہ ممالک اور پاکستان کی آبادی کے نصف سے بھی کم والے ممالک مثلاً ترکی، افغانستان اور ایران ہمارے ملک کی نسبت زیادہ انتظامی اکائیاں رکھتے ہیں۔
اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ترکی میں 81، افغانستان میں 34 ، بھارت میں 28اور ایران میں 31 صوبے ہیں جبکہ پاکستان سے رقبے اور آبادی‘ دونوں اعتبار سے انتہائی چھوٹے ممالک‘ سری لنکا میں 9 اور نیپال میں 7 صوبے ہیں۔ علاوہ ازیں نئے صوبے بننے کا عمل ہر دور میں جاری رہا ہے، جیسے بھارت میں 2014ء میں مزید دو نئے صوبے بنے تھے۔ اس زمینی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ چھوٹے یونٹس کو انتظامی لحاظ سے کنٹرول کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اسی سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے اگر نئے صوبوں کے مطالبے کو سنجیدگی سے زیر غور لایا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں‘ بلکہ امید ہے کہ ایسا کرنے سے ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال بہتر ہو جائے گی، تاہم یہ تقسیم لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی ضروریات کے تحت ہونی چاہئے۔

اداریہ