سعودیوں کا پاکستانیوں کے ساتھ امتیازی برتائو

سعودیوں کا پاکستانیوں کے ساتھ امتیازی برتائو

سعودی عرب کے ساتھ پاکستانی حکومت اور عوام کی پہلے دن سے عقیدت و محبت دنیا کی ساری دیگر اقوام سے زیادہ منفرد اور اپنی نوعیت کی بے مثال اور بے لوث ہے۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہر پاکستانی مسلمان کو معلوم ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ اپنی جان‘ اولاد‘ ماں باپ اور اموال سب کو ملا کر بھی سے زیادہ محبت ہے اور یہی محبت ایمان کی بنیاد ہونے کے علاوہ قیام پاکستان کاجذبہ محرکہ اور استحکام پاکستان کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔سعودیوں نے ہماری اس ’’کمزوری‘‘ کو پکڑا اور خوب خوب استعمال کیا اور اس کی قدر کرنے والے بہت کم پیدا ہوئے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی بھی عجیب داستان اورکیفیت ہے۔ شاید ہی دنیا کے کسی دو ملکوں کے درمیان ایسا ہو۔ پاکستان کی حکومت اور عوام دونوں کی سطح پر واری نیارے اور صدقہ ہونے کی کیفیت ہمیشہ رہی ہے یہاں تک کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے لبرل اور سوشلسٹ افکار کے حامل وزیر اعظم بھی اس محبت میں کسی سے کم نہ تھے۔لیکن سعودی حکومت کی سطح پر شاہ فیصل اور شاہ خالدؒ کے علاوہ جو حکمران گزرے ہیں یا موجود ہیں ان کو پاکستان کے ساتھ ضرورت کی بنیاد پر آقا اور حاجت مند (غلام لکھ نہیں سکتا تھا ور نہ جس ملک کے وزراء کسی ملک کے اقامہ پر ہوں ان کے لئے ملازم تو لکھا جا ہی سکتا ہے) جیسے رہے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان کو جب بھی معاشی نزع کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا ہے یا سپر طاقتوں کی پابندیوں کا بہر حال اس ’’اپر ہینڈ‘‘ رکھنے والے دوست نے قرض پر تیل دیا اورزرمبادلہ کے ذخائر کو خطرناک حدوں کو چھونے سے بچانے کے لئے کچھ نہ کچھ کیا ضرورہے۔ لیکن یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اس کے پیچھے پاکستان کی حکومت اور افواج کا بھی بڑا کردار ہے ورنہ سعودی اتنے اچھے نہ تھے نہ ہیں۔ اسی طرح سعودی عوام میں بھی دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ دیندار طبقہ ہے جو پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ دین کی بنیاد پر اچھا سلوک کرتے ہیں لیکن یہ طبقہ کمزور ہونے کے علاوہ کم بھی ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو پٹرول کی دولت کے بل بوتے پر بدوئوں سے شیوخ بنے ہیں اور ویزوں کے کاروبار کے علاوہ ہر وہ کام کرتے ہیں جس میں دو پیسے ہاتھ آتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو پاکستانی محنت کشوں پر پہلے لاکھوں روپے میں ویزہ بیچتے ہیں اور پھر کام کروا کر تنخواہیں یا معاوضہ دینے میں لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔ اگر یہ پاکستانی بے چارے پیسے دینے پر اصرار کرتے ہیں تو ویزہ کی تجدید نہیں کرتے اور پھر پولیس (شرطہ) کے حوالے کردیتے ہیں۔ یوں سعودی جیلوں میں ہزاروں پاکستانی بے چارے مہینوں سالوں سڑتے رہتے ہیں۔
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے لوگ بھی وہاں جا کر عموماً غیر قانونی کاموں اور منشیات میں ہاتھ مارتے ہیں۔ میرے خیال میں منشیات کے جرم میں جتنے پاکستانیوں کے سر قلم ہوئے اتنے کسی اور ملک کے باشندوں کے نہیں ہوئے ہوں گے۔ لہٰذا پاکستانی وہاں بد سے بدنام برا کے مصداق نا پسندیدہ افراد میںشامل ہوگئے۔ ایک اور بری خصلت جو پاکستانیوںبالخصوص پختونوں میں ہے وہ یہ کہ وہاں محنت مزدوری کے لئے جا کر بھی اکڑ خانی نہیں چھوڑتے۔پاکستانیوں کی بے چارگی اور اپنے حقوق سے محرومی میں ایک بڑا کردار حکومت پاکستان اور وہاں کے سفارت خانہ کے اہلکاروں کا بھی ہوتا ہے۔ بھارت اور دوسرے ملکوں کے سفراء وہاں اپنے آپ کو اپنے ملک کے لوگوں کا سول سرونٹ سمجھتے ہیں جبکہ ہمارے سفیر اور دیگر عملہ الا ماشاء اللہ وہاں ’’صاحب بہادر‘‘ بنے ہوتے ہیں اور عوام کا ان سے اپنے مسائل کے حوالے سے ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ بہر حال ان ساری باتوں کے علی الرغم کسی قوم کے افراد کی عزت اور حقوق کی حفاظت و پاسداری میں اپنے ذاتی کردار کے علاوہ حکومتوں کی پالیسیوں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکی لوگ پاکستان میں اپنی گاڑیوں سے پاکستانیوں کو کچل دیتے ہیں تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ان کو بھی یہ جرأت ہو جاتی ہے کہ پاکستانیوں کو دبائے رکھیں اور ان کے ساتھ مظالم روا رکھے جائیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اب جبکہ سعودی عرب میں بڑی جوہری تبدیلیاں آرہی ہیں اوروہاں بھارت کو امریکہ کی آشیر وادسے بڑا کردار مل گیا ہے۔ وہاں اب سینکڑوں سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش ہو گی۔ تجارت بڑھے گی اور بھارتی افراد قوت میں اضافہ ہوگا۔ لہٰذا پاکستان کے پالیسی سازوں‘ اہل اقتدار اور بالخصوص آرمی چیف سعودی عرب میں سابق چیف راحیل شریف کے ذریعے پاکستانیوں کی واپسی اور ان کے حقوق و مسائل کے حوالے سے ٹھوس بنیادوں پر سعودی حکمرانوں سے ایسی بات کرنا ہوگی جس کے اثرات سعودی تاجروں اور کمپنیوں کے مالکان تک پہنچ جائیں۔ پچھلے دنوں آنے والی اس خبر نے تو ہمارے دل جلا دئیے کہ سعودی عرب نے دنیا بھر کے لئے ویزہ پالیسی نرم کردی لیکن پاکستان کے لئے بدستور سخت رکھی ہے۔ اگر یہ پاکستانیوں سے اس قدر بے زار ہیں تو پھر اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پاک افواج کے ساتھ بھی دلی تعلق کے بجائے ناگزیریت اور مجبوری کار فرما ہے جبکہ ہم سعودیوں کو حرمین الشرفین اور حضور اکرمؐ کی محبت میں دل و جان سے چاہتے ہیں۔ علامہ نے تو آخری اشعار بھی یہی کہے تھے
سرود رفتہ باز آید کہ ناید
نسیمے از حجاز آید کہ ناید

اداریہ