مشرقیات

مشرقیات

حضرت وہب بن منبہؒ فرماتے ہیں کہ : جب حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کو فرعون کی طرف بھیجا تو فرمایا: تم اس کے دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ سے نہ ڈرنا‘ اس کی پیشانی تو میرے قبضے میں ہے۔ وہ میری اجازت کے بغیر تو نہ بول سکتا ہے نہ ہی پلک جھپکا سکتا ہے اور نہ ہی سانس لے سکتا ہے نہ ہی اس کے دنیاوی ساز و سامان سے تعجب کرنا کہ یہ تو دنیاوی زندگی کی آرائش اور دولت مندوں کی زینت کا سامان ہے۔ اگر میں چاہوں تو تمہیں بھی دنیا کی آرائش کا وہ سامان عطا کر سکتا ہوں کہ جسے فرعون بھی دیکھے تو بول اٹھے کہ یہ تو میرے بس سے بھی باہر ہے۔ مگر میں اسے تم سے تو دور ہی رکھنا چاہتا ہوں‘ اپنے دوستوں کے ساتھ شروع ہی سے میرا یہی معاملہ ہے کہ میں دنیاوی مال و متاع ان کے لئے پسند نہیں کرتا اور دنیاوی نعمتیں ان سے اس طرح دور رکھتا ہوں جس طرح ایک مہربان چرواہا اپنی بکریوں کو مہلک چراگاہ سے دور رکھتا ہے اور اس کی زیبائش ان سے اس طرح ہٹا دیتا ہوں جس طرح ایک مشفق چرواہا اپنے اونٹ کو خارشی اونٹوں کے پاس سے ہٹا دیتا ہے اور یہ بات اس وجہ سے نہیں کہ وہ لوگ میری نگاہوں میں ذلیل یا بے قدر ہیں‘ بلکہ اس لئے ہے تاکہ وہ میری کرامت و عزت‘ اعزاز و اکرام کا بھرپور صحیح سالم حصہ حاصل کرلیں۔ جو دنیاوی غرور و دیگر معاتب سے پاک صاف ہو اور میرے دوست جو زینت اختیار کرتے ہیں وہ تو عجز و انکساری‘ خشوع و خضوع اور خوف و تقویٰ کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ یہ اوصاف ان کے دلوں میں بسے ہوتے ہیں اور ان کے جسموں سے ظاہر ہوتے ہیں‘ یہی اوصاف ان کا لباس ہیں اور یہی ان کا شعار ہے جسے ظاہر کرتے ہیں‘ یہی ان کے دل کا شعور ہے۔ یہی ان کا ذریعہ نجات جس کے ذریعے کامیاب ہوں گے۔ یہی ان کا مقصد ہے جس کی آرزو رکھتے ہیں‘ یہی ان کی بزرگی ہے جس پر انہیں بجا طور پر فخر ہے‘ یہی ان کی علامت ہے جس سے وہ معروف ہیں‘ جب تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان کے سامنے عاجزی اختیار کرنا‘ اپنے دل و زبان کو اپنے سامنے پست رکھنا اور خوب اچھی طرح جان لو! جو شخص میرے کسی دوست کو خوف زدہ کرتا ہے وہ مجھ سے ٹکراتا ہے ‘ میں قیامت کے روز اس سے اچھی طرح انتقام لوں گا۔ (مسند احمد 79-83 ‘ حلیتہ الاولیاء 1/10-11‘ صفوۃ الصفوۃ 1/41-42)
حجا ج دو آدمیوں کو سزادے رہاتھا ، ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ اے حجاج ! مجھ کو سزا نہ دے ، میرا ایک حق تیرے اوپر ہے ۔ آپ کو ایک شخص گالی دے رہا تھا ، میں نے اس کو روک دیا تھا ۔ حجاج نے گواہ مانگا ۔ اس نے برابر والا اسیر بطور گواہ پیش کیا۔ حجاج نے اس سے پو چھا تو اس نے کہا یہ واقعی ٹھیک کہتا ہے ۔ حجاج نے گواہ سے پو چھا تو گالی دینے کو کیوںمنع نہ کیا ؟ اس نے حق گوئی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ میں تجھے اپنا دشمن سمجھتا تھا ، اس لئے خاموش رہا ۔ حجاج نے باوجود اس قدر سنگدل وظالم ہونے کے اس کی سچائی پر ان دونوں کو رہا کر دیا ۔ (مخزن صفہ نمبر 447)

اداریہ