Daily Mashriq

سخت معاشی حالات کیلئے تیار رہنے کی ضرورت

سخت معاشی حالات کیلئے تیار رہنے کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نظام کے ٹھیک ہونے تک قوم کو مشکل وقت برداشت کرنا ہوگا، قرضہ اُتارنے میں وقت لگتا ہے، ہمیں احساس ہے کہ اس وقت ہمارے لوگ مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر اس امر کا اعادہ کیا کہ دیہات میں ہم غریب گھرانوں کو گائے، بھینسیں، مرغیاں اور بکریاں دیں گے جبکہ شہری علاقوں میں سستے گھر دئیے جائیں گے۔ اسی طرح نوجوانوں کیلئے ہم قرضہ سکیم لارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کی وجہ سے مہنگائی ہوئی ہے جب ہماری حکومت آئی تو بجلی کے شعبہ میں1300ارب روپے کا قرضہ تھا جبکہ گیس کے شعبہ میں 150ارب روپے کا قرضہ تھا جس کی وجہ سے گیس اور بجلی مہنگی ہوگئی۔ عمران خان نے کہا کہ نظام ٹھیک ہونے تک قوم کو مشکل وقت برداشت کرنا پڑے گا۔ دریں اثناء پاکستان آئی ایم ایف سے ساڑھے چھ ارب ڈالر سے آٹھ ارب ڈالر تک قرض حاصل کرے گا۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کے تناظر میں یکم جولائی سے بجلی مہنگی کرنے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ دو مراحل میں ہوگا۔ ذارئع کے مطابق یکم جولائی سے 600ارب سے زائد کے ٹیکس لگیں گے۔ گیس کی قیمتیں دوسرے مرحلے میں بڑھانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے پاس اپنے انتخابی وعدوں اور دعوؤں کے برعکس آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی مجبوری اس بناء پر پیش آئی کہ اس کے بغیر کوئی چارہ باقی نہ تھا۔ وزیراعظم کے سابقہ بیانات کو مخالفین کی جانب سے سیاسی طور پر استہزاء کیلئے استعمال اپنی جگہ لیکن موجودہ حکومت کو معاشی مشکلات سے نکلنے کیلئے بالآخر وہی راستہ اختیار کرنا تھا جو ماضی کے حکمرانوں نے اختیار کیا۔ اس وقت ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی لحاظ سے غیریقینی کی جو کیفیت ہے اس میں بہتری کے امکانات کم اور مشکلات کے امکان زیادہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال کی ذمہ داری اگر ہم صرف حکمرانوں اور سیاستدانوں پر ڈالنے کی بجائے من حیث القوم قبول کر لیں اور اس حقیقت کو بھی تسلیم کرلیں کہ ہمارے بجٹ کا بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرنے کی مجبوری ایک حقیقت ہے۔ خطے میں جاری حالات اور خود ہماری بعض پالیسیوں کے باعث اس بات کی توقع نہیں کہ اس خطیر رقم میں کفایت کی کوئی صورت نکل سکے۔ 1988ء تک قلیل مدتی قرضوں کے باعث پاکستان کو معقول قسم کی مشکلات کا سامنا رہا، اس کے بعد سٹرکچلرل ایڈجسٹمنٹ کے پروگراموں کے باعث پاکستان سخت سے سخت شرائط پر قرضوں پر قرض لینے پر مجبور ہوا تو حالات بگڑتے گئے جس میں اضافہ دراضافہ دیکھنے میں آیا سوائے ایک بار کے جب پاکستان آئی ایم ایف کا محتاج نہ تھا۔ ماہرین کے مطابق اس وقت کے حصول قرض سے مشروط آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نہ صرف پاکستان میں مزید غربت اور بیروزگاری کا باعث بنیں گی بلکہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان عوام کو آن گھیرے گا۔ پاکستان کا اصل مسئلہ آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے قرض کی واپسی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی طرف سے عائد کردہ شرائط کو پورا نہ کرنا ہے۔ پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ پاکستان قرضہ تو لے لیتا ہے مگر قرض کے حصول کے وقت وعدہ کی گئی شرائط جیساکہ معاشی اصلاحات، پورا نہیں کرتا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان اس مرتبہ مکمل طور پر آئی ایم ایف کے رحم وکرم پر ہے اور پاکستان کو سخت شرائط پوری کرنا پڑیں گی۔ آئی ایم ایف کوئی روایتی بینک نہیں اس لئے آئی ایم ایف کا ڈیفالٹر ہونا خودکشی کے مترادف ہوگا۔ جس کے نتیجے میں پورے بین الاقوامی معاشی سسٹم سے الگ تھلگ ہونا ہوگا۔ قرض کا حصول کسی ملک کی معیشت کو چلانے کیلئے آخری حربہ ہوتا ہے۔ قرض کی زیادہ تر شرائط تو ابھی سامنے نہیں آئیں تاہم جو رپورٹس آ رہی ہیں یہ مصر ماڈل کا چربہ ہے۔ آئی ایم ایف میں مصر کو ایک پوسٹر چائلڈ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے سے پہلے مصر میں تقریباً30 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے تھے اور آج یہ شرح55 فیصد ہے۔ مصر میں اس طرح کے پروگرام کے ثمرات یہ ہیں کہ غربت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ مصر کی کرنسی کی قدر کم ہونے سے وہاں مہنگائی بہت تیزی سے بڑھی۔ پاکستان میں بھی یہی ہوگا، ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھے گا، روپے کی قدر کم ہوگی، غربت اور بیروزگاری بڑھے گی، تمام طرح کی سبسڈیز ختم ہوں گی، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی اور یہ سب پاکستانی عوام کیلئے بہت تکلیف دہ ہوگا۔ اس قرض سے پاکستان میں کسی طرح کا معاشی استحکام نہیں آئے گا کیونکہ یہ شرح نمو کو مزید گرا دے گا۔ آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کے دو سے تین برس تک ہمیں اپنے جی ڈی پی کی شرح نمو دو سے ڈھائی فیصد رکھنا ہوگی۔ جس ملک میں15 لاکھ نوجوان ہر برس روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہوں اس ملک میں شرح نمو کم ازکم سات سے آٹھ فیصد ہونا ضروری ہے۔ پاکستانی عوام پر اس قرضے کے شدید معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ مزید ٹیکس لگانے پڑیں گے، محصولات کو بہتر کرنا پڑے گا، شرح سود کو بڑھانا پڑے گا اور روپے کی قدر کو مزید گرانا پڑے گا۔ معاشی میدان میں موجودہ مشکلات اور مہنگائی میں صحیح معنوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کیساتھ شروع ہوگا۔ اس ساری صورتحال سے ملک کا ہر شعبہ متاثر ہوگا جس میں سیاست بھی شامل ہے عوام نے جن امیدوں اور توقعات کیساتھ موجودہ حکومت کے قیام کی راہیں ہموار کی تھیں موجودہ حکومتی نمائندوں پر اعتماد کا اظہار کیا تھا ان سے مایوسی اور مشکلات میں اضافہ سے دوچار ہونا حکمرانوں کیلئے کوئی اچھی صورتحال نہ ہوگی۔ اس صورتحال میں حکومت کو سب سے پہلے اپنی کفایت شعاری اور سادگی کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہو جانا چاہئے، سرکاری اخراجات اور دیگر غیرضروری مصارف میں نمایاں کمی لانے کی ضرورت ہے۔ ٹیکس وصولی سوفیصد یقینی بنائی جائے، زرعی شعبے پر بھی ٹیکس لاگو ہو نا چاہئے، حکومت جب عوام کیلئے مثال قائم کرے گی تو عوام کو بھی حوصلہ ہوگا، عوام غیرملکی مصنوعات سے مکمل اجتناب کر کے اپنی مدد آپ کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود مہنگائی بیروزگاری اور کاروباری طبقے کو نقصان برداشت کرنا پڑے گا جس کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں