Daily Mashriq


چیئرمین ایف بی آر کا مثبت قدم

چیئرمین ایف بی آر کا مثبت قدم

چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے اکاؤنٹس کے انجماد سے قبل پیشگی اطلاع اور ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کی روایت کا خاتمہ کرنے کی جو احسن سعی کی ہے اس پر عملدرآمد سے کاروباری تجارتی اور سرمایہ دار طبقے کی جانب سے شکایات میں کمی اور ان کا اعتماد بڑھے گا۔ نیب اور ایف بی آر جیسے سرکاری اداروں اور احتساب کے ادارے کی جانب سے اختیارات کا جس طرح کا اندھا دھند استعمال ہوتا رہا ہے اس سے ان اداروں کیساتھ متعلقین کا خلیج بڑھنا فطری امر تھا خاص طور پر ٹٰیکس دھندگان کو بجائے اس کے کہ وہ ٹٰکس دینے کی ذمہ داری کی ادائیگی پر بخوبی تیار ہوں پیچیدگیوں اور ہراساں ہونے کے باعث گوشوارے جمع کرانے کی بجائے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو بھاری فیس دے کر اعتراضات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چیئرمین ایف بی آر کا اقدام اعتماد کی فضا کے قیام کا باعث بنے گا جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ قانونی، اصولی اور اخلاقی طور پر کسی بھی اقدام سے قبل اس فریق کو صفائی کا موقع دینے اور وضاحت کا وقت دیا جاتا ہے۔ عدالت نے نیب کو کسی بھی ملزم کی گرفتاری سے قبل مطلع کرنے کی ہدایت کی حال ہی میں نظیر موجود ہے بہرحال ایف بی آر کے نئے چیئرمین کا یہ واحد احسن قدم کافی نہیں، ٹیکسوں کی وصولی کے نظام کی پیچیدگیوں سے لیکر طریقہ کار کی اصلاح اور ٹیکس نادہندگان یاکم ٹیکس دینے والوں سے ٹیکس کی وصولی اور ایف بی آر کے مقررہ ہدف کا حصول ان کی اہم ذمہ داری ہے۔ خود انہی کے مطابق بلیک اکانومی کا حجم بیس فیصد ہے جسے باقاعدہ بنانا ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس چیلنج سے کس طرح نبردآزما ہوتے ہیں اور مخالفت کے باوجود حاصل کردہ عہدے اور ان پر کئے گئے اعتماد پر کس حد تک پورا اُترتے ہیں۔

عوام کا کوئی سوچتا ہی نہیں

پست، نیم اوسط اور اوسط درجے کے سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں اور مراعات کیلئے جلسے، جلوسوں، مظاہروں، پریس کلب اور صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا جیسے اقدامات کے ذریعے مطالبات منوانے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔ ان کیساتھ ساتھ اب بیوروکریسی کے محولہ سرکاری ملازمین کی طرح کا طریقۂ کار اختیار کرنا کم ازکم اس قسم کے معاشی حالات اور صورتحال میں سمجھ سے بالاتر اس لئے ہے کہ بیوروکریسی ان حالات سے نہ صرف بخوبی واقف ہے بلکہ ان حالات کے عوامل کا بھی پورا پورا ادراک رکھتی ہے۔اس کے باوجودبیورو کریٹس تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ، یوٹیلیٹی الاؤنس، فیڈرل سیکرٹریٹ الاؤنس میں اضافہ اور گھر کی ہائرنگ کو تنخواہ کا حصہ بنانے جیسے مطالبات کو آئندہ مالی سال اور بجٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاج میں گریڈ 17 سے19کے افسروں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین پلے کارڈ اُٹھائے ''ون سکیل ون پے'' کے نعرے لگاتے رہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ ان کا50 ہزار کی تنخواہ میں گزارہ کرنا مشکل ہے۔ اگر مطالبات کو بجٹ میں شامل نہ کیا گیا تو قلم چھوڑ احتجاج کریں گے۔ بیوروکریسی اپنے مطالبات میں حق بجانب ہے یا نہیں اس سے قطع نظر انہیں غور کرنا چاہئے کہ ان کے ماتحت ملازمین کا گزارہ کس طرح ہوتا ہوگا۔ دیہاڑی دار مزدور اور عام محنت کش کی گزر بسر کیسے ہو رہی ہوگی جن کا کوئی روزگار نہ ہو ان کا کیا ہوگا۔ ارکان اسمبلی اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کی منظوری دیتے ہیں بیوروکریسی اپنے لئے راہ نکالتی ہے غریب عوام کا کوئی سوچتا ہی نہیں۔

متعلقہ خبریں