Daily Mashriq

جھوٹ کی شاندار تجارت

جھوٹ کی شاندار تجارت

چیف جسٹس آف پاکستان درست کہتے ہیں کہ '' ملک میں سب سے بڑا مسئلہ جھوٹ ہے' سب ایک دوسرے کو دھوکہ دینے میں مصروف ہیں''۔ ایک وقت میں دو سرکاری ملازمتیں رکھنے والی خاتون کے مقدمہ کی سماعت کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ پڑھے لکھے دھوکہ دیں گے تو ناخواندہ کیا کریں گے۔ سچ یہی ہے ہمارا اجتماعی مزاج جھوٹ بولنا اور بولتے چلے جانا بن گیا ہے۔ ایک دو نہیں درجن کیا سینکڑوں مثالیں عرض کرسکتا ہوں۔ مثلاً پچھلے چند سالوں کے دوران تواتر کیساتھ یہ پروپیگنڈہ کروایاگیا کہ نواز شریف غدار ہے' اچھا کسی سیاستدان کیلئے غداری کا الزام پہلی بار نہیں لگا، مرحوم خان عبدالغفار خان اور جی ایم سید مرحوم اس ملک کے اولین غداروں میں سے تھے۔ پھر فہرست میں اضافہ ہوتا ہوگیا ہر آنے والی سول اور فوجی حکومت نے اپنے بیانیوں کے مخالف کو غدار قرار دیا۔ ایک دور کے غدار دوسرے دور کے محب وطن، ایک دور کے لٹیرے دوسرے دور کے سادھو قرار پائے۔ ضرورتوں نے ترجیحات تبدیل کروائیں۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے اس صورتحال کا ذمہ دار دو چیزوں کو سمجھتا ہوں اولاً آزاد تاریخ نویسی کا نہ ہونا اور دوسرا مطالعے اور جستجو کی کمی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں نسیم حجازی' الیاس سیتا پوری اور ان جیسے تاریخ نویس قرار پائے۔ ان مرحوم بزرگوں نے تاریخ کے نام پر جو لکھا وہ سستی رومانویت کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن اس ملک میں جہاں میناناز کے نام سے لکھے گئے رومانی ناول ہاتھوں ہاتھ بکتے رہے ہوں وہاں تاریخ کے نام سے کیا لکھا گیا یہ راز ہائے درون سینہ نہیں۔ بدقسمتی سے ہم اپنے جھوٹ کو سچ منوانے کیلئے ہر حد سے گزر جانے کو واجب سمجھتے ہیں۔ سرف سے بنا دودھ دھڑلے سے فروخت ہوتا ہو تو جھوٹ کیسے منڈی کا مال نہیں ہوگا۔ فقیر راحموں کہتے ہیں جھوٹ بولنا اور پھر اس پر اتراتے رہنا ہمیں ورثہ میں ملا ہے۔ وہ کیسے؟ جواباً بولے شاہ جی! شہید سرمد اور پنجاب کے صوفی شاعر شاہ حسین کے معاملات کو لے لیجئے ان دونوں بزرگوں کی فہم کے مخالفین نے جو قصے ان کیخلاف گھڑ کر کتابوں کا حصہ بنائے بعد کی صدیوں میں کتنے لوگوں نے ان قصوں کی حقیقت جاننے کی جسجتو کی؟۔ بات تو درست ہے ستم یہ ہے کہ اس ملک میں سے تاریخ کو عقیدوں کی پوٹلی میں باندھ لیا گیا ہے۔ آزاد تجزیہ کفر سمجھا جاتا ہے، چند سال ہوتے ہیں جب حیدر آباد میں منعقدہ ایک سیمینار (یہ پروگرام صوفی ازم کے حوالے سے تھا) میں عرض کیا کہ لعل شہباز قلندر اور برصغیر میں نقوی البخاری سادات کے جد امجد حضرت سید جلال الدین سرخ پوش نقوی البخاری کو حضرت بہاوالدین زکریا ملتانی کا ارادت مند قرار دینے والے مارکیٹنگ کے شوق میں صدیوں کے حساب کو غڑپ کر جاتے ہیں۔ اس پر بہت لے دے ہوئی، تاریخ کے اوراق الٹے بغیر چند سیانے چڑھ دوڑے۔ بالآخر ہمارے قابل احترام مرحوم دوست اور سندھ کی معروف خانقاہ ہالہ شریف کے اس وقت کے گدی نشین مخدوم امین فہیم (اب مرحوم) کی مداخلت سے یہ محاذ آرائی ختم ہوئی مخدوم صاحب نے جو حوالہ جات مجھ طالب علم سے دریافت کئے وہ ان کی خدمت میں بھجوا دئیے تھے۔ ایک دن انہوں نے کراچی میں یاد کیا حاضر ہوا تو مسکراتے ہوئے کہا! سید تمہارا موقف درست ہے لیکن سید گزٹ برانڈ تاریخ پر ایمان لے آنے والوں کیلئے صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

یہ قصہ درمیان میں یاد آگیا تو عرض کر دیا۔ اس ملک کے معروف سیاستدان جاوید ہاشمی نواز شریف کے دوسرے دور میں سرکار کی طاقت کے ہمراہ حضرت بہاوالدین زکریا ملتانی کی خانقاہ پر قبضے کیلئے چڑھ دوڑے اور اپنے آپ کو اس کا وارث قرار دے دیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی ان دنوں حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ ریاستی طاقت جاوید ہاشمی کیساتھ تھی، ان دنوں انہی کالموں میں عرض کیا تھا جناب جاوید ہاشمی کا دعویٰ سجاوٹی درست نہیں کیونکہ ان کے خاندان کی حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی قریشی سے نسبت پر بھی چند سوال تاریخ میں موجود ہیں۔ مخدوم حقانی اور موئے مبارک ضلع رحیم یار خان کے سجادہ نشین خاندانوں کی حضرت بہاوالدین زکریا ملتانی سے رشتہ داری ضرور ہے مگر یہ رشتہ داری سجادگی کا حق نہیں دیتی۔ ہم ایک اور انداز میں جھوٹ کی پروازوں اور رائے عامہ کا ان پر دل وجان سے اعتبار کر لینے کے معاملات کو دیکھ لیتے ہیں۔ ہمارے ایک مہربان مخدوم سید فیصل صالح حیات نے کبھی ایک ٹی وی پروگرام میں جذباتی ہو کر جیب سے پنج سورہ نکالا اور زرداری کو کرپٹ قرار دیا۔ آج کل وہ پیپلز پارٹی کے دوبارہ مرکزی رہنما ہیں۔ خواجہ آصف پیپلز پارٹی کے دور میں رینٹل پاور میں کرپشن کا کیس لیکر سپریم کورٹ میں گئے۔ جناب نواز شریف میمو گیٹ سکینڈل میں کالا کوٹ پہن کر افتخار چوہدری کی عدالت میں پیش ہوئے۔ ان حضرات نے کبھی اپنے پرانے جھوٹوں پر قوم سے معذرت کی۔ ہمارے محترم وزیراعظم کہا کرتے تھے کسی بھی حال میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے لٹیروں کو اپنی جماعت میں نہیں لوں گا۔ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا۔ بیرون ملک پاکستانی میرے اقتدار میں آتے ہی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔ وہ ساری باتیں کیا ہوئیں، بہت ادب سے کہوں جھوٹ بکتا ہے بازاروں میں سچ کا خریدار کوئی نہیں۔ پورے آٹھ سال تحریک انصاف کہتی رہی پاکستان کا 200ارب ڈالر سوئس بنکوں میں پڑا ہے۔ اقتدار ملا تو وزیر خزانہ بننے والے اسد عمر نے ایک ٹی وی پروگرام میں ان 200ارب ڈالر کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا وہ تو جلسوں کی باتیں تھیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پورے سچ کو رواج دینا بہت مشکل ہے۔ جھوٹ سے رزق باندھ لینے والے سماج میں سچ کا ساتھ دینا پاگل پن کے سوا کچھ نہیں۔ جھوٹ کی جگہ سچ کی فضیلت اور ضرورت کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن کیا ہم اس کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ سادہ سا جواب یہ ہے کہ کوئی بھی بھوکا مرنے کو تیار نہیں بس اتنی سی بات ہے۔

متعلقہ خبریں