Daily Mashriq

سیاسی جماعتوں کی دہری پالیسیاں

سیاسی جماعتوں کی دہری پالیسیاں

سیاسی پارٹیاں دہری پالیسی کے قائل ہونے کے ناطے میڈیا کو برا بھلا کہنے اور اس کیساتھ تعلقات بھی بنائے رکھنے، اسی طرح سوشل میڈیا پر مسلسل پہرے بٹھائے رکھنے کے بھی قائل ہیں تو سوشل میڈیا پر اپنی اور پارٹی کی بھرپور تشہیر بھی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ایک ہی بات کو دوسروں کیلئے ناجائز وحرام اور اپنے لئے جائز قرار دینا ان کیلئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایک سیاسی جماعت بدل کر دوسری جماعت کیساتھ جانا یا دوسری سیاسی جماعت کیساتھ اتحاد کرنے کو ہمہ وقت برا اور بھلا کہا جاتا ہے۔ اگر اتحاد ان کی پارٹی کیساتھ ہو تو اچھا وگرنہ برا، ایک سیاسی جماعت دوسرے کیساتھ اتحاد کرے تو غدار اور ان کیساتھ کرے تو محب وطن اور شائستہ۔ اسی طرح انفرادی طور پر ایک سیاسی پارٹی چھوڑ کر جانے والے کو لوٹا کہنا بھی سیاستدان کی ہی مرہون منت ہے۔ نوے کی دھائی میں لوٹا کا صیغہ ایجاد ہوا اور ابھی حال ہی میں یوٹرن کی اصطلاح بھی زبان زدعام ہے۔ یوٹرن دراصل نئی ایجاد نہیں بس لوٹا ہونا یا پارٹی وبیان بدلنے کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ ماضی میں کل کے حریف آج کے حلیف اور آج کے حریف کل کے حلیف بن جاتے رہے ہیں۔ کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے سے سڑکوں پر گھسیٹنے جیسے بیانات کے بعد یہ دونوں مخالف سیاسی پارٹیاں ''معاہدہ جمہوریت'' کرنے کے بعد ایک دوسرے کو فرینڈلی اپوزیشن بھی مہیا کرتے رہے ہیں اور تو اور دینی جماعتیں بھی سیاست کی اس گنگا میں ہاتھ دھوتی نظر آتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ن لیگ کے دلدادہ ہوتے ہیں تو اگلے دور میں پیپلز پارٹی کے بھی متوالے رہے ہیں۔

اسی سلسلہ کی ایک کڑی گزشتہ ماہ ہونے والی پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ اتحاد کی باتیں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کا اگلا الیکشن ایم کیو ایم کیساتھ لڑنے کے اعلان پر ہر محب وطن پاکستانی کی طرح ہم بھی چونک سے گئے، کچھ کر تو نہیں سکتے تاہم اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔اندازہ یہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جلد ہی یہ اتحاد باقاعدہ شکل اختیار کرے گا اور مستقبل قریب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اس کا کامیاب تجربہ کیا جائے گا۔آج کل سندھ میں صوبائی حکومت سے متحدہ کو سخت حالات کا سامنا ہے، پیپلز پارٹی سندھ حکومت کے زور پر متحدہ قومی مومنٹ کے بلدیاتی سربراہان' جن میں میئر کراچی سرفہرست ہیں کو کام کرنے نہیں دے رہی۔ آئے روز فنڈز اور اختیارات کی کشتی لگی رہتی ہے۔ متحدہ کا وفاق میں پی ٹی آئی کیساتھ پہلے سے اتحاد ہے اور اب آنے والے بلدیاتی انتخابات میں اس اتحاد کو مزید تقویت دیکر باقاعدہ سیاسی اتحاد دونوں جماعتوں کی ضرورت بن گئی ہے۔

وفاقی یا صوبائی حکومت میں متحدہ کا حصہ رہے نا رہے ہر دور میں بلدیاتی انتخابات کی ضرورت پر زیادہ شور اور پرزور بات متحدہ قومی موومنٹ والے کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے انتخابات کروائے جائیں، بلدیاتی انتخابات کسی بھی سیاسی پارٹی کا ایک پاور شو ہوتا ہے سب سے زیادہ متحدہ کا، اور اگر دیکھا جائے تو ایم کیوایم کی تمام تر قیادت انہی بلدیاتی نظاموں کی پیدا کردہ ہے۔ ان میں نمایاں ڈاکٹر فاروق ستار ہیں۔ یہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں کراچی کے میئر رہے، مصطفی کمال نے بھی مشرف کے دور میں کچھ کم کمال نہیں دکھائے تھے۔ دیگر بھی بلدیاتی سیاست سے آگے آئے ہیں، سندھ اور پنجاب میں بھی کئی لیڈر بلکہ یوں کہا جائے کہ تمام بڑے لیڈر ایسے ہیں جو بلدیاتی نظام کے ذریعے سیاست میں آئے اور پھر صوبائی اور قومی سیاست کا حصہ بنے اور صرف متحدہ ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مقبول لیڈر اسی نرسری سے پروان چڑھے ہیں۔ ان میں شاہ محمود قریشی، یوسف رضا گیلانی، چوہدری نثار علی اور مصطفیٰ کمال جیسے باکمال اور لاجواب لوگ شامل ہیں۔ بڑے بڑے سیاسی برج اپنے سپوتوں کو اسی تربیت گاہ سے گزار کر کندن بناتے ہیں۔ جن سیاستدانوں کی تربیت پوری ہوجاتی ہے پھر وہ جلد ہی صوبائی یا قومی سیاست میں چمکتے نظر آتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے درخشاں ستارے بن جاتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں ہی اپنے ادنیٰ وورکر کو بلدیات اور پھر صوبائی اور قومی سیاست میں چمکنے کا بھرپور موقع فراہم کرتے ہیں۔ دوسری طرف کئی جماعتوں میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے اور بالخصوص دینی سیاسی جماعتیں تو ہرگز اس فارمولے پر عمل پیرا نہیں۔ دیگر سیاسی جماعتیں اس مقصد کیلئے اپنے بیٹے بھتیجوں کو موقع دیتے ہیں۔ اسی طرح ان کی بہو بیٹیاں بھی بلدیاتی سیاست کا حصہ بن کر اگلی دفعہ قومی سیاست میں انٹری دیتی ہیں۔ تحریک انصاف اسی جاگیردارانہ سیاست کے خاتمے کا عزم لیکر اُبھری ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کا پہلا انتخابی اتحاد کب بنتا ہے، آیا بلدیاتی انتخابات کی بھٹی میں اسے آزمایا جائے گا یا پھر ڈائریکٹ ہی عام انتخابات میں اس اتحاد کا ٹیسٹ ہوگا، کراچی کے علاوہ پاکستان بھر اور بالخصوص صوبہ سندھ میں تو اتحاد بڑا کارآمد ہوگا کیونکہ متحدہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے میں کوئی اعتراض نہیں کرے گی ہاں البتہ کراچی اور حیدرآباد کی تمام کی تمام سیٹوں پر بلاشرکت غیرے اپنے امیدوار لانے کیلئے ہر جتن کرے گی۔ یہ ہی ان دونوں پارٹیوں کی سیاسی بصیرت اور اس انتخابی اتحاد کا کڑا امتحان ہوگا۔ یہ نیا سیاسی اتحاد بڑے بڑے سیاسی برج گرانے میں ممد ومعاون بھی ہوسکتا ہے اور ان سیاسی جماعتوں کا اپنا شیرازہ بکھیرنے کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں