Daily Mashriq


کمائی کا مہینہ۔۔ مگر کس کیلئے؟

کمائی کا مہینہ۔۔ مگر کس کیلئے؟

پوری اُمت مسلمہ میں رمضان المبارک کا بھرپور استقبال کیا جاتا ہے کیونکہ رمضان المبارک کی آمد امت مسلمہ کیلئے سعادت کی علامت ہے۔ رمضان بھلائی کا مہینہ ہے' رمضان ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے' رمضان دوسروں کے غم بانٹ لینے کا مہینہ ہے، یہی وجہ ہے کہ رمضان کی بہاریں ہر اسلامی ملک میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ رمضان کی اصل روح کا مشاہدہ حرم مکہ اور حرم مدنی میں کیا جا سکتا ہے' جہاں دنیا کا سب سے بڑا دسترخوان سجتا ہے لیکن اس کا کوئی بجٹ نہیںہوتا۔ دونوں حرم میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں سحری وافطاری کرتے ہیں۔ انتظامی لحاظ سے افراد کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی لاکھوں لوگوں کے سحر وافطار کیلئے کسی بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اہل مکہ ومدینہ نے دونوں حرم کے تمام علاقوں کو آپس میں تقسیم کر کے جگہیں مختص کی ہوئی ہیں۔ اس کارخیر میں متعدد پاکستانی بھی شامل ہیں جو ہر رمضان المبارک مکہ ومدینہ میں گزارتے ہیں اور اللہ کے مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں۔

مسجد نبویۖ میں دسترخوان لگانے کیلئے منظورشدہ قواعد کے تحت لوگوں کو اجازت دی جاتی ہے جس کیلئے انتظامیہ رمضان المبارک سے قبل درخواستوں کی وصولی کا آغاز کرتی ہے۔ مسجد نبویۖ کے اندر اور باہر صحنوں میں جتنا بڑا دسترخوان لگتا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔ اس دسترخوان کی انفرادیت یہ ہے کہ میزبان منت سماجت کرکے زائرین کو اپنے اپنے دسترخوانوں پر افطاری کی دعوت دیتے ہیں اور ان کو احساس دلاتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے دسترخوان پر روزہ افطار کریں تو ہم پر ان کا یہ احسان ہوگا۔ انسان کی آنکھوں میں اس وقت آنسو تیرنے لگتے ہیں جب وہ حرم میں داخل ہو رہا ہوتا ہے اور سامنے میزبان اس کو ہاتھ سے پکڑ کر اسے دسترخوان پر بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ انسان میزبان کی زبان سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے لیکن پُرخلوص دعوت میزبان کے چہرے کے تاثرات سے عیاں ہو رہی ہوتی ہے۔ کئی دسترخوانوں پر ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کم سن بچے مہمانوں کا ہاتھ پکڑ پکڑ کر اپنے دسترخوان پر بیٹھنے کا اصرار کر رہے ہوتے ہیں۔

مسجد نبویۖ میں نماز عصر کے بعد ہی دسترخوان سجانے شروع کر دئیے جاتے ہیں۔ انواع واقسام کے کھانے، مشروبات، تازہ پھل، لسی اور دہی وغیرہ دسترخوان پر بڑی کثیر تعداد میں رکھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مدینہ منورہ کے باغات کی کھجوریں، عربی قہوہ بھی زائرین کو پیش کیا جاتا ہے، مسجد نبویۖ میں روزہ افطار کرنے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس کے سامنے دنیا جہاں کی نعمتیں رکھ دی گئی ہیں، وہ پھل بھی موجود ہوتے ہیں جن کا بظاہر موسم نہیں ہوتا۔ مسجد نبویۖ کے اندر چار میٹر کے دسترخوان کی تعداد تین سے ساڑھے تین ہزار تک ہوتی ہے۔ اگر تین ہزار دسترخوان کا حساب کریں تو اس کا فاصلہ بارہ کلومیٹر بنتا ہے۔ اس طرح مسجد نبویۖ کے صحن میں تیس میٹر کے تقریباً چار ہزار دسترخوان لگائے جاتے ہیں جس کا فاصلہ ایک سو بیس کلومیٹر بنتا ہے۔ اس طرح ٹوٹل ایک سو بتیس کلومیٹر شمار ہوگا اس کو ہم دنیا کا سب سے بڑا دسترخوان شمار کریں گے۔

مسلم ممالک میں رمضان المبارک کی اہمیت اور اس کی قدردانی ایک فطری عمل ہے لیکن غیرمسلم ممالک امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت تمام یورپی ممالک میں بھی رمضان المبارک کی قدر کی جاتی ہے، اشیاء خورد ونوش سستی کر دی جاتی ہیں اور مسلمان روزہ داروں کا احترام کیا جاتا ہے تاکہ اس ماہ مقدس میں مسلمانوں کیساتھ اظہار ہمدردی کیا جا سکے لیکن رمضان المبارک میں پاکستان سمیت کچھ مسلم ممالک کی حالت افسوسناک ہوتی ہے جسے رمضان فروشی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، کیا یہ ہمارے لئے شرم کا مقام نہیں کہ غیرمسلم تو ہمارے احترام میں اشیاء خورد ونوش سستی کر دیں اور ہم رمضان المبارک کو دنیاوی کمائی کا ذریعہ بنالیں، رمضان المبارک کمائی کا ذریعہ ہے لیکن دنیاوی کمائی کا نہیں بلکہ آخروی کمائی کا ذریعہ ہے۔ ہمارے تاجر، ہمارے آڑھتی اور کاروبار سے منسلک لوگ کیا جانیں کہ اصل تجارت کیا ہے، کیا اپنے اکاؤنٹس بیلنس بڑھانا ہی کامیابی ہے، رمضان المبارک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صدقات وخیرات کثرت کیساتھ کیا کرتے اور سخاوت کا یہ عالم تھا کہ کبھی کوئی سوالی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در سے خالی واپس نہ جاتا، رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت اور صدقات وخیرات میں کثرت سال کے باقی گیارہ مہینوں کی نسبت اور زیادہ بڑھ جاتی۔ اس ماہ صدقہ وخیرات میں اتنی کثرت ہو جاتی کہ ہوا کے تیز جھونکے بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکتے۔ ہمارے تاجر اورآڑھتی بھی رمضان المبارک میں ایک تجارت کر رہے ہیں، گراں فروشی کر کے، ذخیرہ اندوزی کرکے اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کیلئے مشکلات پیدا کرکے۔ تاجر برادری کا کیسا اکٹھ جوڑ ہے کہ جس کے سامنے انتظامیہ اور حکومت بھی بے بس ہے۔ ہماری تاجر برادری کو سوچنا ہوگا کہ رمضان المبارک تو کمائی کا مہینہ ہے لیکن وہ کیسی کمائی کر رہے ہیں دنیا کی ظاہری کمائی یا آخرت کی حقیقی کمائی؟۔

متعلقہ خبریں