Daily Mashriq


اس پتنگ نے ایک دن کٹنا ہے!

اس پتنگ نے ایک دن کٹنا ہے!

رمضان المبارک کے شب وروز کتنے قیمتی ہیں، رب کریم کی طرف سے مسلمانوں کو کتنا خوبصورت پیکج عطا کیاگیا ہے، اس کی رحمتوں کے در کھلے ہوئے ہیں، وہ تو بخشش کے بہانے چاہتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس کی اطاعت میں زندگی گزارتے ہیں، اس ناپائیدار دنیا میں اپنے چند روزہ قیام کو قیمتی بناتے ہیں، دنیا کے ہنگاموں سے تھوڑی دیر کیلئے کٹ کر کبھی کبھی اپنے ساتھ مکالمہ کرنا بھی اچھا لگتا ہے۔ اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی والی بات ہے۔ زندگی کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو ایک دن جانا ہوتا ہے۔ ہمارے ایک دوست اکثر کہتے ہیں یار اس پتنگ نے ایک دن ضرور کٹنا ہے! زندگی گزرتی ہے اور گزر رہی ہے، یہ ریشم واطلس وکمخواب پر بھی گزاری جاتی ہے اور ٹاٹ کے بورئیے پر بھی گزر جاتی ہے۔ یہ ایک مہلت ہے ایک انعام ہے اس کی قدر کرنی چاہئے، دنیا کے چند روزہ قیام کی اہمیت اس لئے بھی بہت زیادہ ہے کہ آخرت کا دار ومدار بھی اسی زندگی کے اعمال پر ہے۔ دنیا میں حضرت انسان کو جو وقت ملا ہے اس حوالے سے باتیں تو بہت ہیں حقوق اللہ بھی ہیں اور حقوق العباد بھی سب کی اپنی اپنی اہمیت ہے، یہ تو پل صراط کا سفر ہے ذرا سی نظر چوکی اور بندہ تحت الثریٰ میں پہنچ گیا۔ یہاں عمر بھر کی عبادتیں رائیگاں بھی چلی جاتی ہیں اور بظاہر چھوٹا نظر آنے والا عمل انسان کی بخشش کا سامان بھی بن جایا کرتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اخلاق کے اعلیٰ معیار کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، زبان کا استعمال احتیاط سے کرے، غرور سے بچے۔ ہر انسان کو اپنے سے بہتر سمجھے، اپنی سوچ کو مثبت رکھے، لوگوں کی اچھائیاں مدنظر رہیں اور اپنی خامیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔ جب اپنے آپ پر نظر نہیں پڑتی اپنے من میں غوطہ لگانے کا موقع نہیں ملتا تو دوسروں کے عیب خوب نظر آتے ہیں اور جب اپنی خامیوں پر دیانتداری سے نظر ڈال لی جائے اپنے آپ کو پہچان لیا جائے تو پھر نگاہوں میں کوئی انسان بھی برا نہیں رہتا۔ اسلئے اپنے گریبان میں بھی جھانکتے رہنا چاہئے، غیبت سے پرہیز بھی اچھے اخلاق میں شامل ہے، احترام آدمیت بہت ضروری ہے، مہمان کی تکریم بہت ضروری ہے، قول وفعل میں تضاد کا نہ ہونا اچھے اخلاق کا اہم حصہ ہے جو دل میں ہو وہی زبان پر بھی ہونا چاہئے اور پھر سب سے بڑھ کر معاملات ہیں دیانتداری، صداقت اور ایفائے عہد! ایک دوست نے شہر کے پوش علاقے میں بڑا خوبصورت گھر تعمیر کیا، گھر کا نقشہ بھی خوبصورت تھا اور اس کی تعمیر میں بھی ہر پہلو سے خوبصورتی اور سہولتوں کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔ ہر انسان کی زندگی میں ایک اچھے گھر کی خواہش ضرور شامل ہوتی ہے۔ ایک چھوٹی سی جنت جس میں وہ اپنے اہل وعیال کیساتھ ایک پرسکون اور محفوظ زندگی گزار سکے۔ جب گھر کی تعمیر مکمل ہوگئی تو بیگم صاحبہ اور بچے بہت خوش تھے، انسان یکسانیت سے اکتا بھی جاتا ہے، نئے گھر میں منتقل ہونے کی بڑی خوشی ہوتی ہے۔ نیا گھر، نیاماحول، نئے پڑوسی، یکسانیت کے رکے ہوئے جوہڑ میں اچانک ہلچل مچ جاتی ہے، اس تبدیلی پر چھوٹے بڑے سب خوش ہوتے ہیں، جب سامان باندھا جانے لگا تو ہمارے دوست کی والدہ محترمہ اچانک اداس ہوگئیں، بیٹے نے دل گرفتگی کی وجہ پوچھی تو ماں جی کہنے لگیں بیٹا! میرے سب بچے بہن بھائی یہاں میرے قریب ہیں جس سے دل چاہتا ہے میں چند قدموں کا فاصلہ طے کرکے مل لیتی ہوں، اب آپ کا نیا گھر کافی دور ہے آپ کو نیا گھر مبارک ہو لیکن میں اپنے آبائی گھر کو نہیں چھوڑ سکتی، آپ میری فکر نہ کیجئے میں خوش ہوں، آپ نئے گھر منتقل ہوجائیے فرمانبردار بیٹا ماں کی باتیں سن کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا: ماں جی ہمیں نئے گھر سے پیار تو ہے لیکن آپ ہمیں زیادہ پیاری ہیں، ہم آپ کو نہیں چھوڑ سکتے، بیٹے نے نئے گھر جانے کا خیال ترک کر دیا۔ ایک دوسرا واقعہ بھی ایک دوست کا ہے پڑھی لکھی بیوی نے ایم فل کر لیا تو پی ایچ ڈی کرنے کا خیال آیا، شوہر پہلے ہی ایم فل کر چکا تھا، اس نے اپنے جیون ساتھی کو مشورہ دیا کہ آج کے دور میں جتنی تعلیم بھی حاصل کی جائے کم ہے، آج کل ایم فل کو کون پوچھتا ہے۔ کسی زمانے میں ماسٹر کرنا بھی بڑی بات ہوتی تھی لیکن آج کل بغیر پی ایچ ڈی کئے بات نہیں بنتی، اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ دونوں باہر جاکر پی ایچ ڈی کرتے ہیں، باوفا بیٹے نے ایک ہی جملے میں بات ختم کرتے ہوئے کہا! میں اپنے بوڑھے باپ کو چھوڑ کر باہر نہیں جاسکتا، ایم فل اس پی ایچ ڈی سے بہتر ہے جس میں باپ کی صحبت میں بیٹھنے اور اس کی خدمت کرنے کا موقع ملے! سیانے کہتے ہیں کہ اگر کسی انسان کی اصلیت جاننے کا شوق ہو تو یہ دیکھئے کہ اس کا سلوک اپنے محسن کیساتھ کیسا ہے جو اپنے محسن کیساتھ اچھا سلوک روا نہیں رکھ سکتا اس نے کسی اور کیساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ افسران بالا کیساتھ تو سب ہی اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ آپ کا سلوک اپنے چپراسی کیساتھ کیسا ہے؟ جو آپ کے دست نگر ہیں ان کیساتھ آپ کا رویہ کیسا ہے؟ غریب شخص اگر عاجزی اختیار کرتا ہے تو یہ اس کی ضرورت ہے اس کا مزاج ہے، اچھا اخلاق تویہ ہے کہ امیر آدمی میں انکساری ہو وہ تکبر وغرور سے بہت دور ہو، اعلیٰ ظرفی یہی ہے کہ اپنے سے کم حیثیت کے شخص سے بھی جھک کر ملا جائے جس سے آپ کی ذات کو فائدے کی امید ہو اس کیساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا آپ کی ضرورت ہے۔ اچھا اخلاق تو یہ ہے کہ ایک شخص سے آپ کو کسی بھی قسم کے فائدے کی کوئی امید نہ ہو اور آپ کا رویہ اس کیساتھ مثالی ہو۔

متعلقہ خبریں