سی پیک شواہد کے بغیر تحفظات چہ معنی دارد

سی پیک شواہد کے بغیر تحفظات چہ معنی دارد

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق نے سی پیک کے حوالے سے جو کمٹمنٹ کی ہے اُس پر عمل درآمد فاسٹ ٹریک پر ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں جو یقین دہانی کرائی گئی ہے وہ عملی طور پر نظر آنی چاہیے ۔مغربی روٹ سی پیک کا عملی طور پر حصہ ہونا چاہئے ۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو یقین دہانی کرائی کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر کام فاسٹ ٹریک پر کیا جا ئے گا وزیر اعظم تمام پارٹی لیڈرز کا اجلاس بلا کر اُن کے خدشات دور کریں گے اور ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد سے آگاہ کریں گے ۔خیبر پختونخوا کی جملہ سیاسی جماعتیں اور صوبائی حکومت کو اقتصادی راہداری منصوبے میں مرکزی حکومت کی جانب سے نظر انداز کئے جانے کا بڑا شکوہ ہے ۔ اس ضمن میں نہ صرف خیبر پختونخوا اسمبلی سے متفقہ قرارداد منظور کی گئی ہے بلکہ سپیکر اسمبلی عدالت بھی گئے ہیں۔ اس اقدام کے دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے قطع نظر سی پیک کے حوالے سے بہر حال صوبے میں نظر انداز کئے جانے کی شکایت عام ہے ۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال اس ضمن میں ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور سیاسی قیادت کو سی پیک منصوبوں بارے مطمئن کرنے خیبر پختونخواآئے ۔اس ضمن میں صوبے کی قیادت کا مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم ان کو مطمئن کریں مگر وزیر اعظم قبل ازیں ہی ایساکرچکے ہیںجبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات کا بھی ا س معاملے پر یہ پہلا دورہ نہیں گزشتہ روز کے دورے کی سامنے آنے والی تفصیلات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے وفاقی وزیر سے جن منصوبوں اور معاملات بارے مطالبات کئے ہیں ان میں کوئی ایساواضح منصوبہ نہیں جس پر وفاقی حکومت کو اعتراض ہو بلکہ وہ زیادہ تر جاری منصوبوں کی تکمیل سے متعلق ہے ۔یہ امر شکوک وشبہات سے خالی نہیں کہ صوبائی حکومت اور صوبائی سیاسی قیادت اس منصوبے کے حوالے سے محروم رکھنے جانے کا تو واویلا کرتی ہے مگر نہ تو کوئی مطالبہ سامنے لایا جاتا ہے اورنہ ہی کسی منصوبے کا نام لیکر اس سے محروم رہ جانے کا کہا جاتا ہے ۔یک راگ الاپنے کی کیفیت میں عوام کیلئے اس امر کا تعین مشکل ہے کہ ان کے صوبے کے ساتھ واقعی نا انصافی ہو رہی ہے۔ وفاقی حکومت سے بعید نہیں کہ وہ صوبے کو محروم رکھے اورجب صوبائی حکومت عدالت سے رجو ع کرچکی ہے تو یقینا عدالت کے سامنے اپنا مقدمہ ثابت کرنے کیلئے اس کے پاس دلائل اور ٹھوس شواہد بھی ہوں گے۔ ہمارے تئیں یہ عظیم منصوبہ کو صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کی انا سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وفاقی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے مطالبات پر توجہ دے اور صوبائی حکومت کو بھی اپنے معاملات کو سامنے لاتے ہوئے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ سو ست سے لیکر گوادر تک اور گوادرپورٹ سے دنیا بھر تک تجارتی سرگرمیوں کی ایسی راہداری ہے جس پر دنیا کے تیس فیصد حصے کا دارومدار ہے۔ یقینا اس میں اس امر کا امکان ہے کہ کسی صوبے کو زیادہ منفعت ملے اور کسی صوبے کو کم لیکن اس سے محروم رہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر دیکھا جائے تو خواہ جس صوبے کو بھی اس سے زیادہ حصہ ملے اس کے اثرات ملک بھر پر ظاہر ہوں گے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ حال ہی میں سی پیک کے پہلے قافلے کی آمد اور گوادر پورٹ تک پہنچنے کا جو مبارک عمل مکمل ہوا ہے وہ بڑے اطمینان کا باعث ہے۔ سی پیک کا پہلا قافلہ مغربی روٹ سے گزر نے کے بعد اس حوالے سے تحفظات کو امید اور تسلی میں بد ل جانا چاہیئے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات اور یقین دہانی کرنے کی سعی کے بعد منصوبے بارے غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا جس کے بعد منصوبے پر نا انصافی کا باب بند ہو جائے گا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ راہداری منصوبے کے روٹ میں تبدیلی کے حوالے سے خیبر پختونخوامیںخصوصی طور پربے چینی اور احتجاج کی وجہ وہ غلط فہمیاں تھیںجن کو حکومت کی جانب سے باقاعدہ اور سنجیدہ وضاحت کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے میڈیا پر گول مول بیانات سے عوام میں اضطراب کی کیفیت میں اضافہ ہوتا رہا ۔ خیبر پختونخوا کی حکومت سمیت دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اس حوالے سے تشویش تھی اور وہ اس ضمن میں باقاعدہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور دکھائی دے رہی تھیں اور ایسا کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور راستہ بھی باقی نہیں بچا تھا ۔ اب جبکہ حکومت کی طرف سے غلط فہمی کو دور کرنے کی باضابطہ سعی کی گئی تو ہماری حکومت اور سیاسی جماعتوں کو بیان بازی بند کرکے اس روٹ اور اس سے وابستہ تفصیلات کا مطالعہ کر کے اپنی معلومات اور تحفظات بارے ایک مرتبہ پھر غور کرنے کی ضرورت ہے اور اگر تحفظات دور نہ ہونے کا یقین ہو تو اسے اچھالنے کی بجائے وزیراعظم سے رجو ع کرکے دوٹوک انداز میں بات کی جائے ۔ اس معاملے کا جتنا جلد حل نکل آئے اور جتنی جلدی تحفظات دور کئے جائیں یہ ملک وقوم کے حق میں اتنا بہتر ہوگا۔

اداریہ