Daily Mashriq


ضلعی انتظامیہ کیلئے قابل توجہ مسئلہ

ضلعی انتظامیہ کیلئے قابل توجہ مسئلہ

طلبہ کے یونیفارم کی دکانوں سے سکول مالکان کی جانب سے قیمتوں کی وصولی کے باعث اس کا بوجھ والدین پر پڑنا فطری امر ہے۔ ہمارے نمائندے کے مطابق جو کو ٹ جہانگیر پورہ میں چار سو روپے میں بہ آسانی مل جاتا ہے یونیفارم کی دکانوں میں اس کے بارہ سے پندرہ سو روپے وصول کئے جاتے ہیں ۔ عموماً یونیفارم کی دکانیں کسی نہ کسی سکول سے منسلک ہوتی ہیں اور ان سکولوں کے طلبہ کے یونیفارم کی شرائط و ضروریات انہیں مقرر ہ دکانوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے سکولوں کے بیجز اور ٹو پیوں پر سکولوں کا نام لکھے ہوئے ہونے کی شرط ہو تی ہے جس کے باعث والدین مقررہ دکان سے ہی یونیفارم لینے پر مجبور ہوتیر ہیںکتابوں اور کاپیوں کی بھی یہی صورت ہوتی ہے ۔ ایک عرصہ دراز سے نجی سکولز من مانی فیسوں غیر معمولی ٹرانسپورٹ چارجز طلبہ سے غیر ضروری چیزیں منگوانے ، کتابوں کاپیوں اور یونیفارم کی خریداری میں محولہ قسم کے حربوں کے ذریعے والدین اور طلبہ کے استحصال میں مصروف ہیں۔ لیکن جس طرح ان کیلئے کسی ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کو سازش کا شکار بنا کر التواء میں رکھا جا رہا ہے اسی طرح انتظامیہ کو بھی سکولوں کی ملی بھگت سے ہونے والی لوٹ مار کا نوٹس لینے کی توفیق نہ ہو سکی اور نہ ہی صارفین کے مفادات کے تحفظ کیلئے قائم نام نہاد اداروں کو اس امر کی تو فیق ہو سکی کہ وہ عوام کو ریلیف دلانے کے اقدامات کریں ۔ ہمارے نمائندے نے جس صورتحال کی نشاندہی کی ہے اور والدین کی جانب سے ضلعی انتظامیہ سے نوٹس لینے کا جو مطالبہ کیا گیا ہے اس پر متعلقہ حکام کو توجہ دینا چاہئے ضلعی انتظامیہ نے حال ہی میں شہر میں مرغی کی قیمتوں کو کنٹرول کر کے اور دودھ فروشوں کیلئے حفظا ن صحت کے اصولوں کے مطابق اور مقررہ نرخوں پر دودھ اور دہی فروخت کرانے کے کامیاب اقدامات کے ذریعے جو اچھا تا ثر قائم کیا ہے اور اس سے عوام اور تاجروں کو جو ریلیف ملا ہے جا بجا لگے خراج تحسین کے بینرز اس کا ثبوت ہیں ضلعی انتظامیہ اگر لاکھوں طالب علموں اور ان کے والدین کو مقدور بھر ریلیف دلا سکے تو اس کا بھی خیر مقدم کیا جانا فطری امر ہوگا۔ یہ درست ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی اپنی مشکلات ضرور ہیں لیکن اس کو اپنے فرائض کی ادائیگی اور عوام کو ریلیف دلانے کیلئے کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا ہی ہوگا ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ڈپٹی کمشنر پشاور اپنے دائرہ اختیار کے مطابق محولہ مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکالیں گے ۔

ڈبلیو ایس ایس پی سے عوام کی بڑھتی شکایات

ڈبلیو اس ایس ایس پی کے اہلکاروں کی جانب سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے بیرون کوہاٹی گیٹ کے مختلف علاقوں میں نہر کے کنارے پھینکنے پر علاقہ مکینوں کا احتجاج بلا جواز نہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ حکومت کمپنی کی خد مات کو دیگر شہروں تک وسعت دے رہی ہے صوبائی دارالحکومت پشاور میں اس کے عملے کے شہریوں کیلئے مشکلات کا باعث بننے والے اقدامات کمپنی کے اعلیٰ حکام کیلئے لمحہ فکر یہ ہے ۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے پاس اب تک کوڑا کرکٹ اٹھانے کا کافی بندوبست ہونا چاہئے تھا لیکن معلوم نہیں کمپنی کے پاس گاڑیوں کی قلت ہے یا عملہ ایندھن بچانے کے چکر میں شہر سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کی زحمت نہیں کرتا یا پھر انتظامیہ ہی کی طرف سے ان کو پابند نہیں کیا جاتا۔ بہر حال صورتحال جو بھی ہو شہر میں صفائی کے نظام کے ساتھ ساتھ خاص طور پر کوڑا کرکٹ کو ٹھکا نے لگانے کے معاملے میں سخت غفلت کا ارتکاب معمول بنتا جارہا ہے۔ کمپنی کو اپنی ساکھ اور عوام کے مفا دمیں ایسے نگران عملے کی تقرری یا پھر اگر عملہ موجود ہے تو ان کو فعال بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ بیرون کوہاٹی گیٹ کے مکینوں کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے اور جن جن علاقوں میں کوڑا کرکٹ پھینکے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے ان علاقوں سے فوری طو ر پر کوڑا کرکٹ اٹھا یا جائے اور آئندہ یہاں پر کوڑا کرکٹ پھینکنے پر پابندی لگائی جائے ۔

سرکاری محکموں میں میرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی

اکثر وبیشتر میرٹ کی سرا سر خلاف ورزیوں سے متا ثر ہونے والے امیدواروں کو عدالت سے رجوع کرنے پر داد رسی کی خبر یں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ہائی کورٹ نے مردان میں پرائمری سکول ٹیچر کی آسامی کیلئے میرٹ پر آنے کے باوجود تقرری سے محروم رکھی جانے والی خاتون ٹیچر کی بھرتی کا حکم جاری کیا ہے جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ متعلقہ حکام نے میرٹ پر آنے کے باوجود اس کا تقرر نہ کیا تھا ۔ ہمارے تئیں اس قسم کی بڑھتی شکایت سے متعلقہ محکموں اور حکومت کی ساکھ متا ثر ہونے لگی ہے اور لوگوں میں منفی تاثرات ابھرنے لگے ہیں جس کے ازالے کیلئے جہاں آئندہ اس طرح کی حق تلفی کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کی فوری ضرورت ہے وہاں اس طرح کے فعل کے مرتکب سرکاری عملے کو معطل کیا جانا چا ہئے ۔

متعلقہ خبریں