Daily Mashriq


بھول جانے کی بیماری

بھول جانے کی بیماری

ارادہ تو ابو الکلام آزاد کی ایک چشم کشا اور حیر ت انگیز کتاب انسانیت موت کے دروازے سے کچھ اقتباسات پیش کرنے کا کیا تھا جو یقینا ہمارے گزشتہ کالم جب لاد چلاے گا بنجارا کے موضوع کو مزید اُجا گر کرتا اس پر انشاء اللہ دوسری نشست میں بات کرینگے ، آج ہم اپنی بھول میں مسلسل اضافے پر کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں ۔اس کا ذکر ہم نے کئی بار اپنے بر خوردار سے بھی کیا ہے وہ دماغی امراض کے ماہر ہیں اور یو سو دماغی مرضونہ کے نام سے پشتو کتا ب بھی تصنیف کر چکے ہیں وہ ہماری تشویش پر زیادہ توجہ نہیں دیتے بلکہ اُسے بڑھاپے کا تحفہ کہہ کہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اُنہیں اپنے کلینک میں روزانہ اس بیماری میں مبتلا بے شمار مریضوں سے واسطہ پڑتا ہوگا ۔ فیس لے کر اس کا علاج بھی کرتے ہونگے چونکہ ہم سے فیس نہیں لے سکتے اس لئے مشورہ بھی نہیں دیتے ۔ظاہر ہے ڈاکٹر بغیر فیس کے علاج کو بد فالی سمجھتے ہیں چاہے اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو ۔ البتہ اس معاملے میں ان کی ماہرانہ رائے یہ ہے کہ انسانی ذہن کمپیوٹر کی مانند ہوتا ہے ۔ جبکہ اس میں ستر اسی سال کاڈیٹا ہوتا ہے تو قدر ت خود اس کےDeleteکرنے کے اسباب پیدا کرتی ہے ۔ خیر یہ تو ان کی رائے ہے اس میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں ۔ شکر اس بات پر ہے کہ ابھی ہم اُس پر وفیسر کی حالت تک نہیں پہنچے جو ایک دفعہ گھر آئے تو اپنی چھڑی پلنگ پر لٹا دی اور خود جاکر چھڑی کی جگہ کونے میں کھڑے ہوگئے البتہ انہی بھول پر تشویش اُس وقت زیادہ ہوتی ہے جب ہم اپنی پوتی کو لا ہور میں مقیم بیٹی کے نام سے آواز دیتے ہیں ۔ یا پھر لاہور میں بیٹی کو دوسری پوتی خوبا کے نام سے پکارتے ہیں ۔ ٹیلی فون ڈائل کرتے وقت نمبرز ذہن سے نکل جاتا ہے گھر کے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا کر وہ کام بھی بھول جاتے ہیں جس کے لیے ہم وہاں آئے تھے ۔ بعض اوقات تو ہم کسی ایک لفظ کے بھول جانے سے پورا کالم مکمل نہیں کرپاتے ۔ سندھ کے ایک وزیر کی مالی کرپشن پر کالم لکھنا چاہتے تھے ۔ اخبار میں اُن کے متعلق خبر لگی تھی کہ انہوں نے قومی خزانے کو 17ارب روپے کا ٹیکہ لگا یا ہے وہ اب دبئی یا برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ لکھا تھا کہ سرکار اب اس بھگوڑے سابقہ وزیر کو انٹر پول کے ذریعے واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے یقین جانئے ہم عین موقع پر انٹرپول کا لفظ بھول گئے جب لفظ یا د نہ ہوتو لغات سے بھی مدد نہیں لی جا سکتی ۔کالم نامکمل چھوڑ کر چھڑی اٹھائی اور سیر کے لئے نکل پڑے۔ گزشتہ روز ہمیں انہی بھول کی بیماری پر اس وقت زیادہ فکر مندی ہوئی جب ہم پشاور جانے کے لئے گھر سے روانہ ہوئے ۔ رشکئی انٹر چینج پر پہنچ کر اچانک خیال آیا کہ ہم اپنی دور کی نظر کی سیاہ عینک تو گھر پر بھول ہی آئے ہیں۔ احمد خان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تم بھی یا د نہیں دلاتے عینک گھر پر چھوڑ آیا ہوں ۔اس نے ہمیں دیکھا آپ کے گلے میں پڑی ہے، یہ نزدیک کی ہے یار کی ہے یار، واپس چلوں؟ تو چھوڑو، گزارہ ہو رہا ہے گزارہ اس لئے ہو رہا تھا کہ اچانک ہمیں پتہ لگا کہ عینک تو ہم پہنے ہوئے ہیں ، یہ بات البتہ سمجھ میں نہ آئی کہ ہماری جانب بغور دیکھنے کے باوجود اُسے ہماری آنکھوں پر لگی سیاہ رنگ کی عینک کیوں نظر نہ آئی اس کی وجہ ہم اپنے بیٹے ڈاکٹر شفقت ہما سے ضرور پوچھیں گے ۔ ایک بات انہوں نے یہ بھی بتائی تھی کہ جن باتوں سے ہماری زیادہ دلچسپی نہیں رہتی وہ دماغ سے آہستہ آہستہ نکل جاتی ہے ۔ اُ ن کی یہ ماہرانہ رائے اس وجہ سے بھی درست معلوم ہوتی ہے کہ صرف یادداشت ہی نہیں اس کا اثر دوسرے جسمانی اعضا ء پر پڑتا ہے ۔ ہم نے کئی بار اپنے پوتے پوتیوں کو ، پانی لا نے کے لئے کہا وہ ہماری آواز نہیں سنتے یا پھر ان سنی کر دیتے ہیں اُس سے کم والیوم پر جب آواز دیتے ہیں فرھنگیال خان راشہ ٹافی واخلہ ، آئو ٹافی لے لو ، وہ ہماری بات ختم کرنے سے پہلے ہم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہم اُس وقت اس کم کم بھول جانے کی عادت پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں جب مقابلہ دوسرے بھلکڑوں سے ہوتا ہے ہم اپنے ایک دیرنہ رفیق کار سے گلہ مند تھے کہ انہوں نے ہمیں 35سال کی طویل رفاقت کے باوجود اپنے بیٹے کی شادی پر نہیں بلایا ۔ مگر ایک دوسرے مشترکہ دوست سے یہ جان کرانہیں معاف کردیا کہ وہ آج کل قاعدے پر بیٹھ کر التحیات کی جگہ سورہ فاتحہ پڑھنے لگتے ہیں اور ظہر کی نماز میں چار رکعت پڑھا کر جب اٹھنے لگتے ہیں تو اُنہیں یاد دلا یا جاتا ہے کہ ظہر کی نماز 10رکعات کی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی حالت پر رحم فرمائے ، یو سو ذہنی مرضونہ میں ڈاکٹر شفقت ہما نے ڈمنیشیا ، دیا دداشت ورکیدو مرض ، کے عنوان سے ایک باب باندھا ہے لکھتے ہیں کہ یہ مرض بڑھاپے میں صرف 5فیصد افراد کو لاحق ہوتا ہے ۔ مرض پرانا ہونے پر لا علاج ہوجاتا ہے ۔ دماغی سائنس نے اس مرض کے علاج میں زیادہ پیش رفت نہیں کی مرض کی ابتدائی تشخیص اور درمیانے عرصہ میں علاج مفید ثابت ہوتا ہے او ر اُسکی رفتار بھی کم پڑ جاتی ہے ۔ یہ تو خیر ہم نے ذاتی تجربات کی بنیاد پر کچھ مثالیں پیش کی ہیں لگتا ایسا ہے کہ ہم من حیث القوم ڈمنیشا کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں ، سیاسی راہنمائوں کے پرانے رویئے ، وعدے اور کرتوت یاد نہیں رہتے۔ الیکشن میں سب کچھ بھول کر انہیں دوبارہ اورسہ بار ہ مسند اقتدار پر بٹھادیتے ہیں ۔یہ ہمارے حکمران بھی بھول کی بیماری میں مبتلا ہیں اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہیں کچھ یاد نہیں رہتا کہ انہوں نے قوم سے کیا وعدے کیئے تھے ۔ البتہ انہیں اپنے مطلب کی باتیں ضرور یاد رہتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے ۔

متعلقہ خبریں