امریکی عوام کا ٹرمپ کارڈ

امریکی عوام کا ٹرمپ کارڈ

رائے عامہ کے جائزوں اور پیش گوئیوں کے برعکس وائٹ ہاوس کے نئے مکین کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب درحقیقت عوامی طاقت کا ٹرمپ کارڈ ہے۔یہ بھی امریکی عوام کے دل کا معاملہ ہے عوام کا دل آگیا تو انہوں نے پچھلی بار اپنی تاریخ کا بڑا یوٹرن لیتے ہوئے باراک اوباما کی صورت میں ایک سیاہ فام کو قصرِ سفید میں لابٹھایا اور اس بار بھی معاملہ کچھ دل کا ہی ٹھہرا ۔ایک طرف دوبار امریکہ کا صدر رہنے والے بل کلنٹن کی خوش شکل اور خوش گفتار بیوی ہلیری جو خود بھی سیاست میں سرگرم رہتے ہوئے وزیر خارجہ کے منصب پر فائز رہ چکی ہیں تو دوسری طرف تلخ گفتاری کا خوگراور سخت گیری کے تاثرات سے بھرپورایک غیر سیاسی اور معمولی پس منظر کا حامل باسکٹ بال کا کھلاڑی جس کی حکمت عملی کا محور ہی عوام کے جذبات کو بھڑکا کر اپنے گرد جمع کرنا تھا۔ دونوں کے درمیان مہینوں کی طویل اور اعصاب شکن انتخابی کشمکش جاری رہی۔عوامی اجتماعات سے ٹیلی ویژن مباحثوں میںدونوں کے درمیان خوب جوڑپڑا اور ہر فورم پرہلیری کلنٹن ہی سبقت لیتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ہر انتخابی مہم کی طرح امریکہ کی اس صدارتی انتخاب کی مہم میں بھی کئی اُتار چڑھائو آتے رہے عمومی خیال یہی تھا کہ ہلیری کی خوش گفتاری اور تجربہ امریکی عوام کو رام کر نے کا باعث بنیں گے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت نے یہ سب اندازے غلط ثابت کئے اوروہ امریکہ کے پینتالیسویں صدر بن گئے ۔اسے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ کہا گیا ۔امریکی انتخابات کے اس نتیجے کے برصغیر کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے پاکستان اور بھارت کے موجودہ تعلقات کے حوالے سے اب یہی سوال دلچسپی کا حامل ہے ۔گوکہ پاکستانیوں نے مجموعی طورہلیری اور بھارتیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ دیا مگر امریکہ جیسی ریاستوں میں افراد کے آنے جانے سے ملکی پالیسیوں پر زیادہ فرق نہیں پڑتا ۔مضبوط جمہوریتوں میں ریاست کی پالیسیاں مستقل بنیادوں پر استوار ہوتی ہیں اور ان میں اگر تبدیلی بھی واقع ہو تو وہ فوری نہیں وقت طلب اور غیر محسوس ہوتی ہے۔پاکستان کے لئے امریکہ کی پالیسی سے کوئی خیر برآمد ہونے کا آئیڈیل وقت وہی تھا جب پاکستان کے حکمرانوں کودھمکی آمیز انداز میں پوچھنے والے کہ ''آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ'' ری پبلکن صدر جارج بش کے بعد ایک نرم خو اور لاوارث سیاہ فام باراک اوباما جس پر مسلمانوں سے بھی رشتہ داری کا ''الزام ''تھا وائٹ ہاوس کا مکین ٹھہرا۔جس نے انتخابی مہم میں پاکستانی ووٹروں کا دل خوش کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کے حل کا تذکرہ بھی چھیڑا۔جب یہی شخص ووٹروں کاا عتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہا تو وہ'' باراک حسین اوباما ''نہیں صرف صدر امریکہ تھا۔ امریکہ کے تھنک ٹینکس ،قانون ساز اداروں ،میڈیا اور سیاست دانوں میں دودہائیوں سے پلنے والے پاکستان مخالف رجحانات تیزی سے تقویت پکڑتے رہے اور اسی رفتار سے امریکہ بھارت کے پہلو کی جانب سرکتا اور لڑھکتا چلا گیا۔اپنے غیر متعصب امیج اور پاکستان دوستی کے اشاروں کے باوجوداوباما وائٹ ہائوس میں پہنچتے ہی حالات کے قیدی بن کر رہ گئے اور کسی دور میں پاکستان کے حکمرانوں کے ذاتی دوست کہلانے والے بل کلنٹن کی بیگم وزیر خارجہ بنتے ہی جب پاکستان آتیں تو ''اُستانی جی'' کے انداز میں پاکستان کو حکم دیتی رہیں کہ پاکستان اینٹی امریکن ازم پیدا کرنے سے باز رہے۔بش جونیئر بھی وہ شخصیت تھے جن کے والد جارج بش اول کی نائب صدارت اور رونالڈ ریگن کی صدارت کے عہد میں پاکستان اور امریکہ نے مل کر سرد جنگ کا آخری معرکہ لڑا اور جیتا تھا مگر بش جو نئیر کے صدر امریکہ بنے سے تعلقات کی گہرائی کا پس منظرکلی بے معنی سا ہو کر رہ گیا۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے جو ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاوس میں آمد پاکستان کے لئے چہرے کی تبدیلی کے سواکچھ اور نہیں ہوگی۔پاکستان کے بارے میں امریکہ میں ذہنوں اور رویوں میں لگی ہوئی زنگ نہ تو اب آسانی سے اُتر سکتی ہے نہ ہی اس کے بڑھنے اور مزیدتہیں قائم ہونے کی کوئی گنجائش ہے ۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات خرابی کی جس سطح پر ہیں وہاں اگلا مرحلہ اب باقاعدہ جنگ ہی کا آپشن باقی رہتا ہے ۔دونوں کے دفاعی تصورات کی گاڑیاں دو متضاد سمتوں میں دوڑ رہی ہیں ۔دونوں کے ہیرو اور ولن الگ ہی نہیں بلکہ ایک کا ہیرو دسرے کا ولن اور ایک کا ولن دوسرے کا ہیرو بن چکا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم میں جو مسلمان مخالف جذبات بھڑکائے ہیں وہ معاشرے کا مائنڈ سیٹ بن کر رہ جائیں گے اور حکومتی سطح پر نہ سہی مگرسماجی سطح پرمسلمانوں کی مشکلات بڑھنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔امریکی عوام کے اس ٹرمپ کارڈ کے بعد دیکھنے کی چیز صرف یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کی دوستی سے کیا برآمد ہوتا ہے ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹرمپ اور پیوٹن کی دوستی تھوڑے مختلف انداز سے ریگن اور گورباچوف کی دوستی کا ایکشن ری پلے ثابت ہو۔

اداریہ